تازہ ترین
عمران انصاری ’پوسٹر بوائے‘ اور موقعہ پرست سیاست دان: نیشنل کانفرنس

خبراردو:
نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی کے سابق ممبر اور گزشتہ دنوں سجاد لون کی سربراہی والی پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنے والے عمران رضا انصاری کی طعنہ زنی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ایک موقعہ پرست سیاست دان ہے اور ہوا کا رخ بدلتے ہی اپنی بولی بھی تبدیلی کرنے میں ماہر ہے۔ پارٹی ترجمان آغا سید روح اللہ نے عمران انصاری پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست میں 50برسوں تک اقتدار میں نہیں تھی لہٰذا عمران انصاری کو ہرزہ سرائی کرنے سے قبل تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
ان کی بے تکی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ پارٹی کے بانی مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے زندگی کی دو دہائیاں زنداں خانوں میں گزاری اور صرف قلیل وقفے تک ریاست کے اقتدار پر براجمان رہے۔پارٹی ترجمان نے بتایا کہ شیخ عبداللہ نے بے زبان انسانوں کو زبان دی اور اس طرح انہوں نے غریب اور کمزور لوگوں کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیا۔ یہ مرحوم شیخ عبداللہ ہی تھے جنہوں نے کسانوں کو یہاں کی زمین کاشت کاری کے لیے فراہم کی، جبری مزدوری پر قدغن عائد کرنے کے ساتھ ساتھ عوام دوست انتظامیہ فراہم کی۔
شیخ عبداللہ نے ریاست کے تعلیمی اور طبی ڈھانچے میں ایک انقلاب بپا کیا اور اس طرح ان کی خدمات ناقابل فرامو ش ہے۔روح اللہ نے بتایا کہ فلسفیوں، قلم کاروں، ادیبوں، سیاست دانوں نے مرحوم شیخ عبداللہ کی خدمات کا اعتراف کیا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ عمران انصاری اقتدار پرست شخص ہے اور اسمبلی کے تحلیل نے ان کے جملہ خوابوں کو چکنا چور کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سدھرا لینڈ اسکینڈل، انکم ٹیکس، پی این بی بے ضابطگیوں کے علاوہ دیگر زمین کو ہڑپنے جیسے معالات انصاری خاندان کا طرہ امتیاز ہے۔
۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انصاری خاندان کی وفاداری وقت کے ساتھ ساتھ کروٹ لیتی گئی جنہوں نے ابتدا سے ہی ایک پارٹی سے نکل کر دوسری میں جگہ بنانے کی کوشش کی۔کبھی انہوں نے جنتا پارٹی کے ساتھ دیا تو کبھی کانگریس کے جھولی میں گر کر ان کے گیت گانے لگے ۔ اسی طرح وہ این سی ، پی ڈی پی کے بعد اب پیپلز کانفرنس میں نمودار ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ عمران انصاری نے اب آر ایس ایس کی ہدایت پرسجاد لون کی پارٹی میں شمولیت کرتے ہوئے ماضی کے دھاگ دھبوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کی ہے۔این سی ترجمان نے بتایا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ریاستی عوام انہیں منہ توڑ جواب دیں گے اور اس طرح عمران انصاری جیسے ’پوسٹر بوائے‘ اور آر ایس ایس کے درپردہ لوگوں کو ریاستی عوام مسترد کریں گے۔روح اللہ نے بتایا کہ عمران انصاری نے نیشنل کانفرنس میں شامل ہونے کے لیے بہت کوشش کی تاہم اُن کی موقعہ پرست سیاست کو دیکھنے ہوئے انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔این سی ترجمان نے بتایا کہ عمران انصاری نے جو طعنہ زنی کی ہے اس سے موصوف کی موقعہ پرست سیاست کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔
ہندوستان
سی بی ایس ای کے او ایس ایم سائبر سکیورٹی تنازع پر کانگریس نے کی وزیر تعلیم کے استعفے کی مانگ
