تازہ ترین
الطاف بخاری آج ‘اپنی پارٹی’ لانچ کریں گے

سابق وزیر سید محمد الطاف بخاری آج اپنی سیاسی جماعت ‘اپنی پارٹی’ لانچ کریں گے۔ لانچنگ کی تقریب سرینگر کے تاریخی لال چوک کے نزدیک واقع شیخ باغ علاقہ میں منعقد ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ ‘اپنی پارٹی’ کے لانچنگ کے دن غلام حسن میر کے علاوہ پی ڈی پی، کانگریس، این سی اور بی جے پی سے وابستہ متعدد رہنما بشمول عثمان مجید، منجیت سنگھ، وکرم ملوترا (کانگریس)، رفیع میر، جاوید حسین بیگ، دلاور میر، نور محمد، ظفر منہاس، عبدالمجید پاڈر، عبدالرحیم راتھر (پی ڈی پی)، جگموہن سنگھ رینا اور وجے بقایا (این سی) اس جماعت کا حصہ بننے کا رسمی اعلان کرسکتے ہیں۔
الطاف بخاری کی ‘اپنی پارٹی’ ایک ایسے وقت میں لانچ کی جارہی ہے جب جموں و کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ پی ایس اے کے تحت نظر بند ہیں اور وادی میں سیاسی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں۔حال ہی میں پی ڈی پی کے سینیئر لیڈر مظفر حسین بیگ کی ‘اپنی پارٹی’ میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بخاری نے کہا تھا: ‘جس دن پارٹی کا باقاعدہ اعلان ہوگا اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ کون ہماری پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے’۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ عام لوگوں کی پارٹی ہے کسی مخصوص خاندان کی پارٹی نہیں ہے اس میں کوئی بھی شمولیت اختیار کرسکتا ہے اسی لئے ہم نے اس کا نام ‘اپنی پارٹی’ رکھا ہے۔مسٹر بخاری نے کہا تھا کہ فی الوقت پارٹی کی سرگرمیاں جموں و کشمیر تک ہی محدود رہیں گی۔
انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کو سرینگر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں لانچ کیا جائے گا اور اس کے مرکزی دفاتر سری نگر اور جموں میں ہوں گے۔قبل ازیں الطاف بخاری کی ماہ جنوری میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو کے ساتھ ملاقات اور بعد ازاں غیرملکی سفارتکاروں کے ساتھ ملاقات جیسی سرگرمیوں کے پیش نظر یہاں کے عوامی و سیاسی حلقوں میں ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کی خبریں گرم ہوگئی تھیں تاہم موصوف لیڈر کے ایک ترجمان نے اپنے ایک پریس بیان میں ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ الطاف بخاری کے بارے میں مشتہر کی جانے والی ان خبروں کا مقصد کنفیوژن اور گمراہی پیدا کرنا ہے۔
الطاف بخاری نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ پانچ اگست 2019ء ایک سیلاب جیسا تھا جس نے جموں و کشمیر کا گھر گرا دیا۔ وہ اور ان کے ساتھی ریاست کا درجہ اور زمین و نوکریوں کا تحفظ مانگ کر چار دیواری کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور بعد میں اگر کوئی لیڈر اس چار دیواری کو سونے یا چاندی سے سجانا چاہتا ہے تو سجا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہماری طرف سے ریاست کا درجہ واپس مانگنے کا مطلب نہیں کہ دفعہ 370 واپس نہیں مانگا جاسکتا، جب ریاست کا درجہ واپس ملے گا تو باقی چیزیں بھی واپس مل سکتی ہیں۔الطاف بخاری کے گروپ نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ جموں کشمیر کے لیے ریاست کے درجے کی واپسی اور نوکریوں و زمین کے تحفظ وغیرہ کے مطالبات کو لے کر عنقریب وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ملاقات کریں گے۔
اس حوالے سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جموں کشمیر کے عوام کو ایک موثر سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور زمینی سطح پر ایک مستحکم سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل کے لئے لوگوں کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔(ای ٹی وی)
دنیا
یوکرین کے لیے برطانیہ کی حمایت اٹل ہے: اسٹارمر
کیف، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے یوکرین کے لیے اپنے ملک کی حمایت کو ‘غیر متزلزل’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نہ صرف یوکرین بلکہ پورے یورپ کی سلامتی کے لیے اس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور بین الاقوامی حمایت کو متحرک کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔
مسٹر سٹارمر نے جمعرات کو کیف پہنچنے پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات سے قبل کہا کہ یوکرین کے عوام کی ہمت اور لچک نے روس کے مکمل حملے کے بعد پورے یورپ کی سلامتی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یوکرین کے لیے برطانیہ کی غیر متزلزل حمایت ہمیشہ جاری رہے گی۔ یہ نہ صرف یوکرین اور یورپ کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، بلکہ ان برطانوی خاندانوں کے لیے بھی جو اس جنگ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا خمیازہ برداشت کر رہے ہیں۔”
