ہندوستان
جتیندر سنگھ نے وکست بھارت ڈائیلاگ میں حصہ لینے والے جموں و کشمیر اور لداخ کے نوجوانوں سے ملاقات کی

نئی دہلی، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ 2026 میں حصہ لینے والے جموں و کشمیر اور لداخ کے نوجوانوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی ہے۔
یہ ملاقات اتوار کی رات ڈاکٹر سنگھ کی رہائش گاہ پر گرمجوشی اور غیر رسمی ماحول میں ہوئی، جہاں انہوں نے شرکاء کے لیے خصوصی عشائیہ کا بھی اہتمام کیا۔
اس گروپ میں جموں و کشمیر کے 52 اور لداخ کے 31 نوجوان شامل ہیں، جو نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزارت کے زیر اہتمام میرا بھارت نیشنل یوتھ فیسٹیول، ’وکست بھارت یوتھ لیڈرز ڈائیلاگ 2026‘ میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں ہیں۔
میٹنگ کے دوران، ڈاکٹر سنگھ نے شرکاء سے انفرادی طور پر ملاقات کی اور ان کے پس منظر، توقعات اور قومی سطح کے ایونٹ میں ان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ انہوں نے وکست بھارت چیلنج ٹریک کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور اختراعی ٹریکس میں ان کی شرکت پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں قومی پلیٹ فارم سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔
نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے نوجوانوں کی توانائی نئے ہندوستان کی بدلتی ہوئی کہانی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران اسکول اور کالج کے طلباء کے اس پرجوش گروپ نے اپنی تخلیقی اور فنکارانہ صلاحیتوں سے ملک کے دیگر حصوں کے اپنے ساتھیوں کو مسحور کردیا ہے۔ مسٹر سنگھ نے کہا، “ترقی یافتہ ہندوستان کا مستقبل اس کے نوجوان شہریوں کی توانائی، اختراع اور قیادت پر منحصر ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وکست بھارت ینگ لیڈرس ڈائیلاگ صرف ایک فنکشن نہیں ہے، بلکہ ایک قوم سازی کا پلیٹ فارم ہے جہاں خیالات، تخلیقی صلاحیتیں اور قیادت ایک ساتھ آتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یہ پہل وزیر اعظم کی طرف سے تصور کیا گیا ایک نیا تجربہ ہے، جس نے نوجوانوں کو ہندوستان کی ترقی کے سفر میں شراکت دار بنایا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے نوجوان نہ صرف ترقی کے استفادہ کنندہ ہیں بلکہ 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہندوستان کے سفر میں سرگرم شراکت دار اور شریک تخلیق کار ہیں۔
وزیر نے قومی اتحاد اور سالمیت کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ جیسے خطوں کے نوجوان ملک کے سماجی اور ثقافتی تانے بانے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے شرکاء کو ملک بھر کے اپنی ساتھیوں کے ساتھ جڑنے، ہندوستان کے تنوع کی تعریف کرنے اور اختراع و حکمرانی سے لے کر ثقافت اور سماجی ترقی تک کے شعبوں میں نوجوانوں کی قیادت میں حل پیش کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔
قابل ذکر ہے کہ نیشنل یوتھ فیسٹیول بھارت منڈپم میں منعقد ہو رہا ہے اور 12 جنوری کو نوجوان شرکاء اور وزیر اعظم مودی کے درمیان بات چیت کے ساتھ اختتام پذیر ہو گا۔ یہ میلہ ہر سال سوامی وویکانند کے یوم پیدائش کی یاد میں منعقد کیا جاتا ہے، جسے راشٹریہ یوا دیوس کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے یقین ظاہر کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے نوجوان قومی سطح پر اپنے علاقوں کی شاندار نمائندگی کریں گے اور مثبت تبدیلی کے سفیر کے طور پر واپس آئیں گے، جو ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے اور وکست بھارت کے تبدیلی کے منصوبے کو آگے بڑھائیں گے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے 14 نکاتی ‘اسلام آباد مفاہمت نامے (ایم او یو)’ پر مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو ‘اسلام آباد ایم او یو’ کہا جانا پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی کردار کو ظاہر کرتا ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کے لیے شدید جھٹکا ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ سال 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا تھا، لیکن اب پاکستان مغربی ایشیا کے جیو پولیٹیکل اور سکیورٹی نظام میں زیادہ اثر و رسوخ والا کردار ادا کر رہا ہے، جس کے ہندوستان کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایم او یو اپنے الفاظ اور جذبے کے مطابق نافذ ہوتا ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی، حالانکہ اس کے ‘میمورنڈم آف مس انڈراسٹینڈنگ’ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق، اگلے 60 دن اس معاہدے کی کامیابی کے لحاظ سے بے حد اہم ہوں گے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے ایران کو کئی اہم اور غیر متوقع فوائد ملے ہیں اور اس نے اپنی مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے احتیاط کے ساتھ اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن وہ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔
مسٹر رمیش نے اسے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اب بھی اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تئیں حکومت کا یہ رخ ہندوستان کے مفادات کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہمات اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی پر امریکی صدر کے تئیں خوش
خوشامد پسندی کا الزام لگاتے ہوئے مرکز حکومت کی خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ، عرب امارات، جاپان، کوریا اور مصر کے لیڈروں سے کی مودی نے بات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ایویاں میں جی-7 سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے منگل کو دوطرفہ ملاقات کی مسٹر مودی نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ، جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی الگ الگ ملاقات کے دوران دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر اسٹارمر اور مسٹر مودی نے گزشتہ سال باہمی دوروں کے بعد سے ہندوستان-برطانیہ تعلقات میں مضبوط رفتار کا جائزہ لیا اور ’ویژن 2035‘ کے تمام اہم ستونوں—تجارت اور اقتصادی ترقی، دفاع اور سکیورٹی، ماحولیاتی کارروائی اور گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور اختراع نیز تعلیم اور لوگوں کے باہمی تعلقات—میں ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے کے جلد نافذ ہونے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے مضبوط تعلیمی شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کیا اور بنگلورو میں یونیورسٹی آف لیورپول کی طرف سے اپنا کیمپس قائم کرنے اور ممبئی میں یونیورسٹی آف یارک اور یونیورسٹی آف برسٹل کے کیمپس کھولنے کے لیے حال ہی میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور یوکرین سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان-برطانیہ جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کو دہرایا۔ مسٹر مودی اور مسٹر آل نہیان کے درمیان اس سال یہ تیسری ملاقات تھی جس سے ہندوستان-یو اے ای کی مضبوط اور متحرک اسٹریٹجک شراکت داری کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس سال جنوری میں صدر آل نہیان کے دورۂ ہندوستان اور مئی میں وزیر اعظم مودی کے دورۂ متحدہ عرب امارات کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں ہوئی پیش رفت اور مثبت تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے خطے میں مستقل امن، سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز سے مسلسل بلا رکاوٹ، محفوظ اور پرامن آمد و رفت اور تجارت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے صدر آل نہیان کو اس سال کے آخر میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے برکس بربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر7 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان7 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا7 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا5 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
ہندوستان1 day ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا5 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
































































































