جموں و کشمیر
اے سی بی نے سیکاپ کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر، موجودہ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

جموں، اینٹی کرپشن بیورو جموں نے سیکاپ میں مبینہ غیر قانونی تقرری، ریگولرائزیشن اور ترقی سے متعلق سنگین الزامات کی بنیاد پر سابق اور موجودہ اعلیٰ افسران کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مقدمہ ان الزامات پر مبنی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سیکاپ کے اُس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر آر کے رزدان جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اور دیگر متعلقہ افراد کے ساتھ ملی بھگت میں کنال چودھری کو غیر قانونی طور پر تقرر اور ترقی دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ کنال چودھری اس وقت سیکاپ جموں میں ڈپٹی جنرل منیجر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
اے سی بی کی ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ آر کے رزدان نے بغیر کسی اشتہار، بغیر درخواستیں طلب کیے اور بغیر کسی قانونی تقاضے کے، محض اپنی صوابدید پر کنال چودھری کو 6 ماہ کے لیے ٹیکنیکل اسسٹنٹ کے طور پر عارضی بنیادوں پر تعینات کیا۔ یہ تقرری نہ صرف قوانین کے خلاف تھی بلکہ ’پک اینڈ چوز‘ پالیسی کی بدترین مثال بھی قرار دی گئی ہے۔
تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ صرف چھ ماہ کی عارضی ملازمت کے بعد ہی کنال چودھری کو بغیر کسی پالیسی، منظوری یا اہلیت کی جانچ کے ریگولرائز کردیا گیا، جو کہ سرکاری قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد انہیں بغیر اشتہار دیے اور دیگر اہل امیدواروں کی سینیارٹی کو نظرانداز کرتے ہوئے منیجر کے عہدے پر بھی ترقی دے دی گئی۔
اینٹی کرپشن بیورو کے مطابق، اس پورے عمل میں اس وقت کے ایم ڈی آر کے رزدان اور دیگر ملوث افراد نے اختیارات کا بےجا استعمال کیا، قواعد و ضوابط کو پامال کیا اور ایک مخصوص شخص کو غیر قانونی طریقے سے فائدہ پہنچایا، جس کے نتیجے میں کنال چودھری کو تنخواہ، الاؤنسز اورسینیارٹی کی صورت میں بھاری مالی فائدہ حاصل ہوا۔
اے سی بی نے بتایا کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید گرفتاریاں یا قانونی کارروائیاں بھی متوقع ہیں۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
محبوبہ کا اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو معمول بنائے جانے پر تنقید
سرینگر، محبوبہ مفتی، صدر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، نے ہفتہ کے روز الزام عائد کیا کہ ملک میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی سلوک کو بتدریج معمول بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ’’بی جے پی کے نام نہاد وکست بھارت کی حقیقت یہی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اس حد تک معمول بن چکی ہیں کہ پیدا نہ ہونے والے مسلم بچوں کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور آدیواسیوں کو مسلسل حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ گھروں اور مساجد کو بلاخوف و خطر مسمار کیا جا رہا ہے۔‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے تقسیم پیدا کرنے والی زبان اور بیانات کی بڑھتی ہوئی قبولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے بیانات کے خلاف خاموشی معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس قسم کی نفرت انگیز بیان بازی پر جاری خاموشی اُن عناصر کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو ہمارے معاشرے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
محبوبہ مفتی کا یہ ردِعمل للت شرما کی جانب سے دہرادون کے بیراگی والا علاقے میں مبینہ نفرت انگیز تقریر کے بعد سامنے آیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو کشمیر نے دھوکہ دہی کے مقدمے میں اترپردیش کے ایک باشندے کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی
سرینگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے ہفتہ کے روز سوپور کی ایک عدالت میں اتر پردیش کے ایک ملزم کے خلاف چارج شیٹ دائر کی، جس پر غیر ملکی ٹیلی کام منصوبہ فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر شکایت کنندہ سے دھوکہ دہی کے ذریعے رقم حاصل کرنے کا الزام ہے۔
ای او ڈبلیو کے مطابق یہ چارج شیٹ سال 2023 میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 420 کے تحت درج ایف آئی آر کے سلسلے میں پیش کی گئی۔ ملزم کی شناخت ہرکیت سنگھ، ساکن کالی ماتا مندر، لال بنگلہ، کانپور، اتر پردیش کے طور پر ہوئی ہے۔
مقدمے کی بنیاد ایک تحریری شکایت پر رکھی گئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم نے امریکہ کی ایک ٹیلی کام کمپنی سے منسلک مبینہ اے ٹی اینڈ ٹی اِن باؤنڈ سیلز کال پروجیکٹ فراہم کرنے کا وعدہ کرکے شکایت کنندہ کو رقم دینے پر آمادہ کیا۔
تحقیقات کے دوران اکنامک آفنسز ونگ نے الزامات کا جائزہ لیا اور مقدمے سے متعلق شواہد جمع کیے۔ تفتیش کاروں نے پایا کہ ملزم نے مبینہ طور پر منصوبے کے بارے میں جھوٹی یقین دہانیاں کرا کے شکایت کنندہ کو دھوکہ دیا اور فراڈ کے ذریعے رقم حاصل کی۔
کرائم برانچ حکام کے مطابق، تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے شواہد نے شکایت میں لگائے گئے الزامات کی تائید کی۔
بعد ازاں، عدالتی کارروائی کے لیے چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سوپور کی عدالت میں پیش کر دی گئی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں ٹیکسی سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار، آٹھ افراد زخمی
سرینگر، جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ہفتہ کے روز ایک ٹویرا کیب سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق ٹنگمرگ کے بابا ریشی علاقے کے قریب ٹویرا کیب ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر سڑک سے پھسل گئی، جس کے باعث گاڑی میں سوار آٹھ مسافر زخمی ہو گئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد انہیں مزید خصوصی علاج کے لیے سرینگر کے جے وی سی اسپتال ریفر کر دیا گیا۔
ادھر، اس واقعے کے سلسلے میں پولیس اسٹیشن ٹنگمرگ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا6 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
ہندوستان3 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا6 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر5 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا6 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
ہندوستان6 days agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا4 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان






































































































