دنیا
یہ ملک مسلمانوں، ہندوؤں، بدھوں اور عیسائیوں کا ہے: طارق رحمان

ڈھاکہ، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے کارگزار صدر طارق رحمان، جو برطانیہ میں 17 سال کی جلاوطنی گزارنے کے بعد وطن واپس آئے ہیں، نے جمعرات کو اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ یہ ملک تمام مذاہب کے لوگوں کا ہے اور 1971 کی طرح 2024 میں بھی بنگلہ دیش کی آزادی کے تحفظ کے لیے سب اکٹھے ہوئے ہیں۔
مسٹر رحمان نے اپنے وطن واپس آنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ مسٹر رحمان نے اپنے حامیوں کو سلام کیا۔
عوام سے کسی قسم کی اشتعال انگیزی کا جواب نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح 1971 میں ملک کو آزادی ملی تھی اسی طرح 2024 میں بھی بنگلہ دیش کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام طبقات کے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں۔
“آج بنگلہ دیش کے لوگ آزادی اظہار رائے کا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے جمہوری حقوق کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب اکٹھے ہوں اور ملک کو بنائیں۔ یہ ملک پہاڑوں اور میدانوں کے لوگوں کا ہے، مسلمانوں، ہندوؤں، بدھوں اور عیسائیوں کا ہے۔ ہم ایک محفوظ بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر عورت، مرد اور بچے محفوظ طریقے سے اپنے گھر واپس جاسکیں”۔
مسٹر رحمان نے کہا، “مختلف قوتوں کے ایجنٹ اب بھی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہمیں صبر کرنا ہوگا۔ ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔”
طالب علم رہنما عثمان ہادی کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر رحمان نے کہا کہ ہادی چاہتے تھے کہ ملک کے عوام اپنے معاشی حقوق دوبارہ حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے 1971 اور 2024 میں شہید ہونے والوں کے خون کا قرض چکانا ہے تو ہمیں وہ بنگلہ دیش کو بنانا ہوگا جس کا ہم سب خواب دیکھتے ہیں۔
بی این پی رہنما نے کہا کہ نوجوان مستقبل میں ملک کی قیادت کریں گے اور انہوں نے ایک مضبوط اقتصادی بنیاد کے ساتھ ایک جمہوری بنگلہ دیش کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مسٹر رحمان نے کہا کہ نوجوان مستقبل میں ملک کی قیادت کریں گے اور ایک مضبوط اقتصادی بنیاد کے ساتھ ایک جمہوری بنگلہ دیش کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی تاریخی ‘I Have a Dream’ تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے، مسٹر رحمان نے کہا، “امریکی شہری حقوق کے کارکن مارٹن لوتھر کنگ نے ایک تقریر میں کہا، ‘میرا ایک خواب ہے۔’ ان کی طرح، میں بھی کہنا چاہتا ہوں، میرے پاس بنگلہ دیش کے لیے ایک منصوبہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ملک کی تعمیر کے منصوبے ہیں اور ان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ہر شہری کا تعاون درکار ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی والدہ، بی این پی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی صحت یابی کے لیے دعا کرنے کو بھی کہا۔ اس موقع پر موجود تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر کام کریں گے اور اپنا بنگلہ دیش بنائیں گے۔
قبل ازیں، مسٹر رحمان جمعرات کی صبح بنگلہ دیش واپس آئے اور ڈھاکہ کے مشرقی علاقے میں ایک ریلی میں شرکت کی۔ ریلی میں بی این پی کے ہزاروں حامیوں نے شرکت کی، جس کی وجہ سے انہیں مرکزی مقام تک پہنچنے کے لیے دو گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔
جیسے ہی مسٹر رحمان کو لے جانے والی بس اسٹیج پر پہنچی، وہاں موجود لوگوں نے “طارق ضیاء!” کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اس کی حفاظت کے لیے ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔
سیکورٹی فورسز نے مسٹر رحمان کو لے جانے والی بس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا اور آہستہ آہستہ اسے اسٹیج کی طرف لے گئے۔ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی بھیڑ کی وجہ سے گاڑی انتہائی سست رفتاری سے چل رہی تھی۔ جیسے ہی مسٹر رحمان اترے اور اسٹیج کی طرف بڑھے، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش اور فوج کے اہلکاروں نے ان کے گرد گھیرا باندھا اور آگے بڑھنے میں ان کی مدد کی۔
قابل ذکر ہے کہ جب مسٹر رحمان آج صبح وطن واپس آئے تو ہوائی اڈے پر ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کا ہجوم ان کے استقبال کے لیے جمع تھا۔ حامی اور کارکن سڑکوں پر نکل آئے، بی این پی کے جھنڈے اور بینرز اٹھائے اور پرجوش طریقے سے مسٹر رحمان کا استقبال کیا۔ ان کی اہلیہ زبیدہ رحمان اور بیٹی زائمہ رحمان بھی موجود تھیں۔