نئی دہلی، کانگریس نے پیر کو مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے ‘آن اسکرین مارکنگ’ (او ایس ایم) نظام میں سائبر سکیورٹی میں نقب زنی کے تعلق سے مرکزی حکومت پر اپنا حملہ تیز کر دیا ہے۔ پارٹی نے وزارت تعلیم سے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی مانگ کی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (انچارج مواصلات) جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ سی بی ایس ای نے شروع میں اپنے ڈیجیٹل ایویلیوشین پلیٹ فارم میں خامیوں سے انکار کیا تھا، لیکن آخر کار اس نے تسلیم کر لیا کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی تھی۔ انہوں نے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور حکام پر الزام لگایا کہ وہ اس کمپنی کی خراب کارکردگی کے خدشات کے باوجود اسے بچا رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے ‘ایکس’ پر پوسٹ میں کہا، “ہفتوں تک اپنے ‘آن اسکرین مارکنگ’ نظام میں سائبر سکیورٹی کی خامیوں سے انکار کرنے کے بعد سی بی ایس ای نے آخر کار تسلیم کر لیا ہے کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی ہے۔”
کانگریس رہنما نے سوال کیا کہ کیا اس سسٹم کو چلانے کے لیے ذمہ دار ٹھیکیدار کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا، “لیکن وہ اپنے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے خلاف کیا کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔” جے رام رمیش نے مزید دعویٰ کیا کہ معاہدہ سے پہلے ٹینڈر کی شرائط میں کی گئی تبدیلیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وینڈر کو بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔
ان کے مطابق، اگست 2025 میں جاری سی بی ایس ای کے ‘ریکویسٹ فار پروپوزل’ (آر ایف پی) میں ان دفعات کو برقرار رکھا گیا تھا، جو مؤثر طریقے سے کام نہ کرنے والے وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کو اختیار دیتے تھے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ اگلے ہی مہینے جاری ایک ترمیمی خط کے ذریعے ایسی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کا اختیار ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ سی بی ایس ای اور وزارت تعلیم میں بیٹھے ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے مددگاروں کو پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ ٹھیکیدار کمپنی اس کام کے لائق نہیں ہوگی۔” انہوں نے اس تبدیلی کو ‘سی او ای ایم پی ٹی کو بچانے کی کوشش اور حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی سرگرمی’ بتایا، جو کمپنی کو باقاعدہ طور پر کانٹریکٹ ملنے سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔
یہ تنازع پرچوں کے ڈیجیٹل ایویلیوشن کے لیے سی بی ایس ای کے زیر استعمال او ایس ایم نظام سے جڑا ہے، جو ملک بھر کے لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی عمل کا انتہائی اہم حصہ ہے۔ سائبر سکیورٹی کی خامیوں اور جانچ کے عمل کی شفافیت کے تعلق سے پیدا ہوئے خدشات نے سیاسی تنقید کو ہوا دی ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتیں اس سسٹم کے انتظام اور اس سے متعلق کانٹریکٹ دیے جانے کے معاملے میں مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حکومت پر حملے کو اور تیز کرتے ہوئے جے رام رمیش نے وزارت تعلیم پر ان بے ضابطگیوں کو شہ دینے کا الزام لگایا، جنہوں نے ان کے دعوے کے مطابق طلبہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا، “ملک کو کب تک ایسے ‘وزیر پردھان’ کو برداشت کرنا پڑے گا، جن کی وزارت نے اپنے ٹینڈروں میں ایسی ناقابل تصور بے ضابطگیوں کو ہونے دیا اور اوربڑھاوا دیا، جس سے لاکھوں طلبہ کا ذہنی سکون چھن گیا؟” کانگریس رہنما نے عوامی عہدے پر جوابدہی کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر تعلیم کو بھی نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش نے کہا، “وزیر پردھان کو اپنے ‘راج دھرم’ پر عمل کرنا چاہیے اور استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ان الزامات پر وزارت تعلیم، سی بی ایس ای یا سی او ای ایم پی ٹی کی طرف سے فی الحال کوئی فوری ردعمل نہیں آیا ہے۔
