تازہ ترین
دم ہے تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں: سجاد لون بنام محبوبہ مفتی

خبراردو:
پیپلز کانفرنس چیرمین اور سابق وزیر سجاد غنی لون جمعہ کو ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران سابق حکمران جماعت پی ڈی پی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی میں دم موجود ہے تو ریاستی اسمبلی کے تحلیل ہونے پر وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر دکھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ بتایا کہ ریاست میں حکومت سازی کے لیے درکار مطلوبہ تعداد پیپلز کانفرنس کے پاس موجودہے تاہم اس کے باوجود بھی پارٹی گورنر کے فیصلے کو قبول کرتی ہے۔ سجاد لون نے پارٹی میں شامل ہوئے نئے چہرے اور پی ڈی پی کے سابق ممبر عمران رضاانصاری کی موجودگی میں میڈیا کو بتایا کہ اگر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے اندر دم ہے تو وہ اسمبلی تحلیل کے معاملے پر عدالت کا دروزہ کھٹکھٹا کر دکھائیں۔ پی ڈی پی پر برستے ہوئے سجاد غنی لون نے بتایا کہ ریاست میں حکومت سازی کے حوالے سے پی ڈی پی نے جو ڈرامہ شروع کیا وہ سب دھوکہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت سازی کے حوالے سے کبھی بھی مخلص نہیں تھی اور اب جو کچھ بھی وہ کہہ رہے ہیں وہ سب جھوٹ ہے۔’’ریاست کی خصوصی شناخت کے تحفظ کی خاطر جو اتحاد کا نعرہ انہوں نے دیا وہ ایک بھونڈا مذاق تھا۔ میں محبوبہ مفتی سے کہنا چاہتا ہوں کہ خدارا لوگوں کو فریب نہ دیں۔پی ڈی پی، این سی اور کانگریس کی طرف سے اتحاد کا ڈراما کیا گیا اُس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں نے ریاست جموں وکشمیر کو اپنی جاگیر سمجھ کے رکھا ہے اور یہاں حکومت سازی کے حوالے سے کسی اور کو جگہ فراہم کرنے کے خواہاں نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے پی ڈی پی پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ جن کانگریس والوں کے ساتھ پی ڈی پی اتحاد کرنا چاہتی تھی انہوں نے 95مرتبہ ریاست کی خصوصی شناخت کو زک پہنچایا ہے جبکہ اس دوران 52مرتبہ انہوں نے ریاستی آئین میں ترامیم کیں۔سجاد لون نے بتایا کہ میں کوئی فرشتہ صفت انسان نہیں ہوں مگر این سی اور پی ڈی پی والے بھی پاک نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گورنر کی طرف سے اسمبلی کو تحلیل کئے جانے سے اگر پی ڈی پی ناراض ہے تو میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ عدالت کا دروزہ کھٹکھٹائیں۔میں پرامید ہوں کہ وہ عدالت سے انصاف حاصل کریں گی۔ایک سوال کے جواب میں سجاد غنی لون نے بتایا کہ میرے پاس گزشتہ پانچ مہینوں کے دوران موجودہ تعداد مہیا نہیں تھی تاہم رفتہ رفتہ میں نے اس تعداد کو حاصل کرلیا۔ انہوں نے بتایا پی سی کے پاس تعداد مزید بڑھ رہی ہے اور ہم کسی کو بھی پارٹی کے اندر آنے سے روک نہیں سکتے۔پریس کانفرنس کے دوران پی سی چیرمین سجاد غنی لون نے میڈیا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض میڈیا ئی ادارے سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی کا فریضہ انجام دینے میں بڑے ہی منہمک دکھائی دے رہے ہیں ، میں ایسے عناصر کو اس قسم کی حرکات سے اجتناب کا مشورہ دیتا ہوں۔ سجاد لون نے بتایا کہ 1987میں مسلم متحدہ محاذ کے بینر تلے منعقدہ انتخابات کے بعد ہی یہاں بندوق وار دہوئی جو تاحال یہاں اپنا کھیل جاری رکھے ہوئی ہے۔
وادی میں جاری جنگجو مخالف آپریشنوں پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بندوق کسی کی زبان نہیں سمجھتی، ایک دفعہ بندوق میدان میں آگئی تو لازمی ہے کہ اس کے مقابل میں دوسری بندوق جگہ بناتی ہے۔ریاست کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی دفعہ 35Aسے متعلق ایک سوال کے جواب میں سجاد لون نے بتایا کہ دفعہ 35Aہمارے لیے مقدس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے خاندانی راج اور سیاسی استحصال جاری ہے تاہم پیپلز کانفرنس خاندانی راج کو ختم کرنے کے لیے سامنے آئی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران سجاد لون سے پی ڈی پی کے سابق ممبر اور پی سی میں شامل ہوئے عمران رضا انصاری کی شمولیت پر اطمیان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے پارٹی زمینی سطح پر مزید مستحکم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں سیاسی سطح پر آج تک جو استحصال چلا آرہا ہے اور جس کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کے ترقی میں کافی مشکلات آئی ہیں ، عمران رضا انصاری کی شمولیت سے اس ناسور پر کافی حد تک قابو پایا جائے گا۔پی سی چیرمین نے دعویٰ کیا کہ وہ آنے والے دنوں میں مزید نئے چہروں کو سامنے لائیں گے۔سجاد لون نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی سی اقتدار میں آتی ہے تو وہ ریاست کے اندر ترجیحی بنیادوں پر کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات اُٹھائے گی۔
دنیا
واضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، واضح نتیجہ سامنے آنے تک مذاکرات سے متعلق کوئی فیصلہ یا رائے نہیں دی جا سکتی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کی باتوں اور وعدوں پر بھروسہ نہیں، امریکہ کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ٹھوس نتائج کے بغیر نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن ملکی اتحاد کو کمزور کر کے انتشار پھیلانا چاہتا ہے، فوجی ناکامی کا بدلہ معاشی دباؤ کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے بغیر کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علی رضا سلیمی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے درمیان واقع ہے، کسی
