تازہ ترین
قیدیوں کے تئیں سلوک یو این چارٹر کی صریح خلاف ورزی: گیلانی

خبراردو: حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے اندرون و بیرون ریاست کی جیلوں میں مقید حریت پسندنظر بندوں کی حالت زار پر گہری تشویش اور فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارت کے انتقام گیرانہ رویے کےساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ انسانی حقوق کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا.
حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے ریاست اور ریاست سے باہر بھارت کے جیل خانوں میں مقید حریت پسند نظربندوں کی حالت زار پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے فاشسٹ نظریہ رکھنے والے ارباب اقتدار کی طرف سے حریت پسند سیاسی نظربندوں کو بدترین قسم کی انتقام گیری کا نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ انسانی حقوق چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کس قدر ایک المیہ ہے کہ پوری دنیا میں حق خودارادیت کو ایک پُرامن اور جمہوری فارمولہ تسلیم کیا گیا ہے، لیکن ریاست جموں کشمیر کے عوام کو اس بنیادی حق سے محروم کرتے ہوئے اس کو فوجی طاقت کے ذریعے دبائے جانے کے مذموم ہتھکنڈے استعمال میں لائے جارہے ہیں۔
گیلانی نے جامع مسجد سرینگر کے گردونواح میں رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے روز عین نماز کے وقت عوام بالخصوص اور نوجوانوں پر طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے انہیں مضروب کرنا اور پولیس تھانوں میں گرفتار کرکے لے جانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان استبدادی حربوں سے یہاں کی نوجوان نسل کو پشت بہ دیوار کرنا سنگین نتائج کا غماز ہوسکتا ہے۔ انہوں نے جملہ اسیران زندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی ان قیدیوں کے ساتھ ظالم جیل حکام کی طرف سے کوئی نرمی نہیں برتی جاتی ہے۔ انہیں بیت الخلاءجیسی تنگ وتاریک سیلوں میں مقید کرکے اسی حالت میں نماز، روزہ اور دوسری عبادات انجام دینے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔
انہیں ناقص اور قلیل مقدار میں غذائی اجناس فراہم کی جارہی ہیں جس وجہ سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔انہیں مدّت دراز تک مکمل لاک اپ میں ایام اسیری گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور ان سے ملاقات کے لیے آنے والے رشتہ داروں کو مناسب وقت فراہم نہیں کیا جارہا ہے، یہاں تک کہ ان کے علاج ومعالجے کی طرف خواطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ انہوںنے ان مشکل ترین حالات میں ایام اسیری گزارنے والے حریت پسند نظربندوں کے صبرو استقلال اور عزم صمیم کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہ محبوسین رواں جدوجہدِ آزادی کا ایک سرمایہ افتخار ہے۔ انہوں نے جملہ آزادی پسند حریت قائدین وکارکنان بشمول محمد یٰسین ملک، مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ ڈاکٹر عبدالحمید فیاض، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، عبدالغنی بٹ، شیخ محمد رمضان، شکیل احمد یتو، عبدالاحد پرہ، مشتاق احمد ویری، عبداللہ ناصر، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، محمد ایوب ڈار ، طارق احمد، مظفر احمد ڈار، محمد حسین، پیر محمد اشرف، مشتاق احمد حرہ، یٰسین احمد ہرہ، سمیع اللہ، اسد اللہ پرے، حکیم شوکت، معراج الدین نندہ، بشارت بزاز، طارق احمد پنڈت، محمد حسین، ہلال احمد بیگ، نور محمد کلوال، بشیر احمد بٹ، ایڈوکیٹ زاہد علی، اشتیاق احمد وانی، ڈاکٹر محمد سلیم، مولانا سرجان برکاتی، عبدالحی، ظہور احمد وٹالی، سید شاہد یوسف، سید شکیل احمد، آصف سلطان اور عبدالرشید شگن کے علاوہ ہزاروں محبوسین جوکہ بھارت کے بدنام زمانہ قید خانوں بشمول تہاڑ، جودھپور، ججر، ہریانہ، کٹھوعہ، کورٹ بھلوال، ریاسی، اُدھمپور، امپھلا، سینٹرل جیل سرینگر، بارہ مولہ، مٹن اور کپوارہ میں نظربند ہیں کو شاندان الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا ۔
حریت(گ) چیرمین نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن، عالمی ریڈکراس، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیا واچ سے مطابہ کیا کہ وہ بھارت کے ان جیل خانوں کا از خود مشاہدہ کریں اور بھارت کی طرف سے قیدیوں کے تئیں ظالمانہ روش پر روک لگائے جانے کا اہتمام کریں۔
ہندوستان
کانگریس کا ذات پات پر مبنی مردم شماری میں تاخیر پر سوال، وزیر اعظم سے معافی اور وضاحت کا مطالبہ
نیو دہلی، کانگریس نے جمعرات کو ملک گیر سطح پر ذات پات پرمبنی مردم شماری میں تاخیر پر مرکز پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جس میں سینئر لیڈر جے رام رمیش نے حکومت پر اس مسئلے پر “ڈرامائی یو ٹرن” لینے کا الزام لگایا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے وضاحت طلب کی ہے۔ حکومت کی جانب سے آئندہ مردم شماری میں ذات پات پر مبنی گنتی کو شامل کرنے کے اعلان کے ایک سال مکمل ہونے پر جاری ایک تفصیلی بیان میں، رمیش نے کہا کہ آج سے ٹھیک ایک سال پہلے مودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پوری آبادی کی ذات پات پرمبنی گنتی مردم شماری کا حصہ ہوگی لیکن ایک پورا سال گزرنے کے باوجود اس بات کی تفصیلات کہ یہ کام کیسے انجام دیا جائے گا، ابھی تک انتظار میں ہیں۔
