جموں و کشمیر
وادیٔ کشمیر میں تازہ برفباری سے رُت بدل گئی—سیاحتی مقامات پر چہل پہل، سیاحوں اور مقامی کاروباریوں کے چہرے کھل اُٹھے

سری نگر،وادیٔ کشمیر کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں منگل کی دوپہر اچانک شروع ہونے والی تازہ برفباری نے سردیوں کی رُت کو ایک نئی تازگی بخشی ہے۔ خاص طور پر گلمرگ، سونہ مرگ، گریز، مژھل، پیر پنچال اور دیگر بالائی بستیاں چاندی کی چادر اوڑھتے ہی سیاحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق ایک کمزور مغربی ہواؤں کا سلسلہ کشمیر سے گزرا جس کے باعث شام کے وقت گلمرگ، گریز اور شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برفباری ریکارڈ کی گئی۔ تاہم محکمے نے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران کسی بڑے موسمی تغیر کی پیشگوئی نہیں کی ہے اور کہا کہ کہیں کہیں ہلکی برفباری یا بارش کا امکان برقرار ہے۔
گلمرگ، جو اس وقت دنیا بھر کے برفانی کھیلوں کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، تازہ برف باری کے بعد مکمل طور پر سیاحوں سے بھر گیا۔ گونڈولا کی کیبل لائنوں کے اوپر سفید برف کی تہریں جمنے کے ساتھ ہی ماحول میں سحر طاری ہوگیا۔ دہلی سے آئے ایک سیاح آکاش ملہوترا نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم پچھلے دو دن سے برفباری کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی برف گرجی، بچوں کی خوشی دیکھ کر سفر کی ساری تھکن دور ہوگئی۔ کشمیر واقعی سر زمینِ جنت ہے۔‘
ایک اور خاتون سیاح سروج رانا، جو راجستھان سے اپنے خاندان کے ہمراہ آئی ہیں، نے کہا: ’ہم نے کافی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں، یہاں کی تازہ برف اور پہاڑوں کا حسن الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتا۔ اس بار کشمیر کا ٹرِپ ہماری زندگی کی خوبصورت ترین یاد رہے گی۔‘
مقامی ہوٹل مالکان اور گائیڈ حضرات کا کہنا ہے کہ تازہ برف نے موسم سرما کے کاروبار کو ایک نئی جان بخشی ہے۔ گلمرگ کے ایک مقامی گائیڈ عارف احمد نے بتایا: ’پچھلے کچھ ہفتوں سے موسم خشک تھا، جس کی وجہ سے بکنگ میں کمی آرہی تھی۔ لیکن آج کی برفباری کے بعد سیاحوں کے فون مسلسل آرہے ہیں۔ نئے سال کی بُکنگ تقریباً فل ہوچکی ہے۔‘
اسی طرح سونہ مرگ اور گریز میں بھی برف گرنے کے ساتھ ہی مقامی لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ گریز کے ایک نوجوان تاجر شبیر لون نے کہا: ’برف پڑنے سے نہ صرف سیاح آتے ہیں بلکہ ہمارے بازاروں میں بھی رونق بڑھ جاتی ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے اس بار حالات کہیں بہتر لگ رہے ہیں۔‘
وادی میں اگرچہ اس وقت ’چلۂ کلان‘ چل رہا ہے—جو 40 دنوں کی سخت ترین سردی کا دور ہے—لیکن درجۂ حرارت معمول سے تین سے چار ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ پیر کے مقابلے منگل کی شب بھی رات کا درجہ حرارت زیادہ رہا۔ اس غیر معمولی حدت نے اگرچہ ماہرین کو تشویش میں مبتلا کیا ہے، تاہم تازہ برفباری نے موسمی منظرنامے کو کچھ حد تک معمول پر لانے کی کوشش کی ہے۔
انتظامیہ نے برفباری کے بعد تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دے دی ہے۔
سڑکوں کی بحالی، بجلی سپلائی اور ریسکیو ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جاسکے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جنوبی کشمیر رینج کے ڈی آئی جی نے پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا
سری نگر، جنوبی کشمیر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جاوید اقبال مٹو نے پیر کے روز پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، جس میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے چوکسی بڑھانے اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
پلوامہ ضلع پولیس لائنز میں ایس ایس پی پلوامہ تنوشری اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاوید اقبال مٹو نے جاری تحقیقات، این ڈی پی ایس مقدمات اور مجموعی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ خفیہ نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جائے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر کیا جائے اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی چوکسی برقرار رکھی جائے۔