دوسرے ملک کو اس کے بارے میں فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ جلد آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی کی منظوری دے گی۔
ہندوستان
ہند۔عمان تجارتی معاہدہ آج سے نافذ، دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز
نئی دہلی، مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ہندستان اور عمان کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے کے پیر سے نافذ العمل ہونے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا ہے مسٹر گوئل نے سوشل میڈیا پر کہا، “آج سے ہندستان-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) نافذ ہو رہا ہے اور میں اس بارے میں لکھ رہا ہوں کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو کیسے مزید مضبوط کرے گا۔”
وزیر تجارت نے کہا، “وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندستان کی عالمی تجارتی شراکت داری کو وسعت دینے کے وژن سے متاثر یہ معاہدہ نئی مارکیٹیں کھول کر، برآمدات کو بڑھا کر، سرمایہ کاری کو راغب کر کے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں تیزی لا کر ہندستانی طلبہ، کاریگروں، خواتین، کسانوں، ماہی گیروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کو نمایاں طور پر فائدہ پہنچائے گا۔”
واضح رہے کہ دونوں ممالک نے گزشتہ سال دسمبر میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں نافذ ہو رہا ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی کی صورتحال کے باعث خطے کے ممالک کے ساتھ ہندستان کی تجارت متاثر ہوئی ہے۔
عمان ایک چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی 55 لاکھ اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) 110 ارب ڈالر ہے، اس لیے ہندستان اور عمان کے متوقع تجارتی حجم کے آبادی اور معیشت کی حدود میں رہنے کا امکان ہے۔ ہندستان اور عمان کے درمیان 2024-25 میں دوطرفہ تجارت 10.61 ارب ڈالر کے برابر تھی۔
دوطرفہ معاہدے کے تحت بھارت کو عمان کی مارکیٹ میں اپنی برآمداتی فہرست کی 98.08 فیصد اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی (ٹیکس) میں 100 فیصد چھوٹ ملے گی۔ اس سے انجینئرنگ، ادویات، سمندری مصنوعات (سی فوڈ)، کپڑے، کیمیکلز، الیکٹرانکس، پلاسٹک اور جواہرات و زیورات کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ حکومت نے اس معاہدے کے تحت زیادہ افرادی قوت والے ملکی شعبوں کے مفادات کو خاص طور پر مدنظر رکھا ہے۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
وزیراعظم نے چھ سال مکمل ہونے پر پی ایم سواندھی یوجنا کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو پردھان منتری اسٹریٹ وینڈرز آتم نربھر ندھی (پی ایم سواندھی) اسکیم کے چھ سال مکمل ہونے پر اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پہل نے بغیر گارنٹی قرض، مالی شمولیت اور ترقی کے مواقع فراہم کر کے ان گنت ریہڑی پٹری والوں کی زندگی کو بدل دیا ہے وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، اسکیم کے مستفیدین کو مبارکباد دی اور ملک کی معیشت میں ان کے تعاون کی ستائش کی۔ مسٹر مودی نے کہا، “آج ہم پی ایم سواندھی اسکیم کے چھ سال مکمل کر رہے ہیں، جس نے بغیر گارنٹی قرض، مالی شمولیت اور ترقی کے نئے مواقع تک رسائی یقینی بنا کر ان گنت ریہڑی پٹری والوں کی زندگی کو بدل دیا ہے۔ یہ اسکیم بھروسے، وقار اور بااختیار بنانے کے بارے میں ہے۔ تمام مستفیدین کو میری مبارکباد، جن کا پختہ عزم اور کاروباری جذبہ ہمارے ملک کی معیشت کو مضبوط کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔”
مرکزی حکومت کی جانب سے جون 2020 میں کووڈ وبا کے درمیان شروع کی گئی، پی ایم سوانیدھی کو ان ریہڑی پٹری والوں کو اقتصادی سہارا فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جن کا روزگار لاک ڈاؤن اور اقتصادی رکاوٹوں سے شدید متاثر ہوا تھا۔ یہ اسکیم اہل فروخت کنندگان کو بغیر کسی ضامن کے ورکنگ کیپیٹل لون حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے، جس سے انہیں اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے اور اسے وسعت دینے میں مدد ملتی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں، یہ پروگرام ایک اہم پہل کے طور پر ابھرا ہے جس کا مقصد سڑکوں پر ریہڑی پٹری لگانے والوں کو باضابطہ بینکنگ نظام میں لا کر ان کے درمیان مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ مستفیدین کو ڈیجیٹل لین دین اپنانے کے لیے بھی ترغیب دی جاتی ہے اور وہ وقت پر قرض کی ادائیگی سے جڑی مراعات کے اہل ہیں۔
سرکاری حکام نے پی ایم سواندھی کو ایک انقلابی فلاحی اقدام کے طور پر بیان کیا ہے جس نے شہری علاقوں میں لاکھوں چھوٹے کاروباریوں کو بااختیار بنایا ہے، جس سے انہیں اپنی آمدنی میں بہتری لانے اور اپنی مالی لچک کو مضبوط کرنے میں مدد ملی ہے۔ وزیر اعظم کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت نے اسکیم کے چھ سال مکمل ہونے پر زمینی سطح کی کاروباری صلاحیت کی حمایت کرنے اور ملک بھر میں ریہڑی پٹری لگانے والوں کے درمیان خود انحصاری کو فروغ دینے میں اس اسکیم کے کردار کا ذکر کیا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا1 week agoچین میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، 90 افراد ہلاک
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا































































































