جموں و کشمیر
کشمیر کے نالہ سندھ میں یوریشین اوٹرنظر آنے سے اس نسل کی موجودگی کی امیدیں ہوئی جاگزیں

سری نگر، وسطی کشمیر کے سندھ نالہ سے یوریشین اوٹر کی تازہ فوٹو گرافک شہادت سامنے آنے کے بعد اس نایاب نیم آبی ممالیہ کی طرف ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوگئی ہے اور اس دریافت نے وادی میں اس جانور کی موجودگی پر جاری بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جہاں ایک طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہ نسل معدوم ہوچکی ہے۔
یہ تصویر جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات کے رینج افسر میر فیضان انور نے اپنے عملے کے ہمراہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے کے معمول کی گشت کے دوران کھینچ لی۔ محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام نے اس تصویر کو ایک اہم سائنسی ریکارڈ قرار دیا ہے جو اس امر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یوریشین اوٹر اب بھی کشمیر کے آبی نظام میں موجود ہے۔
چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ کشمیرعرفان رسول نے اس تصویر کو کشمیر سے یوریشین اوٹر کی پہلی براہ راست بصری دستاویز قرار دیا جو سندھ نالہ میں ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے کہا: ‘اس سے قبل کیمرہ ٹریپ ریکارڈز کے ذریعے بانڈی پورہ کے کشن گنگا اور جنوبی کشمیر کے رمبیارہ نالہ میں اوٹر کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی تھی، سندھ نالہ سے حاصل ہونے و الی یہ نئی شہادت کشمیر میں اوٹر کی موجودگی کی تصدیق کو مزید مضبوط اور وسعت دیتی ہے، کشمیر کے دریا اور ندی نالے بے پناہ ماحولیاتی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کا تحفط ناگزیر ہے’۔
میر فیضان انور کے مطابق انہوں نے 21 جنوری کو صبح تقریباً 10 بجے گاندربل ضلع میں واقع سندھ کینال میں اوٹر کو دیکھا جو ایک پن بجلی منصوبے کو پانی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘میں نے اس علاقے میں چلتے ہوئے غیر معمولی نوعیت کی آوازیں سنیں، میں نے فوراً پہچان لیا اور تصاویر لینے میں کامیاب رہا’۔
واقعے کے فوراً بعد مقامی لوگ بھی جائے موقع پر جمع ہوگئے جن میں سے بعض نے ابتدا میں اس جانور کو مگر مچھ سمجھ لیا۔
میر فیضان نے کہا: ‘میں نے انہیں (مقامی لوگوں کو) بتایا کہ یہ اوٹر ہے، جسے مقامی زبان میں “ورد” کہا جاتا ہےاور یہ کہ اس کی موجودگی ایک خوش آئند علامت ہے، اوٹر صرف صاف پانی میں ہی زندہ رہتے ہیں اس لئے یہ پانی کے اچھے معیار کی بھی نشاندہی کرتے ہیں’۔
وائلڈ لائف وارڈن شمالی کشمیر انتظار سہیل کا کہنا ہے کہ یوریشین اوٹر بتدریج وادی میں اپنے قدیم مساکن دوبارہ آباد کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘گذشتہ 5 سے 6 برسوں کے دوران کشمیر میں اوٹر کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں، ان کی موجودگی اچھی طرح ثابت ہے اور اس نسل کو کبھی بھی با ضابطہ طور پر معدوم قرار نہیں دیا گیا’۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ‘معدومی ایک با قاعدہ سائنسی اعلان ہوتا ہے، ہمیشہ بالواسطہ شواہد موجود رہے ہیں’۔
انتظار سہیل نے 1993 میں ڈل جھیل کے پچھلے پانیوں میں اوٹر دیکھنے کا اپنا مشاہدہ بھی یاد کیا۔
انہوں نے کہا کہ گرچہ وقت کے ساتھ براہ راست مشاہدات کم ہوتے گئےتاہم مچھلیوں کے بچے کھچے حصے اور مخصوص خوراکی نشانات جیسے بالواسطہ آثار جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے ہیر پورہ جیسے علاقوں میں دیکھے جاتے رہے۔
سہیل کے مطابق آلودگی اور شدید ماہی گیری کے دبائو کے باعث ڈل اور ولر جیسی بڑی جھیلوں میں اوٹر کی تعداد میں نمایاں کمی آئی تاہم کم متاثرہ بالائی علاقوں اور بلند مقامات پر واقع ندی نالوں جیسے سندھ، لدر، رمبیارہ اور جنوبی کشمیر کے بعض حصوں میں ان کی آبادی بر قرار رہی۔
انہوں نے کہا: ‘اوٹر فطری طور پر نہایت محتاط اور چھپ کر رہنے والے جانور ہیں ان کا کم نظر آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ ختم ہوگئے ہیں’۔
اس تازہ پیش رفت سے قبل بھی ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ نسل خطے میں ختم ہوچکی ہے۔ جون 2025 میں سری گفوارہ کے مقام پر دریائے لدر میں یوریشن اوٹر کے ایک نایاب مشاہدے نے سرخیاں بنائیں جب دیہاتیوں نے اسے مگر مچھ سمجھ لیا تھا بعد ازاں وائلڈ لائف حکام نے ویڈیو فوٹیج اور سی سی ٹی ریکارڈنگ کے ذریعے جانور کی شناخت کی تصدیق کی۔