انہوں نے ضلع میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں اور اینٹی ٹیرر گرڈ کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے موجودہ سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دوران ملک مخالف عناصر کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان رابطہ بڑھانے، علاقے پر کنٹرول مضبوط کرنے اور خفیہ نظام کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔
افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر وقت بلند سطح کی چوکسی برقرار رکھیں اور کسی بھی سکیورٹی چیلنج کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں پیر کی صبح رام نگر سے ادھم پور جا رہی ایک بس کے گہری کھائی میں گر جانے سے کم از کم 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ مسافروں کو لے جانے والی بس ضلع کی رام نگر تحصیل کے کانوٹے موڑ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔” پولیس، مقامی لوگوں اور فوج کے جوانوں نے حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ زخمیوں کو ادھم پور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ادھم پور کے ڈی سی منگا شیرپا سے بات کی، کیونکہ ایک گھنٹہ پہلے کانوٹ گاؤں کے قریب رام نگر سے ادھم پور جانے والی ایک مسافر بس کے حادثے کی خبر موصول ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’بچاؤ کی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔ شدید زخمیوں کو ایئر لفٹ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔” ڈاکٹر سنگھ نے لکھا کہ وہ مقامی انتظامیہ اور راجندر شرما کی قیادت میں مقامی کارکنوں کی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’ادھم پور میں ہونے والا سڑک حادثہ انتہائی دردناک ہے۔ میری گہری ہمدردی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ خدا انہیں صبر عطا فرمائے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ میں نے ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور محکمہ صحت کو متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں کشمیر میں کالعدم جماعتِ اسلامی اور ایف اے ٹی سے وابستہ 58 پرائیویٹ اسکول حکومت کی تحویل میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم تنظیم جمعات اسلامی اور اس کی تعلیمی شاخ فلاحِ عام ٹرسٹ سے وابستہ 58 نجی اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
یہ کارروائی اس اقدام کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کی گئی ہے، جب حکومت نے جماعت سے منسلک 215 اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا۔ واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ نے 2019 میں جماعتِ اسلامی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
جموں و کشمیر کے محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے مزید 58 فعال اسکولوں کی نشاندہی کی ہے، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جماعتِ اسلامی یا فلاحِ عام ٹرسٹ سے منسلک پائے گئے ہیں۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ ان اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے یا ان کے خلاف خفیہ رپورٹ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ماتحت محکمۂ تعلیم نے ضلع مجسٹریٹس/ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان اسکولوں کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیں اور مناسب جانچ کے بعد نئی انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز پیش کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولی تعلیم کے محکمے کے ساتھ مشاورت اور تال میل کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
حکم جاری ہونے کے بعد حکام نے ہفتہ کے روز ان اسکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ان 58 اداروں میں سے سب سے زیادہ 29 بارہمولہ ضلع میں ہیں، جبکہ پلوامہ میں 7، کولگام اور کپواڑہ میں 5-5 اسکول شامل ہیں۔ اننت ناگ اور بڈگام میں 4-4 جبکہ بانڈی پورہ میں 2 اسکولوں کو کنٹرول میں لیا گیا ہے، جب کہ شوپیان اور سری نگر میں ایک ایک اسکول شامل ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
جموں و کشمیر4 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک




































































































