جموں و کشمیر
سال 2025 :کشمیر میں ای او ڈبلیو کی معاشی جرائم کے خلاف موثر کارروائیاں

سری نگر، کرائم برانچ جموں وکشمیر کی اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے سال 2025 کے دوران نہایت موثر اور نتیجہ خیز کاکردگیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے وادی کشمیر میں معاشی جرائم کی ایک ویسع رینج کے خلاف فیصلہ کن اقدام کئے۔
ونگ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ احتساب، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے اپنے مندیٹ پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے ونگ نے دھوکی دہی، فریب، جعل سازی اور مالی بے ضابطگیوں کے پیچیدہ مقدمات کی موثر انداز میں تفتیش کی جس کے نتیجے میں حکمرانی اور اداہ جاتی نظام پرعوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سال رواں کے دوران ونگ نے غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنگین اور پیچیدہ معاشی جرائم سے متعلق ایک سو ایف آئی آرز کو کامیابی سے نمٹایا۔ ان مقدمات میں دستاویزی اور ڈیجیٹل شواہد کی باریک بینی سے جانچ، تفصیلی تجزیہ اور مختلف شواہد کی باریک بینی سے جانچ اور مختلف سرکاری محکموں، بینکوں، اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ کاری کی ضرورت تھی ان ایف آئی آرز کا بروقت تصفیہ ونگ کے افسروں اور عملے کی پیش ورانہ مہارت، لگن اور عزم کا واضح ثبوت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ درج شدہ مقامات کے علاوہ ونگ نے عوامی شکایات کے ازالے میں بھی اہم کر دار ادا کیا۔
موصوف ترجمان نے بتایا کہ ‘سال 2025 کے دوران عوام اور سرکاری
اداروں کی جانب سے موصول ہونے والے 1،270 شکایات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ان کا حل نکالا گیا، ہر شکایت کو حقائق اور قانونی بنیادوں پر پرکھا گیا جہاں ضروری ہوا، مناسب کارروائی عمل میں لائی گئی جبکہ دیگر معاملات کو قانونی رہنمائی کے ذریعے حل کیا گیا جس سے شفافیت، طریقہ کار کی منصفانہ پیروی اور بر وقت ریلیف کو یقینی بنایا گیا’۔
انہوں نے کہا کہ احتیاطی نگرانی ونگ کی ترجیحات میں شامل رہی۔
ان کا کہنا تھا: ‘سال 2025 میں 290 ابتدائی اور متفرق انکوائرز انجام دی گئیں تاکہ ابتدائی مرحلے پر حقائق کی تصدیق ، قابل دست اندازی جرائم کی نشاندہی اور تنازعات کے بڑھنے سے پہلے ان کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے، کئی معاملات انکوائری کے مرحلے پر ہی قانونی وضاحت کے ذریعے حل کر دئے گئے جس سے غیر ضروری قانونی چارہ جوئی میں کمی آئی اور قیمتی عوامی وسائل محفوظ رہے’۔
موصوف ترجمان نے بتایا: ‘ملازمت سے متعلق دھوکہ دہی کے مقدمات ایک نمایاں حصہ رہے، ان میں سرکاری ملازمتوں اور بیرون ملک روزگار کے جھوٹے وعدے شامل تھے جو بالخصوص بے روز گار نوجوانوں کو نشانہ بناتے تھے، ونگ نے اراضی فراڈ، نقالی (بھیس بدل کر دھوکہ دینے)، دھوکہ دہی اور دستاویزات کی جعل سازی کے متعدد مقدمات کی بھی تفتیش کی خاص طور پر وادی میں سرگرم جعلی جاب کنسلٹنسیز پر خصوصی توجہ دی گئی’۔
انہوں نے کہا: ‘تحقیقی ایجنسی نےریونیو اور سروس ریکارڈ میں جعلی اندراجات سے متعلق متعدد مقدمات کی جانچ کی جن میں سرکاری اسکیموں کے تحت ناجائز فوائد حاصل کرنے کے لئے جعلی اور من گھڑت اسناد کا استعمال شامل تھا’۔
ان کا کہنا ہے کہ ونگ نے عوامی فنڈز کی خرد برد اور سرکاری ملازمین کی جانب سے مجرمانہ بد دیانتی کے سنگین مقدمات کی بھی تفتیش کی جس کے نتیجے میں عوامی وسائل کے غلط استعمال کا انکشاف ہوا۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ اور کمپنی فراڈ کے مقدمات جن میں مالی بے ضابطگیاں اور فریب پر مبنی کاروباری طریقے شامل تھے، کی بھی مکمل جانچ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کام کے بڑھتے ہوئے دبائو اور مقدمات کی پیچیدگی کے باوجود ، قریبی نگرانی، باقاعدہ جائزہ اجلاسوں اور بہتر رابطہ کاری کے ذریعے بروقت تصفیہ کو یقینی بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سال 2025 کے دوران اراضی دلالوں کے منظم نیٹ ورکس، عادی مجرموں اور پیشہ ور فراڈیوں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں قانون کے تحت گرفتار کیا گیا جس سے معاشی جرائم میں ملوث عناصر کے لئے ایک سخت پیغام گیا۔