عالمی سطح پر یوریشن اوٹر کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے ‘قریب الخطر” قرار دیا ہے۔ تاریخی طور پر یہ جانور کشمیر کے آبی ماحولیاتی نظام کا ایک اہم جز رہا ہے جس کے شواہد داچھی گام ، ڈل جھیل کو پانی فراہم کرنے والے نالوں، دریائے لدر اور رمبیالہ نالہ سے ملتے ہیں۔
شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کشمیر کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ اوٹر کی آبادی کبھی سندھ اور ولر جھیل سمیت بڑے دریائی نظاموں میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا: ‘ان کی آبادی پہلے مضبوط تھی لیکن مسکن کی تباہی، کم رپورٹنگ اور تعداد میں کمی کے باعث مشاہدات نایاب ہوتے گئے’۔
گرچہ حالیہ مشاہدات حوصلہ افزا ہیں تاہم موصوف پروفیسر نے آبادی کی بحالی سے متعلق کسی حتمی نتیجے سے گریز کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا: ‘اوٹر کا دوبارہ نمودار ہونا خوش آئند ہے لیکن آبادی کے رجحانات اور مشاہدات کی تعداد جانچنے کے لئے منظم سائنسی مطالعات ناگزیر ہیں’۔
ان کا زور دے کر کہنا تھا کہ جن علاقوں میں اوٹر کی موجودگی ریکارڈ ہوئی ہے ان کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہئے۔
موصوف پروفیسر کے مطابق مربوط حفاظتی اقدامات، مسکن کا بہتر انتظام اور طویل المدتی نگرانی ہی اس نسل کے استحکام اور بحالی کو یقینی بنا سکتی ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
منوج سنہا نے نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمے پر زور دیا، مصنفین سے ہندوستان کی عالمی کہانی دوبارہ پیش کرنے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ ’’نوآبادیاتی ذہنیت‘‘ کے باقی ماندہ اثرات کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے اور ہندوستان کی تاریخ اور موجودہ حالات کو عالمی سطح پر مسخ شدہ انداز میں پیش کیے جانے کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنفین اور دانشوروں کا اہم کردار ہے کہ وہ ان کے بقول غلط بیانیوں کی اصلاح کریں اور دنیا کے سامنے ہندوستان کا نقطۂ نظر پیش کریں۔
وہ سری نگر میں کشمیر لٹریچر فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مصنفین پر زور دیا کہ وہ افسانہ، غیر افسانوی ادب اور دیگر تخلیقی ذرائع کے ذریعے مثبت بیانیہ تشکیل دیں اور لوگوں کو متاثر کریں، کیونکہ ’’مصنف کی تخلیق صرف الفاظ میں نہیں بلکہ لوگوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں نوآبادیاتی ذہنیت کے ہر نشان کو مٹانا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بیرونِ ملک لوگ ہماری تاریخ اور حال کو اپنی پسند کے بیانیے کے لیے مسخ نہ کریں۔‘‘ ان کے مطابق، ایسی غلطیوں کی اصلاح کرنا اور حقیقت کو عالمی قارئین تک پہنچانا مصنفین کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں دنیا کو بار بار یاد دلانا ہوگا کہ تقریباً 6,000 سال قبل جب ویدوں کی تدوین ہوئی، اس وقت ہندوستان دنیا کی معیشت، تعلیم، ثقافت اور فلسفے کا مرکز تھا۔ صدیوں تک ہندوستان عالمی تہذیب اور ثقافت کا محرک رہا اور اس نے سائنس، ریاضی، فلکیات اور طب کے میدان میں دنیا کی سماجی و معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔‘‘
منوج سنہا نے کہا کہ تاریخ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ بھارت کا بیانیہ درست انداز میں تشکیل پا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ویدی دور سے ہمارے آبا و اجداد حقائق کو درستگی کے ساتھ محفوظ اور منتقل کرتے رہے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر جدید دور میں بھارت اپنی تاریخ خود لکھنے کی روایت سے دور ہو گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم اپنی قیمتی روایات، ثقافت، علم اور سائنسی ورثے کو دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہے، اسی لیے بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کچھ چیزیں باہر سے آئیں یا حملہ آوروں نے متعارف کرائیں، جبکہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے الزام لگایا کہ بعض غیر ملکی مؤرخین نے جان بوجھ کر بھارت کی قدیم سائنسی دریافتوں، ادبی، فنی اور تعمیراتی کامیابیوں کو نظر انداز کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’جب ہندوستان سائنسی ترقی کی بلندی پر تھا، بہت سے ممالک میں سائنس کا ذکر تک نہیں ملتا۔ فارس اور دیگر خطوں میں سائنس، ریاضی اور فلکیات کے ابتدائی حوالہ جات آٹھویں صدی میں سامنے آئے اور وہ بھی بڑی حد تک ہندوستان کے اثرات کے مرہونِ منت تھے۔ یورپ کی پہلی نشاۃ ثانیہ نے 12ویں صدی میں ہندوستان کے علم، سائنس، ثقافت اور فن کے خزانے سے استفادہ کیا۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
