تازہ ترین
اوڑی میں آسمانی بجلی گرنے سے 100سے زائد بھیڑ بکریاں ہلاک

خبراردو:
شمالی کشمیر کے سرحدی تحصیل اوڑی کے گوالان علاقے میں سنیچر کی شام اس وقت خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا جب علاقے میں دو مقامی چرواہوں نے اپنے مال مویشی کو شدید بارش سے بچانے کے لئے ایک ٹین کے شڈ میں جمع کیا تھا جس دوران آسمانی بجلی ٹین کے شد پر جاگری۔جس کے نتیجے میں 100سے زائد بھیڑ بکریاں شڈ کے اندر ہی ہلاک ہوئیں اس طرح سے مویشی مالکان کو لاکھوں روپے کے نقصان سے دو چار ہوئے ہیں ۔
واقعے کے حوالے سے تحصیلدار اوڑی بشارت احمد بتایا کہ نذیر احمد محمد شریف دو مقامی چرواہیں نزدیکی جنگل میں اپنی بھڑ بکریوں کو چرانے کی غرض سے لے جا رہے تھے جس دوران شام کے قریب علاقے میں اچانک تیز بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔جس کے ساتھ چرواہوں نے مال مویشیوں کو بارش سے بچنے کے لئے وہاں موجود ٹین کے ایک شڈ میں بند رکھا ہے ۔
اسی دوران علاقے میں ایک زورداد دھماکہ ہوا جس سے پوار علاقہ لرز اٹھا ۔دھما کے کے فوراً بعد دیکھا گیا ہے وہاں موجود ٹین کا شڈ مکمل طور منہدم ہو چکا تھا اور اس میں موجود تمام مویشی ہلاک ہوئے چکے تھے ۔جس کی وجہ سے سے مویشی مالکان کو بھاری نقصان سے دو چار ہونا پڑا۔
جموں و کشمیر
جموں میں زمینی تنازع پر ایک شخص کا قتل، دو ملزم گرفتار
جموں، جموں شہر کے مضافاتی علاقے میران صاحب میں زمین کے تنازع پر مبینہ طور پر ایک شخص کو قتل کر دیا گیا۔
پولیس نے اس معاملے میں دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت میران صاحب کے گئیاں گاؤں کے ستیندر کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ جمعہ کی شام زمین کے تنازع کے بعد دو بھائیوں نے مبینہ طور پر تیز دھار ہتھیاروں سے ان پر حملہ کیا۔ پولیس نے بتایا کہ شدید زخمی حالت میں ستیندر کمار کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم علاج کے دوران وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ پولیس کے مطابق رات بھر جاری چھاپہ مہم کے دوران دونوں ملزمان، اجے اور وجے، کو گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں گئیاں گاؤں کے درشن کمار کے بیٹے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر
سری نگر ہوائی اڈے نے ہفتے میں دو دن پروازیں بند رکھنے کا منصوبہ واپس لیا
سری نگر، سری نگر ہوائی اڈے نے ہر پیر اور منگل کو مسافر پروازوں کو معطل رکھنے کا اپنا مجوزہ منصوبہ واپس لے لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس سال ایئرفیلڈ کو پوری طرح بند نہیں رکھا جائے گا۔
جولائی سے شروع ہونے والے ہفتوں کے لیے کشمیر کے واحد سویلین ہوائی اڈے کو بند کرنے کے اس معلوماتی منصوبے سے وادی میں کافی تشویش پیدا ہو گئی تھی۔
سری نگر ائیرپورٹ نے ‘ایکس’ پر ہفتے کے روز جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ فلائٹ آپریشن تمام دنوں میں جاری رہے گا۔
یومیہ پروازوں کا وقت صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگا، جبکہ رات کے وقت رن وے کی دیکھ بھال اور مرمت (مینٹیننس) کا کام اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔ ایئر لائنز موجودہ آپریشنل اوقات کے حساب سے اپنے طے شدہ شیڈول میں تبدیلیاں کرتی رہیں گی۔
ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے کہا، “پیر اور منگل کو پورے رن وے کو بند کرنے کے بارے میں پہلے جو نوٹام (نوٹس ٹو ایئرمین) جاری کیا گیا تھا، اسے اب واپس لیا جا رہا ہے۔” اس کے ساتھ ہی مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی متعلقہ ایئر لائنز سے اپنی پرواز کی صورتحال (اسٹیٹس) چیک کرتے رہیں اور کسی بھی اپڈیٹ کے لیے صرف سرکاری اور مستند ذرائع پر ہی بھروسہ کریں۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب ائیرپورٹ حکام نے جولائی سے ستمبر تک ہفتے میں دو دن رن وے بند رکھنے کی تجویز دی تھی۔ اس تجویز سے کشمیر میں تشویش اس لیے زیادہ تھی کیونکہ یہ وقت سیاحوں کی آمد کے عروج (پیک سیزن) اور سالانہ امرناتھ یاترا کے وقت کے ساتھ میل کھاتا ہے۔
یو این آئی۔ م س
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان1 week agoپاسپورٹ فیس میں اضافے پر کانگریس کی مرکز پر تنقید ، سرجیوالا نےکہا ’مہنگائی کی نئی قسط‘
ہندوستان7 days agoسرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے
































































