انہوں نے کہا کہ ای او ڈبلیو عوامی اعتماد کے تحفظ کے لئے پر عزم ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سجاد لون کا بڑا الزام: 2025 کے راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی، این سی اور پی ڈی پی کے درمیان “میچ فکسنگ” ہوئی
سرینگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور حلقہ ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ 2025 کے راجیہ سبھا انتخابات میں ان تینوں جماعتوں کے درمیان ملی بھگت اور “میچ فکسنگ” ہوئی تھی۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب ایک آر ٹی آئی کے ذریعے یہ انکشاف ہوا کہ راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پی ڈی پی کا کوئی ‘پولنگ ایجنٹ’ موجود نہیں تھا۔ یاد رہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اکتوبر 2025 میں ہونے والے ان پہلے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے تین نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی کے ست شرما نے محض 28 اراکین اسمبلی کی حمایت کے باوجود 32 ووٹ حاصل کر کے چوتھی نشست پر این سی کے عمران ڈار کو شکست دے دی تھی۔ اس نتیجے نے اراکین کی وفاداریاں تبدیل کرنے اور “ہارس ٹریڈنگ” کے شکوک و شبہات کو جنم دیا تھا۔
راجیہ سبھا انتخابات سے دور رہنے والے سجاد لون نے این سی اور پی ڈی پی کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ماننا ناممکن ہے کہ اتنی پرانی جماعتیں انتخابی قوانین سے ناواقف تھیں۔ سجاد لون نے کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں پولنگ ایجنٹ کی تقرری سب سے اہم قانونی مرحلہ ہوتا ہے۔ “کوئی پارٹی امیدوار کھڑا کرے یا نہ کرے، وہ اپنا ایجنٹ مقرر کر سکتی ہے۔
ایجنٹ مقرر نہ کرنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ پارٹی جان بوجھ کر ایسا نہیں کرنا چاہتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ این سی نے ایجنٹوں کی تقرری پر زور نہیں دیا اور پی ڈی پی نے سرے سے ایجنٹ مقرر ہی نہیں کیے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بی جے پی کو نشست جتوانے کے لیے درپردہ مدد فراہم کی گئی۔سجاد لون نے موجودہ سیاسی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ووٹرز کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا”کشمیر کے عوام کو میری طرف سے نیک خواہشات۔ بدقسمتی سے یہ سارا مذاق انھی کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس کی قیمت بھی وہی چکا رہے ہیں۔سجاد لون کے ان الزامات نے جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں پہلے ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
اردو زبان پر تنازع: التجا مفتی کا عمر عبداللہ سے سوال، “جو بی جے پی نے نہیں مٹایا، وہ آپ کیوں مٹا رہے ہیں
سرینگر، محکمہ مال (ریونیو) کی بھرتیوں میں اردو کی لازمی شرط ختم کرنے کی مبینہ کوششوں پر جموں و کشمیر کی سیاست میں ابال آ گیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر اردو زبان کو منظم طریقے سے نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور ان کی پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھائے۔
التجا مفتی نے کہا کہ اردو کا مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کی “ثقافتی اور لسانی شناخت” سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ کی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے اردو کی ادارہ جاتی حیثیت کمزور ہو رہی ہے۔
