ہندوستان
دستاویزات جمع کرانے والے دعویداروں کو رقم حاصل کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے: سیتا رمن

نئی دہلی، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے آج لوک سبھا میں کہا کہ سہارا گروپ کے ان سرمایہ کاروں کو رقم واپس کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جن کے پاس مکمل دستاویزات ہیں۔
وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ حکومت ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہے کہ آئیے تمام دستاویزات لائیے اور اپنے پیسے لے جائیے ۔ لیکن کوئی نہیں آرہا ہے۔ اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ باہر نہ جائیں اور یہ نہ کہیں کہ حکومت پیسے نہیں دے رہی ہے ۔ حکومت پوری طرح تیار ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملے کی نگرانی کر رہاہے۔
مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے امرا رام نے سوال کیا تھا کہ سہارا گروپ میں کتنے لوگوں نے سرمایہ کاری کی تھی، ان کے پیسے واپس کیے گئے اور کتنے کئے گئے ؟ اس کا ابتدائی طور پر وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے جواب دیا۔ مسٹر پنکج چودھری نے سیبی کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ صرف 17 ہزار لوگوں نے درخواست دی تھی۔ اس میں 138 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خود عدالت میں جائیں اور دعوے دائر کریں۔ جواب سے مطمئن نہ ہو کر امرا رام نے دوبارہ سوال کیا۔ اس کے بعد وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا “عدالت جایئے ، عدالت سے پوچھئے ہم بھی انتظار میں کھڑے ہیں۔ سپریم کورٹ ہماری نگرانی کر رہاہے۔ ہم پر انگلی اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
انہوں نے کہا “یہ عدالت کے ذریعے ہو رہا ہے۔ ہم حکومتی سطح پر فیصلے نہیں کر سکتے۔ کوئی بھی ممبر غلط فہمی نہ پھیلائے۔ کوئی رکن باہر جا کر یہ نہ کہے کہ حکومت پیسے نہیں دے رہی ہے ۔ حکومت ہاتھ جوڑ کر پکار رہی ہے کہ لوگ دستاویزات لے کر آئیں۔ ہم رقم ادا کرنے کو تیار ہیں۔ آپ بھی لے آئیں، ہم دیں گے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
پیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
نئی دہلی، کانگریس جنرل سکریٹری نیز رکنِ پارلیمنٹ محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کونشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 152 پیپر لیک ہونے کے باوجود کسی کو سزا نہیں ملی اور اس کی ذمہ داری مسٹر مودی کو لینی چاہیے محترمہ واڈرا نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی جمہوریت کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکومت کے ارکانِ پارلیمنٹ ہی پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ چلانے میں ناکام رہی ہے اور نوجوانوں کے جائز مطالبات کو دبانے کے لیے ان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ہر کامیابی کا سہرا اپنے سر لیتے ہیں لیکن پیپر لیک جیسے سنگین معاملات کی ذمہ داری لینے سے بچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 152 پیپر لیک ہونے کے باوجود کسی گنہگار کو سزا نہیں ملی، اس لیے وزیرِ اعظم مودی کو اس کی جواب دہی قبول کرنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دھرمیندر پردھان کے استعفے پر اپوزیشن کا اصرار، ہنگامے کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی
نئی دہلی،
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیٹ یو جی (NEET-UG) پرچہ لیک معاملے پر بحث کے مطالبے پر اپوزیشن نے مسلسل چوتھے دن بھی جمعرات کو راجیہ سبھا میں شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث تین مرتبہ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے چار دن گزر چکے ہیں، لیکن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس مسئلے پر جاری تعطل کے باعث ابتدائی چاروں دن کی کارروائی ہنگامے کی نذر ہو گئی۔
سہ پہر تین بجے جب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو نائب چیئرمین ہری ونش نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف ملّیکار جن کھرگے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ اس پر مسٹر کھرگے نے ایک تحریری بیان پڑھتے ہوئے کہاکہ”ملک کو زندہ رکھنے کے لیے چاہے ہمیں اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے، ہم اپنا دل اور اپنی جان سب کچھ قربان کر دیں گے، لیکن ملک سے ناانصافی ختم کرنے کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کریں گے۔ یہ خاموشی صرف چند لمحوں کی ہے…”
وہ ابھی اپنی بات مکمل بھی نہیں کر پائے تھے کہ نائب چیئرمین نے کہا کہ پارلیمانی امور کے وزیر کچھ کہنا چاہتے ہیں۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف نہ تو ایوان کی کارروائی چلانے کی بات کر رہے ہیں اور نہ ہی بحث کی، بلکہ وہ ایک تحریری بیان پڑھ کر بحث کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ان کے یہ کہتے ہی اپوزیشن ارکان نے بلند آواز میں نعرے بازی شروع کر دی، جبکہ حکمراں اتحاد کے ارکان نے بھی اس کا جواب دیا۔ ایوان میں شدید ہنگامہ اور بدنظمی کی صورتحال پیدا ہونے پر نائب چیئرمین نے کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی۔
اس سے قبل بھی اسی معاملے پر کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے اور پھر سہ پہر دو بجے تک ملتوی کی گئی تھی۔
یواین آئی۔ ط ا
ہندوستان
اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کا پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں مظاہرہ
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ متعدد اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی برطرفی کے مطالبے کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیاہاتھوں میں تختیاں اور بینر لے کر نعرے بازی کر رہے اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ مسٹر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار کے سامنے جمع ہوئے اور مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں محترمہ گاندھی اور مسٹر کھرگے کے علاوہ پارٹی لیڈر راہل گاندھی، محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینو گوپال، گورو گگوئی، کے سریش، مانیکم ٹیگور، عمران پرتاپ گڑھی، ایس پی کے الھلیش یادو، محترمہ سپریا سلے (این سی پی-شرد)، سوگت رائے اور ساکیت گوکھلے (ترنمول کانگریس) نیز دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ شامل تھے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا7 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا7 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
جموں و کشمیر6 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا7 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا7 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان7 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
ہندوستان1 week agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی











































































