انہوں نے حکومت کے بدلتے ہوئے موقف کا خاکہ پیش کرتے ہوئے یاد دلایا کہ 21 جولائی 2021 کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا کو مطلع کیا تھا کہ پالیسی کے طور پر ذات پات کے لحاظ سے آبادی کا شمار نہیں کیا جائے گا۔ رمیش نے ستمبر 2021 میں سپریم کورٹ میں مرکز کی طرف سے دائر کردہ ایک حلف نامے کی طرف بھی اشارہ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس طرح کی مشق کرنے کی کوئی بھی ہدایت حکومت کے پہلے سے کیئے گئے پالیسی فیصلے میں مداخلت کے مترادف ہوگی۔ کانگریس لیڈر نے پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی خط و کتابت کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے 16 اپریل 2023 کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر زور دیا تھا کہ باقاعدہ مردم شماری کے حصے کے طور پر اپ ڈیٹ شدہ ذات پات کی مردم شماری کو شامل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے 28 اپریل 2024 کے ایک انٹرویو میں اس مطالبے کو “اربن نکسل” سوچ کی عکاسی قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔ رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم اس الزام کے لیے انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت سے معافی کے مقروض ہیں اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے عوام کو اس پوزیشن میں اچانک تبدیلی کے لیے وضاحت دینے کے پابند ہیں جب انہوں نے 30 اپریل 2025 کو ذات پات پر مبنی گنتی کا اعلان کیا تھا۔ رمیش نے الزام لگایا کہ اعلان کے باوجود بہت کم پیش رفت یا شفافیت نظر آئی ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں، ریاستی حکومتوں یا ماہرین کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی گئی کہ اتنی پیچیدہ اور حساس مشق کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 5 مئی 2025 کو کھرگے کی جانب سے وزیر اعظم کو بھیجے گئے ایک اور خط کا اعتراف تک نہیں کیا گیا جس میں مجوزہ ذات پات پرمبنی مردم شماری پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ کانگریس لیڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سمیت حالیہ پیش رفت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حکومت اس مشق میں تاخیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ واضح ہے کہ وزیر اعظم کا ارادہ ذات پات پرمبنی مردم شماری کو ملتوی کرنے کا ہے۔ ذات پات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ ایک سیاسی طور پر متنازعہ مسئلہ رہا ہے جس میں اپوزیشن جماعتوں کا استدلال ہے کہ باخبر پالیسی سازی اور سماجی انصاف کے اقدامات کے لیے اپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا ضروری ہے، جبکہ حکومت ماضی میں انتظامی اور پالیسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
دنیا
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
ویانا، امریکہ اور ایران کی حالیہ کشیدہ صورت حال کے سبب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس کروڈ 7.5 ڈالر اضافے کے ساتھ 107.46 ڈالر فی بیرل ہوگیا، جبکہ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل8.17ڈالر بڑھ کر 119.43ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ابوظبی عالمی بینچ مارک مربان کروڈ 2.61ڈالر اضافے سے 109.3ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی قیمت 117 ڈالرز فی بیرل کی سطح عبور کرگئی تھی۔ جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس خام تیل کی قیمت بڑھ کر 105 فی بیرل ہوگئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تیل صرف 67.02 ڈالرز پر دستیاب تھا، جو اب تقریباً 100 ڈالرز سے تجاوز کرچکا ہے۔ جنگ سے پہلے برینٹ خام تیل کی قیمت 73 ڈالرز فی بیرل تھی، جس میں اب تک 37 ڈالرز سے زائد کا ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آسکتا ہے۔
خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہیں، ان کے تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
ماسکو، روسی صدر پوتن نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے جوہری پروگرام پر تجاویز پیش کر دیں۔
روسی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی خطے پر تبادلہ خیال کیا ۔ پوتن نے ٹرمپ کے ساتھ ایران جنگ سے گفتگو کی اور ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے خیالات کا اظہار کیا۔
ماسکو ایران کے خلاف کسی بھی امریکی زمینی کارروائی کو خطرناک پیشرفت سمجھتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی فون کال میں ایران ،خلیج کی صورتحال پرتبادلہ خیال ہوا۔ کریملن کا کہنا ہے کہ روسی صدر نے امریکی صدر سے فون پر ایران کے جوہری پروگرام پر تجاویز پیش کیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان5 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
ہندوستان5 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا6 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر2 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ








































































































