جموں و کشمیر
گاندربل: منوج سنہا نے بالتل میں یاتری نواس کمپلیکس کا معائنہ کیا

سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے بالتل میں شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور یاتری نواس کمپلیکس کا معائنہ کیا۔انہوں نے اس مقام پر جاری کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا،اور شری امرناتھ جی یاترا کے یاتریوں کے لیے سہولیات کو بڑھانے کے لیے تیار کیے جانے والے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کے لیے افسران کو ہدایت دی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ڈومیل میں یاترا ٹریک کو بہتر بنانے اور اسے برقرار رکھنے میں مصروف ٹاسک فورس کے ارکان اور بی آر او کے عملے سے بھی بات چیت کی۔انہوں نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘آج گاندربل کے بالتل ایکسز میں شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور یاتری نواس کمپلیکس کا معائنہ کیا’۔ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا: ‘ اس کے علاوہ، یاترا ٹریک کو بہتر بنانے اور اس کو برقرار رکھنے میں مصروف بی آر او کے ٹاسک فورس اور عملے کے ساتھ بات چیت کی’۔اس دوران پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔
منوج سنہا نے منگل کے روز سونہ مرگ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سالانہ شری امرناتھ جی یاترا کے سلسلے میں سونہ مرگ مارکیٹ ایسوسی ایشن، ہوٹل مالکان اور دیگر مقامی خدمات فراہم کرنے والے اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں سے ملاقات کی۔انہوں نے دو روز قبل کٹرہ میں شری ماتا ویشنو دیوی مندر کے لیے ایک انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ساتھ 20 کروڑ روپیوں کی مالیت کے سی سی ٹی وی سرویلنس سسٹم کا افتتاح کیا۔امسال سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 9 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔38 دنوں پر محیط اس یاترا کے لئے سیکورٹی اور دیگر تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے اس سال یاترا کے لیے 580 نیم فوجی کمپنیوں پر مشتمل تقریباً 42,000 اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے 424 کمپنیاں جموں و کشمیر روانہ کی جا رہی ہیں، جب کہ باقی یونٹس، جن میں وہ 80 کمپنیاں بھی شامل ہیں جو ’آپریشن سندور‘ کے دوران پہلے ہی یو ٹی میں تعینات تھیں، کو یاترا کے راستے، سری نگر سمیت حساس علاقوں میں دوبارہ تعینات کیا جائے گا۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
ویشنو نے جموں میں سری نگر-کٹرا وندے بھارت ایکسپریس کی توسیع شدہ سروس کو ہری جھنڈی دکھائی
جموں، ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے جمعرات کو یہاں سری نگر-کٹرا وندے بھارت ایکسپریس کی جموں تک توسیع شدہ سروس کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
اس موقع پر ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ، مقامی نمائندے اور ریلوے کے افسران سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ ٹرین پہلے سری نگر سے شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا تک چلتی تھی، اب اسے سری نگر سے جموں توی تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس طرح ملک کی جدید ترین ٹرین اب براہ راست جموں و کشمیر کے سب سے بڑے شہر اور ریلوے مرکز تک پہنچے گی۔
اس موقع پر اشونی ویشنو نے کہاکہ “اس ٹرین کو پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے کٹرا سے ہری جھنڈی دکھائی تھی اور یہ کٹرا سے سری نگر تک جاتی تھی۔ آج اس سروس کو مزید توسیع دی گئی ہے۔ اب یہ ٹرین جموں سے سری نگر تک چلے گی۔ پہلے اس میں آٹھ کوچ تھے، جن کی تعداد اب بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے۔”
وہیں عمر عبداللہ نے کہاکہ “اس موقع پر میں اشونی ویشنو اور مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج ہم نے ریلوے کے ذریعے جموں کو کشمیر سے جوڑ دیا ہے۔ آٹھ کوچ سے بڑھا کر 20 کوچ والی یہ ٹرین ایک اہم کامیابی ہے۔ اب زیادہ لوگ آسانی سے سفر کر سکیں گے۔”
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ “جموں ریلوے اسٹیشن پر نئی 20 کوچ والی وندے بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا، جس سے اس علاقے میں ریلوے رابطے کو کافی فروغ ملا ہے۔ 20 کوچ کا اضافہ جدید اور تیز رفتار ریل سفر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتا ہے اور مسافروں کی سہولت، گنجائش اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے حکومت کے عزم کو مضبوط کرتا ہے۔”
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سجاد لون کا بڑا الزام: 2025 کے راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی، این سی اور پی ڈی پی کے درمیان “میچ فکسنگ” ہوئی
سرینگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور حلقہ ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ 2025 کے راجیہ سبھا انتخابات میں ان تینوں جماعتوں کے درمیان ملی بھگت اور “میچ فکسنگ” ہوئی تھی۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب ایک آر ٹی آئی کے ذریعے یہ انکشاف ہوا کہ راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پی ڈی پی کا کوئی ‘پولنگ ایجنٹ’ موجود نہیں تھا۔ یاد رہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اکتوبر 2025 میں ہونے والے ان پہلے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے تین نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی کے ست شرما نے محض 28 اراکین اسمبلی کی حمایت کے باوجود 32 ووٹ حاصل کر کے چوتھی نشست پر این سی کے عمران ڈار کو شکست دے دی تھی۔ اس نتیجے نے اراکین کی وفاداریاں تبدیل کرنے اور “ہارس ٹریڈنگ” کے شکوک و شبہات کو جنم دیا تھا۔
راجیہ سبھا انتخابات سے دور رہنے والے سجاد لون نے این سی اور پی ڈی پی کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ماننا ناممکن ہے کہ اتنی پرانی جماعتیں انتخابی قوانین سے ناواقف تھیں۔ سجاد لون نے کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں پولنگ ایجنٹ کی تقرری سب سے اہم قانونی مرحلہ ہوتا ہے۔ “کوئی پارٹی امیدوار کھڑا کرے یا نہ کرے، وہ اپنا ایجنٹ مقرر کر سکتی ہے۔
ایجنٹ مقرر نہ کرنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ پارٹی جان بوجھ کر ایسا نہیں کرنا چاہتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ این سی نے ایجنٹوں کی تقرری پر زور نہیں دیا اور پی ڈی پی نے سرے سے ایجنٹ مقرر ہی نہیں کیے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بی جے پی کو نشست جتوانے کے لیے درپردہ مدد فراہم کی گئی۔سجاد لون نے موجودہ سیاسی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ووٹرز کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا”کشمیر کے عوام کو میری طرف سے نیک خواہشات۔ بدقسمتی سے یہ سارا مذاق انھی کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس کی قیمت بھی وہی چکا رہے ہیں۔سجاد لون کے ان الزامات نے جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں پہلے ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
اردو زبان پر تنازع: التجا مفتی کا عمر عبداللہ سے سوال، “جو بی جے پی نے نہیں مٹایا، وہ آپ کیوں مٹا رہے ہیں
سرینگر، محکمہ مال (ریونیو) کی بھرتیوں میں اردو کی لازمی شرط ختم کرنے کی مبینہ کوششوں پر جموں و کشمیر کی سیاست میں ابال آ گیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر اردو زبان کو منظم طریقے سے نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور ان کی پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھائے۔
التجا مفتی نے کہا کہ اردو کا مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کی “ثقافتی اور لسانی شناخت” سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ کی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے اردو کی ادارہ جاتی حیثیت کمزور ہو رہی ہے۔
انہوں نے 9 جولائی 2025 کے ایک حکم نامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ مال نے زمینی ریکارڈ کو انگریزی میں ڈیجیٹل کرنے کا حکم دیا، جبکہ تاریخی طور پر یہ تمام ریکارڈ اردو میں موجود ہیں۔ اس سے مقامی افسران اور عوام کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
التجا نے دعویٰ کیا کہ 14 اپریل 2026 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پٹواری اور تحصیلدار جیسے عہدوں کے لیے اردو کی مہارت کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اب کوئی بھی گریجویٹ اردو جانے بغیر ان عہدوں کے لیے درخواست دے سکتا ہے، جو مقامی نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وزیر اعلیٰ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہا”میں عمر صاحب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جو کام مہاراجہ کے دور میں نہیں ہوا اور جسے مٹانے کی جرات بی جے پی نے بھی نہیں کی، وہ آپ کیوں کر رہے ہیں؟ کیا آپ یہ سب بی جے پی کے اشارے پر کر رہے ہیں”
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر6 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان5 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
جموں و کشمیر2 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
ہندوستان5 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا6 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا5 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
دنیا1 week ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط







































































































