ہندوستان
ملک میں کورونا انفیکشن سے 11 مریضوں کی موت، کل ایکٹو کیسز کم ہو کر 7264 رہ گئے

نئی دہلی، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کی وجہ سے 11 مزید مریضوں کی موت کے ساتھ ہی اس وائرس سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے اور 119 ایکٹیو کیسز کی کمی کے ساتھ کل ایکٹیو کیسز 7264 ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل اتوار کو فعال کورونا کیسز کی کل تعداد 7383 تھی۔
مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی طرف سے آج جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیرالہ میں سات، چھتیس گڑھ، دہلی، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں ایک ایک مریض کی کورونا انفیکشن کی وجہ سے موت ہوئی ہے۔
جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں اتر پردیش، راجستھان اور کرناٹک میں زیادہ فعال کیس رپورٹ ہوئے ہیں، وہیں قومی دارالحکومت، کیرالہ، تمل ناڈو اور گجرات میں ایکٹیو کیسز میں کمی آئی ہے۔
22 مئی کو ملک میں کورونا کے صرف 257 ایکٹو کیسز تھے جو آج بڑھ کر 7264 ہو گئے۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران 13604 مریض کورونا انفیکشن سے صحت یاب ہوئے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں اتر پردیش (37)، راجستھان (30) اور کرناٹک (18) سے کورونا انفیکشن کے سب سے زیادہ فعال کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور دہلی میں 33، کیرالہ میں 87 اور مہاراشٹر میں 38 تک رپورٹ ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق انفیکشن نئی ابھرتی ہوئی اقسام، خاص طور پر LF.7، XFG، JN.1 اور حال ہی میں شناخت کی گئی NB.1.8.1 ذیلی اقسام کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ یہ معاملے زیر تفتیش ہیں۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا کے ایکٹیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ تین ریاستوں میزورم، ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش میں کورونا انفیکشن کا کوئی فعال کیس نہیں ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق کیرالہ انفیکشن کے معاملے میں سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے، تاہم، آج صبح تک اس کے فعال کیسوں کی تعداد 87 کم ہو کر 1920 تک رہ گئی ہے اور قومی دارالحکومت میں 33 کیسز کی کمی دیکھی گئی، جس سے متاثرین کی کل تعداد 649 رہ گئی ہے۔ مہاراشٹر میں کیسز کی تعداد میں کمی دیکھی گئی، اور 4 میں 3 کی کمی واقع ہوئی۔ گجرات میں کیسز کی تعداد کم ہو کر 1433 پر آ گئی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال میں 747، کرناٹک میں 591، تمل ناڈو میں 220، اتر پردیش میں 275، راجستھان میں 222، ہریانہ میں 91، آندھرا پردیش میں 95، مدھیہ پردیش میں 134، چھتہار میں 350، بہار میں 351 کیسز ہیں۔ اڈیشہ، سکم میں 58، پنجاب میں 27، جموں و کشمیر میں 15، جھارکھنڈ میں 31، آسام میں 25، تلنگانہ میں 10، پڈوچیری میں نو، گوا اور اتراکھنڈ میں چھ، منی پور میں 13، لداخ میں چار، چندی گڑھ اور تریپورہ میں دو دو ہیں۔
صحت کے حکام اور ماہرین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماسک پہنیں، بار بار ہاتھ دھوئیں اور پرہجوم علاقوں میں جانے سے گریز کریں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں کیسز بڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ موسمی وائرل بخار کے پھیلاؤ کے ساتھ ماہرین صحت نے کورونا کو دوسرے انفیکشن سے الگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ملک کی خواتین معاف نہیں کریں گی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے ناری شکتی وندن ترمیمی قانون کو منظور نہیں ہونے دیا اور خواتین کو ان کا حق دینے سے روکا، ملک کی خواتین انہیں کبھی معاف نہیں کریں گی مسٹر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ جن جماعتوں نے یہ “جرم” کیا ہے، ملک کی خواتین انہیں کبھی برداشت نہیں کریں گی اور جب بھی وہ ان جماعتوں کو دیکھیں گی تو اس کی کسک ان کے دلوں میں باقی رہے گی۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اس “بے عزتی” کی سزا ملک کی خواتین ضرور دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق جو دہائیوں سے زیر التوا تھے، انہیں 2029 سے نافذ کیا جانا تھا، لیکن خواتین کو نئے مواقع دینے اور آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اسے خواتین کو انصاف دینے کا ایک مقدس عمل قرار دیا۔
مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں اس بل کو روک کر “بھرون ہتھیا” جیسا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس جیسے جماعتیں اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کو ریزرویشن دینے میں رکاوٹ ڈالی ہے اور اس بار بھی اس نے مختلف “جھوٹ” کا سہارا لے کر اس عمل کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، اس سے کانگریس اور اس کے حامیوں کا “چہرہ بے نقاب” ہو گیا ہے اور وہ پہلے ہی ملک کے بیشتر حصوں میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بل تمام ریاستوں کے لیے ایک موقع تھا اور اگر یہ منظور ہو جاتا تو نمائندگی میں اضافہ ہوتا اور عوام کی آواز مزید مضبوطی سے اسمبلی اور لوک سبھا تک پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال کر خواتین کی توہین کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ اصلاحاتی اقدامات جیسے یکساں سول کوڈ، ووٹر لسٹ کی درستگی، وقف قوانین اور ماؤ نواز تشدد کے خاتمے جیسے اقدامات کی مخالفت کی ہے، جس کی وجہ سے ملک اپنی مکمل ترقی حاصل نہیں کر سکا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی پر حکومت کو گھیرتے ہوئے پرینکا نے اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط قرار دیا
نئی دہلی کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے لوک سبھا میں پاس نہ ہونے کو “جمہوریت کی بڑی جیت” قرار دیا ہے محترمہ پرینکا گاندھی نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور ملک کے وفاقی ڈھانچے میں تبدیلی کی “سازش” کر رہی تھی، جسے اپوزیشن نے متحد ہو کر ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ آئین کی جیت ہے، ملک کی جیت ہے اور اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے۔ اقتدار میں بیٹھے رہنماؤں کے چہروں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انہیں بڑا جھٹکا لگا ہے۔” انہوں نے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ اگر اپوزیشن متفق نہ ہوئی تو وہ کبھی انتخاب نہیں جیت پائے گی۔ “ان بیانات سے ہی حکومت کے ارادے واضح ہو جاتے ہیں۔”
محترمہ پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت خواتین کے ریزرویشن کے نام پر ایک ایسا بل پاس کروانا چاہتی تھی جس سے اسے حلقہ بندی (ڈی لیمیٹیشن) میں من مانی کرنے کی آزادی مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی یہ تھی کہ خواتین کے ریزرویشن کے نام پر اپوزیشن سے حمایت لی جائے اور اس کے بعد حد بندی کے عمل میں خود مختاری حاصل کر لی جائے۔ اس بہانے وہ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار سے بھی بچنا چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ “یہ محض خواتین کے ریزرویشن کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ حد بندی سے جڑا ہوا ایک بڑا سوال تھا۔ ایسی صورت میں اپوزیشن کے لیے حمایت کرنا ممکن نہیں تھا۔”
کانگریس کی جنرل سکریٹری نے بی جے پی پر خواتین کے معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک کی خواتین سب دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے اناؤ، ہاتھرس، خواتین کھلاڑیوں کے احتجاج اور منی پور کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان معاملات میں حساسیت نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ “آج وہی حکومت پارلیمنٹ میں خواتین کی ہمدرد بننے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ملک کی خواتین اب بیدار ہو چکی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تمام جماعتیں متحد ہوتی ہیں تو حکومت کو چیلنج دیا جا سکتا ہے۔
محترمہ پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد 2023 میں منظور شدہ خواتین کے ریزرویشن قانون کو نافذ کرنے کے حق میں ہیں، بشرطیکہ اسے صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اس دن کو ‘بلیک ڈے’ (سیاہ دن) کہے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ “حکومت کے لیے جھٹکا” ہے اور ایسا جھٹکا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ “ہندوستان کی خواتین اب صرف تشہیر اور دکھاوے سے متاثر نہیں ہوں گی۔ وہ حقیقی مسائل کو سمجھ رہی ہیں اور حکومت سے جواب مانگ رہی ہیں۔”
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
جموں و کشمیر6 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا6 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا6 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے، معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز خود بخود کھل جائے گا: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس
دنیا3 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا1 week agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
جموں و کشمیر1 week agoڈرگ فری جموں و کشمیر مہم اجتماعی اقدام کا تقاضا کرتی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا







































































































