ہندوستان
مودی نے مغربی بنگال کی جیت کو یادگار قرار دیا، آسام، پڈوچیری، تمل ناڈو اور کیرالہ کے کارکنوں کو مبارکباد دی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیئے یادگار قرار دیتے ہوئے ریاست کے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے اور ان کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے مسٹر مودی نے پیر کو ووٹوں کی گنتی میں آسام اور پڈوچیری اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی-قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی جیت کا سہرا بی جے پی کی گڈ گورننس اور کارکنوں کی محنت کو دیا اور ان ریاستوں کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کیرالہ اور تمل ناڈو کے لوگوں کو ان کے مسائل پر کام کرنے کا بھروسہ دلایا ہے اور انتخاب میں انتھک محنت کے لیے پارٹی کارکنوں اور پارٹی کی حمایت کرنے والے ووٹروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم نے تمل ناڈو میں اداکار وجے کی پارٹی ٹی وی کے اور کیرالہ میں متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کو جیت پر مبارکباد دی ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک کے بعد ایک کئی پوسٹس میں اسمبلی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے مغربی بنگال کے بارے میں لکھا، “مغربی بنگال میں کمل کھل اٹھا ہے!” وزیر اعظم نے کہا کہ “مغربی بنگال اسمبلی کے 2026 کے انتخابات ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ عوام کی طاقت کی جیت ہوئی ہے اور بی جے پی کی گڈ گورننس کی سیاست کامیاب ہوئی ہے۔ میں مغربی بنگال کے ہر شہری کو سلام کرتا ہوں۔”
انہوں نے لکھا کہ مغربی بنگال کے عوام نے بی جے پی کو شاندار عوامی مینڈیٹ دیا ہے۔ مینڈیٹ پر پورا اترنے کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “میں انہیں (مغربی بنگال کے عوام کو) یقین دلاتا ہوں کہ ہماری پارٹی مغربی بنگال کے لوگوں کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ ہم ایسی حکومت فراہم کریں گے جو معاشرے کے تمام طبقات کے لیے مواقع اور وقار کو یقینی بنائے۔” وزیر اعظم نے کہا کہ “مغربی بنگال میں بی جے پی کی ریکارڈ توڑ جیت نسلوں سے ان گنت کارکنوں کی کوششوں اور جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ میں ان سب کو سلام کرتا ہوں۔ برسوں سے انہوں نے زمینی سطح پر سخت محنت کی ہے، ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کیا ہے اور ہمارے ترقیاتی ایجنڈے کے بارے میں بات کی ہے۔ وہ ہماری پارٹی کی طاقت ہیں۔”
مسٹر مودی نے آسام میں بی جے پی اتحاد کی جیت کا سہرا آسام کے عوام کے درمیان انتھک محنت کرنے والے تمام بی جے پی-این ڈی اے کارکنوں کو دیتے ہوئے کہا کہ “گزشتہ ایک دہائی میں ہماری پارٹی اور اتحاد کی پیش رفت قابلِ ستائش ہے۔ ان کی کوششوں سے ہی ہمارا مثبت ایجنڈا عوام کے دلوں میں جگہ بنا پایا ہے۔” انہوں نے پڈوچیری میں اتحاد کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، “مجھے پڈوچیری کے این ڈی اے کارکنوں پر بہت فخر ہے، جنہوں نے زمینی سطح پر غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔ وہ مسلسل عوام کے درمیان رہے ہیں اور ہمارے وژن اور کامیابیوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے۔ اسی وجہ سے عوام نے ہمیں ایک بار پھر نوازا ہے۔”
وزیر اعظم نے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی حمایت کرنے والے تامل ناڈو کے ووٹروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “ہم عوام کے مسائل کے حل اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں ہمیشہ پیش پیش رہیں گے۔” انہوں نے اداکار وجے کی پارٹی ‘ٹی وی کے’ کو ان کی شاندار کارکردگی پر مبارکباد بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت تمل ناڈو کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ مسٹر مودی نے کیرالہ میں بی جے پی-این ڈی اے کو ووٹ دینے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم کیرالہ کی ترقی کے لیے اہم مسائل اٹھاتے رہیں گے اور ترقی پذیر کیرالہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے سخت محنت کریں گے۔”