مسٹر سٹارمر نے کہا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد، انہوں نے یہ عزم کیا کہ برطانیہ نہ صرف یوکرین کے بحران کے وقت اس کے ساتھ کھڑا رہے گا بلکہ اس کی طویل مدتی سلامتی اور تعمیر نو کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں بھی مدد کرے گا۔ اس مقصد کے لیے، برطانیہ نے دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے، جدید جنگی ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دیا ہے، اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر یوکرین کو زیادہ طاقت کے لیے پوزیشن میں رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جی-7 اور نیٹو سربراہی اجلاسوں نے واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ اور اس کے اتحادی روس کی جارحیت کے خلاف پوری طرح متحد ہیں۔
اپنے دور میں، سٹارمر حکومت نے یوکرین کے لیے سالانہ 3 بلین یوروکی فوجی امداد کا وعدہ کیا، لاکھوں ڈرونز، میزائل اور توپ خانے کے گولے فراہم کیے، اور یوکرین کی سلامتی کے لیے وقف گروپ، کولیشن آف دی ولنگ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
برطانیہ نے یوکرین کے ساتھ 100 سالہ شراکت داری کے معاہدے پر بھی دستخط کیے جس میں دفاع، سلامتی، تجارت، توانائی، سائنس اور ثقافت جیسے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس نے روس کی جنگی کوششوں سے منسلک افراد، اداروں اور جہازوں پر کئی دور کی پابندیاں بھی عائد کیں۔ کیف کے اپنے دورے سے پہلے، مسٹر سٹارمر نے پیرس میں اتحاد کے اتحاد کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے £78 بلین یوکرین ایڈ لون اقدام میں اپنی شرکت کا اعلان کیا جس کا مقصد یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور برطانوی دفاعی کمپنیوں کو مواقع فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعظم کے طور پر ان کی مدت ختم ہو رہی ہے لیکن ان کے دور میں قائم ہونے والی شراکت داری اور بین الاقوامی اتحاد کے ذریعے یوکرین کے لیے برطانیہ کی حمایت جاری رہے گی۔اسٹارمر حکومت اب تک روس میں 1400 سے زیادہ افراد، اداروں اور جہازوں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ ان میں 600 کے قریب آئل ٹینکرز شامل ہیں جن کا تعلق روس کے نام نہاد ‘شیڈو فلیٹ’ سے ہے۔ برطانیہ روس کی چار بڑی تیل کمپنیوں پر پابندیاں لگانے والا پہلا جی7 ملک بھی بن گیا
۔یو این آئیہ۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ میں دہشت گرد حملوں میں بڑی کمی آئی ہے: روبیو
واشنگٹن، امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ میں دہشت گرد حملوں میں بڑی کمی آئی ہے۔
دہشت گردی سے متعلق واشنگٹن میں منعقدہ وزارتی اجلاس میں وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ داعش کے عروج کےو قت جہادی دہشت گرد حملے کرتے تھے انسدادِ دہشت گردی کی کامیاب حکمت عملی سےحملوں میں دو تہائی تک کمی آئی، جہادیوں کے یورپ پر حملوں میں 97فیصد تک کمی آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کاخطرہ مکمل ختم نہیں ہوا یہ اب بھی موجود ہے دہشت گردی کاخطرہ تب تک برقرار رہے گا جب تک امیگریشن نظام کمزور ہو گا، امیگریشن نظام خطرات کو ملک میں آنے دے گا تو دہشت گردی کا خطرہ رہےگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مجھے ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں، امریکی صدر ٹرمپ
واشنگٹن، ایرانی پُلوں پر حملوں کی ڈیڈ لائن سے متعلق صحافیوں کے سوال پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو اپنا رویہ بہتر کرنا چاہیے۔ ایران کو صورتحال کا علم ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی رہنما ملاقات کرنا چاہتا ہے، وہ معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دیکھیں گے کہ ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں یا نہیں۔ ایران کو جلد شکست دیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے بائیڈن دور میں گرفتار امریکی خاتون کو چھوڑ دیا ہے، ایران کے اس خیرسگالی اقدام کو سراہتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
دنیا1 week agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
ہندوستان6 days agoمیرٹھ کی دلت طالبہ للیتا گوتم قتل کیس پر کھرگے کا بی جے پی پر شدید حملہ، کہا، حکومت دبا رہی ہے انصاف کی آواز
دنیا1 week agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا1 week agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا6 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
ہندوستان6 days agoاتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت سے لوگوں میں ہے مایوسی: کانگریس
ہندوستان1 week agoیو جی سی- نیٹ پیپر لیک پر گرمائی سیاست، راہل گاندھی نے بنایا مرکزکو نشانہ
دنیا5 days agoایران نے اقوام متحدہ سے امریکہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
دنیا3 days agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
جموں و کشمیر1 week agoشوبیاں آپریشن چھٹے روز میں داخل: فورسز کا سرچ آپریشن تیز








































































