انہوں نے 9 جولائی 2025 کے ایک حکم نامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ مال نے زمینی ریکارڈ کو انگریزی میں ڈیجیٹل کرنے کا حکم دیا، جبکہ تاریخی طور پر یہ تمام ریکارڈ اردو میں موجود ہیں۔ اس سے مقامی افسران اور عوام کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
التجا نے دعویٰ کیا کہ 14 اپریل 2026 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پٹواری اور تحصیلدار جیسے عہدوں کے لیے اردو کی مہارت کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اب کوئی بھی گریجویٹ اردو جانے بغیر ان عہدوں کے لیے درخواست دے سکتا ہے، جو مقامی نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وزیر اعلیٰ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہا”میں عمر صاحب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جو کام مہاراجہ کے دور میں نہیں ہوا اور جسے مٹانے کی جرات بی جے پی نے بھی نہیں کی، وہ آپ کیوں کر رہے ہیں؟ کیا آپ یہ سب بی جے پی کے اشارے پر کر رہے ہیں”
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ : منشیات سے متعلق معاملات میں غیر قانونی املاک کو پولیس نے کیا مسمار
سرینگر، جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پولیس نے سول انتظامیہ کے تعاون سے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے سرکاری زمین پر تعمیر کردہ کروڑوں روپے کی غیر قانونی املاک کو مسمار کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق، اس مہم کے دوران قومی شاہراہ کے کنارے واقع اسٹیٹ سنگم میں سرکاری زمین پر بنی کئی عمارتوں کو گرا دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ان عمارتوں کو سڑک کنارے ڈھابوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور یہ املاک این ڈی پی ایس ایکٹ کے مقدمات میں ملوث افراد سے وابستہ پائی گئیں۔ مسمار کی گئی املاک میں ‘کشمیر ریسٹورنٹ (ڈھابہ)’ بھی شامل تھا، جس کے مالکان ڈونی پورہ سنگم کے رہائشی گل محمد میر اور بشیر احمد میر تھے۔ پولیس نے واضح کیا کہ ان دونوں کے نام بجبہارا پولیس اسٹیشن میں درج مختلف منشیات کے مقدمات میں شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ تیسری عمارت، ‘میر ریسٹورنٹ’، ان کے بھائی اما میر کی تھی جو ان دونوں ڈھابوں کے درمیان واقع تھی؛ اس عمارت کو بھی کارروائی کے دوران گرا دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ “یہ تمام عمارتیں سرکاری زمین پر کسی بھی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں۔ یہ کارروائی مکمل طور پر قانونی ضابطوں کے مطابق کی گئی، جو منشیات کے اسمگلروں اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سختی سے نمٹنے کے لیے اننت ناگ پولیس کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔”
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر مہم’ شروع کیے جانے کے بعد سے، پولیس نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں منشیات کے اسمگلروں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس مہم کے تحت مشتبہ اسمگلروں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، ان کی املاک ضبط کی جا رہی ہیں اور این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت نئے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ پولیس منشیات کنٹرول کرنے والے حکام کے ساتھ مل کر غیر قانونی اور ممنوعہ ادویات کی فروخت روکنے کے لیے ادویات کی دکانوں کا معائنہ بھی کر رہی ہے۔
یواین آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر6 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان5 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان5 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا6 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
جموں و کشمیر2 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ









































































