مسٹر رحمان نے چیف ایڈوائزر محمد یونس کا بنگلہ دیش پہنچنے پر ان کے اور ان کے خاندان کے لیے کیے گئے حفاظتی انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔ وہ صبح 11 بج کر 41 منٹ پر حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے وزیراعظم کا مکمل احترام کرتے ہیں جو بہت خوبصورت بات ہے: صدر ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیراعظم عظیم ہیں، پاکستانی رہنماؤں نے ایران سے ڈیل میں بہت مدد دی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر عظیم آدمی ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم بھی عظیم ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے وزیراعظم کا مکمل احترام کرتے ہیں جو بہت خوبصورت بات ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستانی رہنماؤں نے ایران سے ڈیل میں بہت مدد دی، پاکستانی قیادت ایرانی قیادت اور ایرانی قوم کو جانتی تھی۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر سمتبر میں امریکہ کا دورہ کریں گے، ایران کے معاملے میں چین نے بھی اہم کردار اداکیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین ایران سے اپنی ضروریات کا 50 فیصد تیل خریدتا ہے۔
اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے بہترین تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ رواں سال کسی وقت دوبارہ چین جاؤں گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے معاملے میں چین نے اہم کردار ادا کیا، رواں برس دوبارہ چین جاؤنگا: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں چین نے اہم کردار ادا کیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین ایران سے اپنی ضروریات کا 50 فیصد تیل خریدتا ہے تاہم ایران کے معاملے میں چین نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ چینی صدر ستمبر میں امریکہ کا دورہ کریں گے اور میں رواں سال کسی وقت دوبارہ چین جاؤں گا۔
اسرائیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے بہترین تعلقات ہیں۔
دوسری جانب امریکی ویب سائٹ کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کیوبا کے خلاف وینزویلا طرز پر کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائی یقیناً ممکن ہے تاہم اس کے لیے کوئی ڈیڈلائن نہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ
واشنگٹن، امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا پہلا دور وہیں منعقد ہوگا۔
یہ اطلاع خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے دی ہے۔ عہدیدار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مذاکرات کے لیے کوئی نیا وقت طے کیا گیا ہے یا نہیں۔ بات چیت جمعہ کو شروع ہونے والی تھی، لیکن لبنان میں اسرائیل اور اور لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان لڑائی کی وجہ سے اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کرنے والے تھے، لیکن انہوں نے جمعرات کو اپنا دورہ ملتوی کر دیا اور ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ آیا وہ ہفتے کے اختتام تک سوئٹزرلینڈ جائیں گے یا نہیں۔
واضح رہے کہ 14 جون کو ایران اور امریکہ نے تصدیق کی تھی کہ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر کام مکمل ہو چکا ہے۔
دونوں ممالک نے 18 جون کی شب اس دستاویز پر دستخط کیے، جس میں 28 فروری سے جاری فوجی تنازع کے خاتمے کی شق شامل ہے۔
اس مفاہمتی یادداشت کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کو ایرانی جوہری مسئلے اور امریکی پابندیوں کے حوالے سے حتمی معاہدے پر مذاکرات کے لیے 60 دن کی مہلت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ امریکہ کے لئے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران کے لئے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کی ایک متعین مدت مقرر کی گئی ہے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان7 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا5 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا7 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا5 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر7 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا7 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا5 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
ہندوستان2 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا3 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر کی تاریخِ پیدائش میں رد و بدل کے مقدمے میں ڈی سی ایم او شوپیاں کے دفتر اور رہائش گاہ پر چھاپہ


































































































