ہندوستان
آلودگی کم کرنے میں حکومت کی کوئی دلچسپی نہیں: کیجریوال

نئی دہلی، عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ملک کی راجدھانی دہلی میں عوام کو آلودہ ہوا کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود بیرونِ ملک چلے جانے پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ اپوزیشن رہنما راہل گاندھی پر بھی سخت تنقید کی۔
مسٹر کیجریوال نے چنڈی گڑھ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اب تک یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پنجاب میں پرالی جلانے کی وجہ سے دہلی میں آلودگی پھیلتی ہے، جبکہ اس وقت پنجاب کے تمام شہروں کا اے کیو آئی 70 سے 100 کے درمیان ہے۔ پنجاب میں نہ دھنواں ہے اور نہ ہی اس وقت پرالی جلائی جا رہی ہے۔ ایسے میں اس وقت دہلی میں جو آلودگی ہے، وہ دہلی کی اپنی ہے۔ دہلی کی آلودگی ختم کرنے کے لیے مرکزی حکومت اور دہلی حکومت کو مل کر مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں 10 برس تک عام آدمی پارٹی کی حکومت رہی اور اس دوران دسمبر کے مہینے میں کبھی بھی اتنی سنگین آلودگی نہیں دیکھی گئی۔ آج سب جانتے ہیں کہ دہلی حکومت کی جانب سے دکھایا جا رہا موجودہ اے کیو آئی مینوپُلیٹیڈ کیا ہوا ہے، کیونکہ اے کیو آئی مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے آس پاس پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود اے کیو آئی 450 سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اگر دہلی کا اصل اے کیو آئی دیکھا جائے تو وہ 700 سے 800 سے بھی زیادہ ہے۔
عام آدمی پارٹی کے رہنما نے کہا کہ آج دہلی کا پورا ماحول دم گھونٹنے والا ہو چکا ہے۔ آلودگی کم کرنے کی کوشش کے بجائے دہلی حکومت کی پوری توجہ اے کیو آئی کے اعداد و شمار میں گڑبڑی کرنے پر مرکوز ہے۔ کئی دنوں تک دہلی میں گریپ-4 نافذ نہیں کیا گیا۔ جب فضا انتہائی زہریلی ہو گئی تو حال ہی میں گریپ-4 نافذ کیا گیا۔ گریپ-4 کے نفاذ کے باوجود دہلی میں کھلے عام تعمیراتی کام جاری ہیں۔ دہلی میں گریپ-4 صرف کاغذوں میں نافذ ہے، زمینی سطح پر نہیں۔
مسٹر کیجریوال نے کہا کہ جب دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت تھی تو ہم آلودگی کم کرنے کے لیے بیک وقت کئی اقدامات کرتے تھے۔ معائنے کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی جاتی تھیں۔ کوڑا جلانے اور رات کے وقت چوکیداروں کے ذریعے آگ جلانے جیسے امور کو روکا جاتا تھا۔ حکومت کی جانب سے کئی سخت اقدامات کیے جاتے تھے، جن سے آلودگی پر قابو پایا جاتا تھا۔
انہوں نے مرکزی حکومت کے رویے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر وزیرِ اعظم کا رویہ انتہائی مایوس کن ہے۔ وزیرِ اعظم کی جانب سے دہلی کی آلودگی پر ایک لفظ تک نہیں کہا گیا۔ جس ملک کی راجدھانی گیس چیمبر بنی ہوئی ہو، اگر اس ملک کے وزیرِ اعظم کو آلودگی سے کوئی سروکار نہ ہو تو آلودگی کیسے کم ہو سکتی ہے۔ دہلی کی آلودگی تبھی کم ہوگی جب مرکزی حکومت پوری سنجیدگی اور سرگرمی کے ساتھ اسے کم کرنے میں دل چسپی لے کر عملی اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک دہائی قبل بیجنگ کا اے کیو آئی دہلی سے بھی کہیں زیادہ خراب تھا، لیکن وہاں کی حکومت نے ذمہ داری کے ساتھ کام کیا اور آلودگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں۔ اس کے برعکس دہلی اور مرکزی حکومت میں آلودگی ختم کرنے کا کوئی ارادہ اور دلچسپی ہی نہیں ہے۔ ان کی واحد نیت یہی ہے کہ اے کیو آئی میں ہیرا پھیری کر لی جائے اور مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر پانی کا چھڑکاؤ کر دیا جائے۔ دہلی حکومت کا یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ اس کی نیت دہلی کے عوام کو راحت دینے کی نہیں ہے۔ ملک کے وزیرِ اعظم عمان میں ہیں، اپوزیشن رہنما جرمنی میں ہیں اور ملک کی راجدھانی آلودگی