بورڈ نے پہلے یہ رخ اپنایا تھا کہ وہ اپنے امتحان اورایویلیوشن نظام کی سکیورٹی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان تازہ بیانات نے سی بی ایس ای کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے کام کاج کو لے کر چل رہے سیاسی تنازع کو اور بڑھا دیا ہے، جس میں اپوزیشن سائبر سکیورٹی کے اقدامات، خریداری کے طریقہ کار اور تعلیمی نظام کے اندر جوابدہی پر جواب مانگ رہی ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا
ایران امریکہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے: ایران
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بلاشبہ تمام محاذوں پر جنگ بندی ہے، جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔
اپنے بیان ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ترکیہ۔آذربائیجان گیس سپلائی منصوبہ شام کی ترقی میں مدد کرے گا: اردوعان
انقرہ۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے کہا ہے کہ شام کے لئے ترکیہ۔آذربائیجان مشترکہ گیس سپلائی اقدام اس ملک کی ترقی اور علاقائی سلامتی میں معاون ثابت ہوگا۔
پیر کے روز باکو انرجی ہفتے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں صدر اردوعان نے کہا ہے کہ “ترکیہ۔آذربائیجان مشترکہ منصوبے کے نتیجے میں شام کو گیس کی فراہمی کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ قدم اس ملک کی ترقی اور علاقائی سلامتی میں ناقابلِ تردید کردار ادا کرے گا”۔ انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے توانائی کے شعبے میں آذربائیجان کے ساتھ مل کر اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ دونوں ممالک اُن بڑے بڑےمنصوبوں کوعملی جامہ پہنا رہے ہیں جو کبھی ناممکن سمجھے جاتے تھے۔
انہوں نے، آذربائیجان کے ساتھ مل کر شروع کئے گئے اور جارجیا کے تعاون سے مکمل ہونے والے، باکو۔تبلیس۔جیہان، باکو۔
تبلیس۔ارض روم اور ٹرانس اناطولیائی قدرتی گیس پائپ لائن منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ صدر اردوعان نے کہا ہے کہ ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان تعاون، آذری۔چراغ۔گنیش لی اور شاہ دنیز شراکت داریوں کے ذریعے مزید گہرا ہوا ہے۔ شاہ دنیز میں “شفق۔آسیمان” شراکت داری اس بات کی علامت ہے کہ دوطرفہ توانائی تعاون بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
اردوعان نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ سال فعال ہونے والی ائیغدر۔ناہچیوان گیس پائپ لائن نے آذربائیجان کے علاقے ناہچیوان میں توانائی کی سلامتی کو تقویت دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان بجلی کے رابطے بھی اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں اور ترکیہ، آذربائیجان، جارجیا اور بلغاریہ کے درمیان جاری “گرین الیکٹرک ٹرانسمیشن اینڈ ٹریڈ” منصوبے سے وسیع خطے کی توانائی سلامتی میں اضافہ متوقع ہے۔
خطے کے توانائی راستوں پر بات کرتے ہوئے صدر اردوعان نے کہا ہے کہ براستہ آذربائیجان اور ترکیہ ترکمان گیس کی برآمد نے تعاون میں فروغ کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ باکو۔تبلیس۔جیہان پائپ لائن، قزاقستان کے قدرتی وسائل کو مغربی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے،اب بتدریج زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔ صدر نے کہا ہے کہ بشمول قابلِ تجدید اور سبز توانائی ترکیہ کی پالیسی توانائی کے تمام شعبوں میں موثر کارکردگی، کفایت اور ماحولیات کے احترام پر مبنی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا ہے کہ ترکیہ 9 تا 20 نومبر انطالیہ میں COP31 کانفرنس کی میزبانی کرے گا، جس سے عالمی موسمیاتی اقدامات میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا3 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا






























































































