تازہ ترین
وادی میں 300جنگجو سرگرم، 250دراندازی کی تاک میں: جنرل اے کے بھٹ

خبراردو:
جی او سی 15ویں کور لفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ نے بتایا کہ وادی کشمیر میں فی الوقت 300جنگجو متحرک ہیں جبکہ سرحد کے دوسری جانب چلائے جارہے لانچنگ پیڈوں پر 250جنگجوؤں اس پار دراندازی کی تاک میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے آنے والے موسم سرما کے دوران لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر دراندازی کی کوششوں میں اضافے کی پیشن گوئی کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر تعینات فوجی و فورسز اہلکار جنگجوؤں کی طرف سے اس پار داخل ہونے کی کوششوں کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے سرحدوں پر جاری سیکورٹی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ سرحد کی دوسری طرف تربیتی مراکز میں اس وقت 250جنگجو موجود ہیں جو دراندازی کی تاک میں بیٹھے ہیں۔
سرحدی ضلع کپوارہ کے کیرن سیکٹر میں 15دنوں پر محیط عوامی میلے کی اختتامی تقریب پر فوج کے 15ویں کور کے کمانڈر نے بتایا کہ وادی کشمیر میں امن دشمن عناصر اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے پرتول رہے ہیں جس کے لیے سرحد پار قائم کئے گئے لانچنگ پیڈوں میں 250کے قریب درانداز اس پار داخل ہونے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔وادی کشمیر میں جاری سیکورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں 300کے قریب جنگجو سرگرم عمل ہیں جن کا تعلق مختلف تنظیموں سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وادی میں سرگرم جنگجوؤں میں غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد بھی شامل ہیں۔ لفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ نے بتایا کہ اگر چہ سرحد پار بیٹھے جنگجو یہاں داخل ہونے کا منصوبہ ترتیب دے رہے ہیں تاہم سرحدوں پر تعینات فوج و فورسز جنگجوؤں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ فوج وادی کے اندر بھی دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرکے امن دشمن عناصر کے خلاف صف آرا ہیں وہیں دوسری طرف سرحدوں پر بھی ہمارے جوان ڈٹے ہوئے ہیں جو جنگجوؤں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ موسم سرما قریب ہے جس دوران دراندازی کی کوششوں میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کا امکان ہے تاہم سرحدوں پر تعینات فوجی اہلکاروں کے پاس ایسا سسٹم موجود ہیں جس سے وہ جنگجوؤں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہر ہمیشہ ہماری مکمل حمایت کی جس کے لیے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو فوج میں روزگار فراہم کریں۔ ہم کوشش کریں گے کہ یہاں کے نوجوانوں کو ہم فوج میں بھرتی کرکے ملک وقوم کی خدمت کرنے کا موقعہ فراہم کریں گے۔بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کو پرامن طور پر منعقد کرانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پولیس، سی آر پی ایف کے تعاون سے فوج بھی انتخابات کو پرامن طور پر منعقدد کرانے میں اپنا رول ادا کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ فوج چوبیسوں متحرک ہے اور امن کو زک پہنچانے والے عناصر پر کڑی نگاہ رکھی ہوئی ہیں۔
دنیا
لبنان سیز فائر کی خلاف ورزی، اسرائیلی کی متعدد قصبوں پر شدید بمباری: لبنانی میڈیا
بیروت، اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان سیز فائر کی خلاف ورزی جاری، لبنان کے متعدد قصبوں پر شدید بمباری کی گئی۔
لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں خیام، بنت جبیل اور البیادہ پر حملے کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور لبنان کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل سے جڑے جنوبی لبنان میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھی گئی، اسرائیلی دھکمیوں کے باوجود لبنانی سڑکوں پر نکل آئے۔ عرب میڈیا کے مطابق لبنان کے عوام نے پلوں کی بحالی اپنی مدد آپ کے تحت کی، جنوبی لبنان میں دریا لیتانی پر تباہ شدہ پل دوبارہ بحال کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جب تک لبنان میں فائر بندی جاری ہے ہُرمز کھُلا رہے گا:ایران
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل طور پر کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
عباس عراقچی نے آج بروز جمعہ ‘ایکس’ سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “آبنائے ہُرمز کو، لبنان میں فائر بندی سے متوازی شکل میں اور ایران پورٹ اینڈ میری ٹائمز کمیٹی کے اعلان کردہ راستوں سے ، تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل شکل میں کھُلا رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے”۔
امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا اورجمعہ کو اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ پلیٹ فارم پر “شکریہ!” لکھ کر کہا ہے کہ “ایران نے اس آبی راستے کو مکمل طور پر کھولنے اور مکمل ٹرانزٹ کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم تہران کے ساتھ امن معاہدہ ہونے تک ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی”۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی کے حملوں کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت انتہائی محدود رہی ہے۔ ہفتے کے آخر میں ہونے والے معمولی اضافے کے علاوہ آبنائے سے یومیہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد دہائیوں تک نہیں پہنچ سکی۔ امریکی بحریہ کی حالیہ پابندیوں کے تحت جہازوں کے مالکان کے لیے خلیج سے تیل اور دیگر اشیاء باہر نکالنے کے لیے ایرانی اور امریکی حکام، دونوں سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس پابندی نے کارگو کی روانی سے متلق غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ ہفتے غیر ایرانی خام تیل لے جانے والے تین سپر ٹینکر آبنائے سے نکلنے میں کامیاب رہے لیکن ناکہ بندی نافذ ہونے سے پہلے کے سات ہفتوں کے دوران بھی اس آبنائے سے بہت کم کارگو گزر سکا ہے۔
‘شالامار’ نامی ٹینکر نے سب سے پہلے اتوار کے روز خلیج میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن امریکہ۔ایران امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹینکر واپس مڑ گیا تھا۔ بعد ازاں اس نے اپنا سفر مکمل کیا اور ‘داس آئی لینڈ’ کی طرف روانہ ہوا، جہاں سے خام تیل لادنے کے بعد وہ جمعرات کو مشرق کی جانب روانہ ہو گیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ تین دنوں میں 14 جہاز واپس مڑ گئے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے جہازوں کے مالکان موجودہ حالات میں آبنائے سے گزرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ بحری ناکہ بندی عمان کے ساحل پر ‘راس الحد’ کے قریب سے لے کر ایران اور پاکستان کی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں کشمیر میں کالعدم جماعتِ اسلامی اور ایف اے ٹی سے وابستہ 58 پرائیویٹ اسکول حکومت کی تحویل میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم تنظیم جمعات اسلامی اور اس کی تعلیمی شاخ فلاحِ عام ٹرسٹ سے وابستہ 58 نجی اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
یہ کارروائی اس اقدام کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کی گئی ہے، جب حکومت نے جماعت سے منسلک 215 اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا۔ واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ نے 2019 میں جماعتِ اسلامی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
جموں و کشمیر کے محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے مزید 58 فعال اسکولوں کی نشاندہی کی ہے، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جماعتِ اسلامی یا فلاحِ عام ٹرسٹ سے منسلک پائے گئے ہیں۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ ان اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے یا ان کے خلاف خفیہ رپورٹ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ماتحت محکمۂ تعلیم نے ضلع مجسٹریٹس/ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان اسکولوں کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیں اور مناسب جانچ کے بعد نئی انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز پیش کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولی تعلیم کے محکمے کے ساتھ مشاورت اور تال میل کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
حکم جاری ہونے کے بعد حکام نے ہفتہ کے روز ان اسکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ان 58 اداروں میں سے سب سے زیادہ 29 بارہمولہ ضلع میں ہیں، جبکہ پلوامہ میں 7، کولگام اور کپواڑہ میں 5-5 اسکول شامل ہیں۔ اننت ناگ اور بڈگام میں 4-4 جبکہ بانڈی پورہ میں 2 اسکولوں کو کنٹرول میں لیا گیا ہے، جب کہ شوپیان اور سری نگر میں ایک ایک اسکول شامل ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
ہندوستان1 week agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
دنیا1 week agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر5 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا5 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
جموں و کشمیر1 week agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
دنیا5 days agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا7 days agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
دنیا7 days agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
جموں و کشمیر7 days agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل









































































































