دنیا
امریکی اور اسرائیلی حملے میں زخمی سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی دم توڑ گئے
تہران، امریکی اور اسرائیلی حملے میں زخمی سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی دم توڑ گئے، وہ 2 اپریل کو حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ اور سابق وزیر خارجہ کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔
ایرانی میڈیا نے ان کی وفات کی تصدیق کر دی ہے۔ کمال خرازی 2 اپریل کو اپنے گھر پر ہونے والے ایک بزدلانہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔
اس افسوسناک واقعے میں ان کی اہلیہ موقع پر ہی شہید ہو گئی تھیں، جبکہ کمال خرازی کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ کمال خرازی کا شمار ایران کے تجربہ کار ترین سیاستدانوں اور سفارت کاروں میں ہوتا تھا۔ وہ طویل عرصے تک ایران کے وزیر خارجہ رہے اور وفات کے وقت وہ رہبرِ اعلیٰ کو خارجہ پالیسی پر مشاورت دینے والی اہم ترین کونسل کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
معاہدے کے 14 نکات، ایران کا ایٹمی معاملہ ملتوی کر دیا گیا ہے: عباس عراقچی
تہران، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ابھی ایران کا امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوا، مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طور پر ہوں گے اور اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جب یہ طے ہو جائے گا تو عوام کو اس کی مکمل تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا، معاہدے کے 14 نکات ہوں گے جبکہ ایران کے ایٹمی معاملے کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق عبوری معاہدہ پہلا قدم ہے، اگر یہ نافذ نہ ہوا تو جوہری مذاکرات بھی نہیں ہوں گے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے منجمد فنڈز جاری کیے جائیں گے جبکہ امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی عبوری معاہدے کا حصہ ہے، ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائے گا تاہم ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ معاہدے میں لبنان سمیت ہر محاذ پر جنگ کے خاتمے کو بھی شامل کیا جائے گا، لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیل کا قبضہ شدہ علاقوں سے انخلاء ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
واشنگٹن، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ گزشتہ ماہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو روک دیا۔
امریکی نشریاتی ادرے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے سینیئر ترین افسر جنرل ڈین کین نے گزشتہ ماہ خفیہ اور ہنگامی بنیادوں پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے فلوریڈا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں ایران میں زمینی فوج بھیج کر اس کے جوہری پروگرام کے اہم ترین جزو یعنی انتہائی افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینے کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ بریفنگ اتنی حساس اور فوری نوعیت کی تھی کہ جنرل ڈین کین کو برسلز میں نیٹو حکام کے اجلاس سے فوری طور پر واپس آنا پڑا۔ اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس انتہائی حساس نوعیت کی کارروائی کی منظوری دینے کے قریب تھی۔ بعد ازاں جنرل ڈین کین نے اس آپریشن کے مختلف آپشنز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی تاہم ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اس کارروائی روک دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کے ممکنہ بھاری جانی نقصان پر بھی تشویش تھی جس کے باعث انہوں نے فوج کو گرین سگنل دینے سے گریز کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
واشنگٹن-تہران بات چیت میں “امید” اور “احتیاط” ایک ساتھ جاری
واشنگٹن، تہران، یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل سے جاری “تناؤ اور مذاکرات” کے چکر میں ایک تاریخی موڑ آ گیا ہے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیان “معاہدہ متن تیار ہے” کے بیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “ہم نے ایک شاندار معاہدہ کیا ہے” کے اشاروں سے تیزی پکڑنے والے اس عمل کے دوران، میز پر موجود شرائط اور متفقہ “اسلام آباد معاہدہ” کی تفصیلات واضح ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
تہران کے نمائندے ہارون آئکاچ اور واشنگٹن کے رپورٹر تونا شانلی کی طرف سے ملنے والی معلومات کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے “متفقہ ضابطے” کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم جوہری مواد کے تلف کیے جانے اور ایران کے اندر سیاسی نقطہ نظر کے اختلافات “حتمی دستخط” سے قبل صورتحال کو نازک رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے اس مسودے کے حوالے سے جسے وہ “اسلام آباد معاہدہ” کہتے ہیں، تہران کی جانب سے آنے والی معلومات ایران کی حکمتِ عملی اور سرخ لکیروں کو واضح کرتی ہیں۔ ہارون آئکاچ کے بیان کے مطابق؛ تہران انتظامیہ نے سب سے نازک مسئلے یعنی جوہری معاملے کو “دوسرے مرحلے” میں رکھنے کی پیشکش قبول کی ہے۔
ایران نے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر واضح طور پر اعتراض کیا ہے اور اس کی جگہ اس ذخیرے کی “شرح افزودگی” میں تحفیف لانے کی تجویزپیش کی ہے۔ آبنائے ہرمز کو تجارتی نقل و حمل کے لیے کھولنے کا عندیہ دیا گیا ہے؛ تاہم سیکیورٹی کا سابقہ درجہ بحال نہیں ہوگا اور اسے ایران اور عمان کے کنٹرول میں رکھے جانے کی شرط رکھی گئی ہے۔
اسرائیل کے لبنان میں حملوں سمیت علاقے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی یقینی بنانا تہران کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس عمل کے دوران ایران کے بین الاقوامی نظام میں موجود مالی اثاثوں کی واپسی کا بھی ہدف رکھا گیا ہے۔
تونا شانلی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ذرائع اور ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کی بنیاد پر سامنے آنے والا “پانچ نکاتی منصوبہ” مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے:
– جوہری مواد کی منتقلی: امریکہ جوہری ذخیرے کے تلف یا ایران سے باہر منتقل کیے جانے پر مُصر ہے۔
– جوہری پروگرام کا خاتمہ: پروگرام کے مکمل طور پر ختم کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
– مطابقت شرطی واپسی: منجمد فنڈز کو آزاد کرنے کے لیے ‘معاہدے کی مکمل پابندی’ شرط رکھی گئی ہے۔
– آبنائے ہرمز: محاصرہ ختم کیا جائے اور آبنا کو مکمل طور پر کھلا رکھا جائے۔
– دہشت گردی کی مالی معاونت: علاقائی گروپوں کو فراہم کردہ مالی امداد کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ
طے پا گیا تو ایران کی بین الاقوامی نظام میں مکمل شمولیت کا راستہ کھولنے کا منصوبہ ہے۔ اس تناظر میں ایک وسیع اقتصادی پیکیج زیرِ غور ہے جو حتیٰ کہ امریکی کمپنیوں کو بھی ایران کے تیل تک رسائی فراہم کرے گا۔ فریقین کے اسی ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ملاقات کے امکان کے پیشِ نظر، سفارتی ذرائع اس عمل کو ‘امید افزا مگر محتاط’ انداز میں چلانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ







































































