سری نگر جموں و کشمیر حج کمیٹی کے ذریعے حاجیوں کے سامان کے ایک بڑے حصے کو احمد آباد سے سری نگر تک سڑک کے راستے سے لے جانے کے فیصلے پر حاجیوں، ان کے خاندانوں اور سیاسی لیڈروں نے بڑے پیمانے پر تنقید کی ہے۔
نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے میں سامان لے جانے کی حد طے ہونے کی وجہ سے کیے گئے اس فیصلے سے حج سے واپس آرہے بزرگ حاجیوں میں پریشانی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کئی لوگوں کو سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور جلد خراب ہونے والی چیزوں سمیت ذاتی سامان میں تاخیر، نقصان یا خرابی کا ڈر ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے فوری طور پر سرکاری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
سری نگر کے لیے حج پروازوں کی آمد دو جون سے شروع ہونے والی ہے، پہلی پرواز کے دوپہر 12:45 بجے سری نگر انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر اترنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ پروازوں کے اوقات تین اور چار جون کو مقرر ہیں۔ اس سال جموں و کشمیر سے 7,000 سے زیادہ زائرین نے سفر حج کیا۔
جموں و کشمیر حج کمیٹی نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ حاجیوں کی امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس سری نگر کے آگے کے سفر سے پہلے احمد آباد میں ہی مکمل کر لی جائے گی۔
سامان کے ترمیم شدہ انتظام کے تحت، حاجیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف سات کلو گرام تک کا ایک ہینڈ بیگیج لے جائیں، جبکہ سری نگر جانے والی پروازوں میں صرف پانچ کلو گرام کا چیک ان بیگیج ہی لے جانے کی اجازت ہوگی۔ نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے کے وزن کی حدود کی وجہ سے باقی سامان، فی زائر 30 کلو گرام تک، سڑک کے راستے سے الگ سے لے جایا جائے گا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ کسی بھی چیک ان بیگیج کا وزن 22 کلو گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ حاجی سڑک کے راستے سے لائے گئے اپنے سامان کو حج ہاؤس سری نگر پہنچنے پر وہاں سے حاصل کر سکیں گے۔
اس فیصلے سے حاجیوں اور ان کے خاندانوں میں غم و غصہ نظر آ رہا ہے۔ کئی زائرین کو اندیشہ ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور دیگر اشیاء سمیت ان کے سامان میں تاخیرسے خرابی یا نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ ایک مقدس سفر سے لوٹ رہے زائرین کو غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایک بیان میں مسٹر بخاری نے کہا کہ “یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ جموں و کشمیر کے حاجی، جو اپنی مقدس زیارت مکمل کرنے کے بعد گھر آنے کی تیاری کر رہے ہیں، متعلقہ حج حکام اور ایئر لائن حکام کے غیر حساس اور غیر تعاون پر مبنی رویے کی وجہ سے غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے رام بن میں ٹرک کھائی میں گرا، ڈرائیور اور ہیلپر کی موت
جموں جموں و کشمیر کے رام بن ضلع کے رامسو علاقے میں ایک ٹرک کے گہری کھائی میں گر جانے سے ڈرائیور اور اس کے ہیلپر کی موت ہو گئی۔
پولیس کے مطابق، جموں سے سرینگر جا رہا چونا پتھر سے لدا ٹرک رامسو علاقے کے گنگرو کے پاس ڈرائیور سے مبینہ طور پر گاڑی سے کنٹرول کھو دینے کے سبب گہری کھائی میں گر گیا۔ ٹرک کے کھائی میں گرنے سے اس میں آگ لگ گئی۔
پولیس کی ایک ٹیم نے مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں کی مدد سے فوراً بچاؤ مہم شروع کی اور گاڑی کے کیبن میں پھنسے ڈرائیور اور ہیلپر کی لاشیں باہر نکالیں۔ ٹرک میں آگ لگنے سے لاشیں جزوی طور پر جھلسی ہوئی پائی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر1 week agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
جموں و کشمیر6 days agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا1 week agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ
ہندوستان6 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول ٹیکس: جہازوں کے گزرنے کیلئے فیس
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے ساتھ چل رہی امن بات چیت کو اور وقت دینے کا فیصلہ کیا
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
جموں و کشمیر5 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند































































































