جموں و کشمیر
اسکول کے بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانا ملنا چاہیے، کسی بھی بچے کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے: منوج سنہا
جموں، منوج سنہا نے بدھ کے روز کہا کہ نوجوان نسل کی غذائیت قوم کے مستقبل کی تشکیل کرے گی اور اس بات پر زور دیا کہ ہر اسکولی بچے کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
اکشے پاترا فاؤنڈیشن کی مرکزی کچن سہولت کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جو کٹرا ضلع ریاسی میں قائم کی جا رہی ہے، سنہا نے کہا کہ یہ سہولت فعال ہونے کے بعد روزانہ 5,000 اسکولی بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرے گی۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اکشے پاترا کے آئندہ منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں جموں میں ایک نئی کچن سہولت کا قیام شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ “میں حکومت اور سماجی تنظیموں کے درمیان مضبوط تعاون کی اپیل کرتا ہوں تاکہ نوجوان نسل کو بااختیار بنایا جا سکے۔ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ اسکول کے بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانا ملے۔ ہر بچہ صحت مند خوراک کا حق دار ہے اور ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی بھی بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے عام زندگی میں انسان کی چھوڑی گئی میراث کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ یہ تین سوالوں پر مبنی ہوتی ہے: ہم کیا تخلیق کر رہے ہیں؟ ہم کیا محفوظ کر رہے ہیں؟ اور ہم آئندہ نسلوں کو کیا سونپیں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور اہم سوال یہ بھی ہونا چاہیے: “ہم اپنے بچوں کو کیا کھلا رہے ہیں؟”
انہوں نے کہا کہ بھوکا بچہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا، اور ایسا اسکول جو اپنے بچوں کو کھانا فراہم نہ کر سکے، مساوی ترقی کے مواقع پیدا کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق، کئی دہائیوں کی عالمی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ غذائیت اور تعلیم الگ چیزیں نہیں بلکہ اچھی غذائیت ہی تعلیم کی بنیاد ہے۔
سنہا نے کہاکہ “جو بچے متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا کھاتے ہیں، وہ بہتر توجہ دیتے ہیں، معلومات کو زیادہ مؤثر انداز میں یاد رکھتے ہیں، اور کلاس میں زیادہ سرگرمی سے حصہ لیتے ہیں۔ پروٹین، وٹامنز اور متوازن غذا بچے کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کے لیے ضروری توانائی فراہم کرتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر کا ہر اسکول یہ بات یاد رکھے کہ جب ہم اسکولوں میں غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرتے ہیں تو ہم صرف پیٹ نہیں بھر رہے ہوتے بلکہ مستقبل کی سوچ کی تشکیل کر رہے ہوتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہاکہ “اگلی نسل صرف ہمارا مستقبل نہیں بلکہ ان خوابوں اور امیدوں کا زندہ اظہار ہے جنہیں ہم بطور قوم تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت اور اعتماد ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج ہم بچوں میں جو اقدار، علم اور یقین پیدا کریں گے، وہ آنے والے عشروں میں جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کو تشکیل دیں گے۔”
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بارامولا میں اچانک دھماکہ، فوج کے دو جوان شہید
سرینگر، جموں و کشمیر کے ضلع بارامولا میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک ناگہانی اور اچانک ہونے والے دھماکے میں ہندوستانی فوج کے دو جوان شہید ہو گئے ہیں۔ حکام نے بدھ کے روز اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔حکام کے مطابق، منگل کی شام ایل او سی کے قریب کمل کوٹ، اڑی سیکٹر میں ایک حادثاتی دھماکے کے نتیجے میں دو فوجی جوان شدید زخمی ہو گئے تھے۔دھماکے کے فوراً بعد دونوں زخمی جوانوں کو جائے وقوعہ سے نکال کر علاج کے لیے سرینگر کے بادامی باغ میں واقع فوج کے ’92 بیس ہسپتال’ منتقل کیا گیا۔: ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دونوں فوجی جوان دم توڑ گئے۔ حکام نے بتایا کہ شہید ہونے والے دونوں جوانوں کا تعلق مہاراشٹرا سے تھا۔اس افسوسناک واقعے کے حوالے سے ابھی تک دفاعی ترجمان کی جانب سے کوئی باضابطہ یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں حادثاتی دھماکے میں دو فوجیوں کی موت