کی زد میں ہے۔ جب کسی کو آلودگی کی فکر ہی نہیں تو آلودگی کم کیسے ہوگی۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے 14 نکاتی ‘اسلام آباد مفاہمت نامے (ایم او یو)’ پر مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو ‘اسلام آباد ایم او یو’ کہا جانا پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی کردار کو ظاہر کرتا ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کے لیے شدید جھٹکا ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ سال 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا تھا، لیکن اب پاکستان مغربی ایشیا کے جیو پولیٹیکل اور سکیورٹی نظام میں زیادہ اثر و رسوخ والا کردار ادا کر رہا ہے، جس کے ہندوستان کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایم او یو اپنے الفاظ اور جذبے کے مطابق نافذ ہوتا ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی، حالانکہ اس کے ‘میمورنڈم آف مس انڈراسٹینڈنگ’ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق، اگلے 60 دن اس معاہدے کی کامیابی کے لحاظ سے بے حد اہم ہوں گے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے ایران کو کئی اہم اور غیر متوقع فوائد ملے ہیں اور اس نے اپنی مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے احتیاط کے ساتھ اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن وہ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔
مسٹر رمیش نے اسے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اب بھی اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تئیں حکومت کا یہ رخ ہندوستان کے مفادات کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہمات اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی پر امریکی صدر کے تئیں خوش
خوشامد پسندی کا الزام لگاتے ہوئے مرکز حکومت کی خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ، عرب امارات، جاپان، کوریا اور مصر کے لیڈروں سے کی مودی نے بات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ایویاں میں جی-7 سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے منگل کو دوطرفہ ملاقات کی مسٹر مودی نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ، جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی الگ الگ ملاقات کے دوران دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر اسٹارمر اور مسٹر مودی نے گزشتہ سال باہمی دوروں کے بعد سے ہندوستان-برطانیہ تعلقات میں مضبوط رفتار کا جائزہ لیا اور ’ویژن 2035‘ کے تمام اہم ستونوں—تجارت اور اقتصادی ترقی، دفاع اور سکیورٹی، ماحولیاتی کارروائی اور گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور اختراع نیز تعلیم اور لوگوں کے باہمی تعلقات—میں ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے کے جلد نافذ ہونے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے مضبوط تعلیمی شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کیا اور بنگلورو میں یونیورسٹی آف لیورپول کی طرف سے اپنا کیمپس قائم کرنے اور ممبئی میں یونیورسٹی آف یارک اور یونیورسٹی آف برسٹل کے کیمپس کھولنے کے لیے حال ہی میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور یوکرین سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان-برطانیہ جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کو دہرایا۔ مسٹر مودی اور مسٹر آل نہیان کے درمیان اس سال یہ تیسری ملاقات تھی جس سے ہندوستان-یو اے ای کی مضبوط اور متحرک اسٹریٹجک شراکت داری کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس سال جنوری میں صدر آل نہیان کے دورۂ ہندوستان اور مئی میں وزیر اعظم مودی کے دورۂ متحدہ عرب امارات کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں ہوئی پیش رفت اور مثبت تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے خطے میں مستقل امن، سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز سے مسلسل بلا رکاوٹ، محفوظ اور پرامن آمد و رفت اور تجارت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے صدر آل نہیان کو اس سال کے آخر میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے برکس بربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا5 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا5 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
ہندوستان2 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا7 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا5 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا3 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
جموں و کشمیر4 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے


































































































