دنیا
حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف امریکی کارروائی
واشنگٹن، امریکہ نے ایسے 9 افراد پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جن پر حزب اللّٰہ کے لیے لبنان کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے اور تنظیم کے سیاسی و مالیاتی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں مدد دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے اور لبنان میں حکومتی عمل داری مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
امریکی وزارتِ خزانہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ حزب اللّٰہ کی حمایت کے ذریعے یہ افراد لبنان میں ایرانی حکومت کے ’’بدنیتی پر مبنی ایجنڈے‘‘ کو آگے بڑھا رہے ہیں اور لبنانی عوام کے لیے امن و استحکام کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللّٰہ کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت اور ہتھیار ڈالنے سے انکار لبنان کو امن، استحکام اور خوشحالی کی جانب بڑھنے سے روک رہا ہے۔
ٹومی پیگوٹ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں پارلیمنٹ کے ارکان، ایک سابق ایرانی سفارت کار اور ایسے سکیورٹی اہلکار شامل ہیں جن پر حزب اللّٰہ کے مفاد میں اپنے اختیارات استعمال کرنے کا الزام ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی اعلان کیا کہ محکمہ خارجہ کے ’’انعام برائے انصاف‘‘ پروگرام کے تحت ایسے افراد کو 10 ملین ڈالر تک انعام دیا جائے گا جو حزب اللّٰہ کے مالیاتی نیٹ ورک سے متعلق معلومات فراہم کریں۔
ٹومی پیگوٹ نے خبردار کیا کہ جو عناصر حزب اللّٰہ کو پناہ، تعاون یا کسی بھی شکل میں مدد فراہم کرتے رہیں گے، انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایک محفوظ اور مستحکم لبنان کے لیے حزب اللّٰہ کا مکمل غیر مسلح ہونا اور ملک بھر میں سکیورٹی امور پر لبنانی حکومت کی مکمل عمل داری ضروری ہے۔
امریکی پابندیوں کی نئی فہرست میں ابراہیم الموسوی، حسن فضل اللہ، حسین الحاج حسن، محمد عبد المطلب فنیش، احمد اسعد بعلبکی، سامر عدنان حمادی، خضر ناصر الدین، علی احمد صفاوی اور محمد رضا رؤف شیبانی کے نام شامل ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد امریکہ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کا نیا دور 2 اور 3 جون کو منعقد ہوگا، جبکہ اس سے قبل 29 مئی کو پینٹاگون لبنان اور اسرائیل کے فوجی وفود کے درمیان ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
ادھر حزب اللّٰہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے مذاکرات کو جو اس کے ہتھیار ڈالنے کے معاملے سے متعلق ہوں۔
واضح رہے کہ 17 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع حال ہی میں نافذ ہوئی ہے، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی حملے اور جنوبی لبنان میں کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
اسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھے گا، چاہے اس پر اسرائیل کا موقف کچھ بھی ہو۔
مسٹر وینس نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ “گزشتہ چند مہینوں میں اور درحقیقت گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جو کچھ ہوا ہے، اس نے ایک ایسا ماحول بنایا ہے جس میں صدر یقین رکھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم ایرانی جوہری مسئلے کا ایک طویل مدتی حل تلاش کر سکتے ہیں۔” “چاہے اسرائیل اسے پسند کرے یا نہ کرے، ہمیں یقین ہے کہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔ لہٰذا ہم اس سمت میں آگے بڑھتے رہیں گے، کیونکہ امریکی عوام نے یہی صدر منتخب کیا ہے اور ہمیں امریکی عوام کی خدمت کے لیے یہی کرنا ہے،”
مسٹر وینس کے تبصرے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دراڑ کے بارے میں قیاس آرائیوں کے درمیان آئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایرانی میزائل حملوں کا جوابی کارروائی نہ کرے، لیکن اسرائیل نے اس درخواست پر کان دھرنے سے انکار کر دیا۔ اتوار کو مغربی ایشیا میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کیا۔
ایران نے اس کے جواب میں شمالی اسرائیل کی طرف میزائل داغے۔ اس کے بعد اسرائیل نے ایران کے خلاف کئی راؤنڈ فضائی حملے کیے، جب کہ تہران نے اضافی میزائل حملوں کا جواب دیا۔ ایران کی فوج نے پیر کی صبح کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف حملوں کو روک رہی ہے، لیکن لبنان میں اسرائیلی کارروائی جاری رکھنے کی صورت میں “انتہائی سخت اور تباہ کن” ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے فی الحال ایران پر فضائی حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن وہ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
غور طلب ہے کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پورے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی اڈوں کے ساتھ اسرائیل اور دیگر ممالک کو نشانہ بنایا۔ ایک عارضی جنگ بندی 8 اپریل کو عمل میں آئی تھی لیکن اس کے نفاذ اور علاقائی پیش رفت پر اختلافات کی وجہ سے بات چیت تعطل کا شکار ہے۔
صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا تاہم ابھی تک تنازع کو مکمل طور پر ختم کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو اس کے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی بات چیت سے قبل جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ بندی مسودے میں لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل کیا جائے گا، امیر سعید ایروانی
اقوام متحدہ، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ امریکہ ایران جنگ بندی سے متعلق حتمی مسودے پر بات چیت جاری ہے۔ ابھی اتفاق نہیں ہوا، کوششیں جاری ہیں۔
روسی خبر ایجنسی کے مطابق امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ مسودے اور گفتگو کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا کہ جنگ بندی کے مسودے میں لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔
قبل ازیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ نہ محاذ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا ہے۔ ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ہماری ترجیح ایران کی سلامتی اور اپنے لوگوں کا امن ہے، سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو بازو ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہم نہیں سمجھتے کہ امریکی صدر دیانت داری سے بات کر رہے ہیں: ابراہیم عزیزی
تہران، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ امریکی صدر دیانت داری سے بات کر رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کو جنگ کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، امریکہ اور امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں۔ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے اصولوں کی پابندی کرے تو ایران کو کوئی مسئلہ نہیں، ایران کو سنجیدہ ارادہ نظر نہیں آتا جس میں کوئی قابلِ عمل فریم ورک تشکیل پاسکے۔
ٹرمپ اسٹریٹجک ڈیڈ لاک سے نکلنا چاہتے ہیں، ابراہیم عزیزی ان کا کہنا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ اس کی ایک واضح اور نمایاں مثال ہے، یورینیم افزودگی اور جوہری معاملات پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اس مرحلے پر ان مسائل پر مذاکرات مقصود ہی نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہوگا؟ کہ سوال پر ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہونا دوسری طرف کے طرزِ عمل پر ہے، یہی رویہ جاری رہا تو جواب نفی میں ہے، کیونکہ ہمیں بالکل اعتماد نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اعتماد کے بغیر مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں، مذاکرات کا تسلسل ممکن نہ ہو تو فطری طور پر کوئی نتیجہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی طے کردہ شرائط پوری کی جائیں، قومی مفادات، اقتصادی معاملات اور لبنان کے مسئلے میں عملی پیش رفت نظر آئے تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں، ایسا نہ ہوا تو ایران مزاحمتی محاذ، اس کے ارکان اور بالخصوص لبنان کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر7 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا7 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoیہ بھی ممکن ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے کبھی ملاقات کروں: ٹرمپ










































































