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک حادثاتی دھماکے میں فوج کے دو جوان ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع حکام نے بدھ کے روز دی۔
انہوں نے بتایا کہ منگل کی شام ایل او سی کے قریب کمل کوٹ، اُری سیکٹر میں غلطی سے ہونے والے ایک دھماکے میں دو فوجی شدید زخمی ہو گئے تھے۔
دونوں زخمی جوانوں کو فوری طور پر جائے وقوعہ سے نکال کر علاج کے لیے سری نگر کے بادامی باغ میں واقع فوج کے 92 بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام نے کہا کہ اسپتال میں دونوں فوجیوں کی زخموں کی وجہ سے موت ہوگئی۔ ہلاک ہونے والے فوجی ریاست مہاراشٹر کے رہنے والے تھے۔
واقعے کے حوالے سے تاحال دفاعی ترجمان کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
این سی کے رکنِ پارلیمان روح اللہ دہلی احتجاج میں شامل ہوں گے، کہا ریاستی درجہ اور آئینی حقوق کی جدوجہد جاری رہنی چاہیے
سری نگر، نیشنل کانفرنس (این سی) کے ناراض رکنِ پارلیمان روح اللہ مہدی نے منگل کو کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے مطالبے کے لیے دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تحریک محض عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک روزہ علامتی پروگرام نہیں بننی چاہیے۔
گزشتہ ہفتے حکمران نیشنل کانفرنس نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی میں احتجاج کیا جائے گا تاکہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا سکے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روح اللہ مہدی نے کہا کہ عوام نے انہیں آرٹیکل 370 اور اگست 2019 سے قبل موجود آئینی تحفظات کی بحالی کے لیے جدوجہد کی ذمہ داری سونپی ہے۔
انہوں نے کہاکہ”میں دہلی جاؤں گا اور آرٹیکل 370 کے بارے میں بات کروں گا۔ میں ریاستی درجے کے بارے میں بات کروں گا۔ عوام نے ہمیں آرٹیکل 370 اور اپنے آئینی حقوق کے لیے لڑنے کی ذمہ داری دی ہے۔”
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جدوجہد وقتی احتجاجوں یا سیاسی پروگراموں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
روح اللہ نے کہاکہ”ریاستی درجے کے لیے صرف ایک دن کا احتجاج نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا کوئی پروگرام نہیں ہونا چاہیے جس کا مقصد صرف لوگوں کو خاموش کرنا ہو۔ یہ ایک منظم اور مسلسل جدوجہد ہونی چاہیے، صرف ریاستی درجے کے لیے نہیں بلکہ ان تمام آئینی تحفظات کی بحالی کے لیے بھی جو 2019 سے پہلے موجود تھے۔”
2024 کے پارلیمانی انتخابات میں سری نگر لوک سبھا نشست جیتنے والے روح اللہ مہدی کو آرٹیکل 370، ریاستی درجہ اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کے سب سے واضح اور سرگرم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
واضح موقف رکھنے والے اس رکنِ پارلیمان نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے سخت ناقد کے طور پر بھی اپنی شناخت بنائی ہے۔
وہ متعدد بار عمر عبداللہ پر آرٹیکل 370 کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کرنے اور نیشنل کانفرنس کو عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ سے انحراف کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
روح اللہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ آئینی تحفظات کی بحالی اور جموں و کشمیر کی شناخت کا تحفظ سیاسی بحث و مباحثے کا مرکزی موضوع رہنا چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران انہیں پارٹی قیادت کی جانب سے نظر انداز کیا گیا اور نیشنل کانفرنس کے کئی اہم اجلاسوں میں بھی مدعو نہیں کیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
جموں و کشمیر7 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا1 week agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
دنیا7 days agoیہ بھی ممکن ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے کبھی ملاقات کروں: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک








































































