مسٹر مودی نے کیرالہ میں جیت کے لیے متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کو بھی مبارکباد دی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کیرالہ کے لوگوں کی ترقیاتی خواہشات کی ہمیشہ حمایت کرتی رہے گی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے 14 نکاتی ‘اسلام آباد مفاہمت نامے (ایم او یو)’ پر مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو ‘اسلام آباد ایم او یو’ کہا جانا پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی کردار کو ظاہر کرتا ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کے لیے شدید جھٹکا ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ سال 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا تھا، لیکن اب پاکستان مغربی ایشیا کے جیو پولیٹیکل اور سکیورٹی نظام میں زیادہ اثر و رسوخ والا کردار ادا کر رہا ہے، جس کے ہندوستان کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایم او یو اپنے الفاظ اور جذبے کے مطابق نافذ ہوتا ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی، حالانکہ اس کے ‘میمورنڈم آف مس انڈراسٹینڈنگ’ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق، اگلے 60 دن اس معاہدے کی کامیابی کے لحاظ سے بے حد اہم ہوں گے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے ایران کو کئی اہم اور غیر متوقع فوائد ملے ہیں اور اس نے اپنی مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے احتیاط کے ساتھ اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن وہ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔
مسٹر رمیش نے اسے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اب بھی اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تئیں حکومت کا یہ رخ ہندوستان کے مفادات کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہمات اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی پر امریکی صدر کے تئیں خوش
خوشامد پسندی کا الزام لگاتے ہوئے مرکز حکومت کی خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ، عرب امارات، جاپان، کوریا اور مصر کے لیڈروں سے کی مودی نے بات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ایویاں میں جی-7 سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے منگل کو دوطرفہ ملاقات کی مسٹر مودی نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ، جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی الگ الگ ملاقات کے دوران دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر اسٹارمر اور مسٹر مودی نے گزشتہ سال باہمی دوروں کے بعد سے ہندوستان-برطانیہ تعلقات میں مضبوط رفتار کا جائزہ لیا اور ’ویژن 2035‘ کے تمام اہم ستونوں—تجارت اور اقتصادی ترقی، دفاع اور سکیورٹی، ماحولیاتی کارروائی اور گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور اختراع نیز تعلیم اور لوگوں کے باہمی تعلقات—میں ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے کے جلد نافذ ہونے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے مضبوط تعلیمی شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کیا اور بنگلورو میں یونیورسٹی آف لیورپول کی طرف سے اپنا کیمپس قائم کرنے اور ممبئی میں یونیورسٹی آف یارک اور یونیورسٹی آف برسٹل کے کیمپس کھولنے کے لیے حال ہی میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور یوکرین سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان-برطانیہ جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کو دہرایا۔ مسٹر مودی اور مسٹر آل نہیان کے درمیان اس سال یہ تیسری ملاقات تھی جس سے ہندوستان-یو اے ای کی مضبوط اور متحرک اسٹریٹجک شراکت داری کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس سال جنوری میں صدر آل نہیان کے دورۂ ہندوستان اور مئی میں وزیر اعظم مودی کے دورۂ متحدہ عرب امارات کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں ہوئی پیش رفت اور مثبت تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے خطے میں مستقل امن، سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز سے مسلسل بلا رکاوٹ، محفوظ اور پرامن آمد و رفت اور تجارت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے صدر آل نہیان کو اس سال کے آخر میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے برکس بربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا6 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
ہندوستان3 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا6 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر5 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا6 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
ہندوستان6 days agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا4 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان








































































































