تازہ ترین
3رو ز کے اندر 18کشمیری جاں بحق، سینکڑوں زخمی سفاکانہ کارروائیوں کے خلاف کل یوم سیاہ منایا جائے: مزاحمتی قیادت

خبراردو:
مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کی طرف سے گزشتہ تین دنوں کے دوران وادی میں میں 18؍افراد کے ہلاک ، جبکہ درجنوں افراد جن میں خواتین، بچے، نوجوان شامل کو گولیوں اور پیلٹ گنوں کے استعمال کے ذریعے زخمی کرنے کی سفاکانہ کارروائیوں کے خلاف آج 26؍ نومبر 2018 سوموار ریاست گیر ہڑتال کے ذریعے اپنا پُرامن احتجاج درج کرنے کے لیے حریت پسند عوام سے دردمندانہ اپیل کی ہے۔شوپیان قتل عام، غارت گری اور ظلم وجبر کو صریح سرکاری دہشت گردی کا کھلا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ قابض فورسز نوآبادیاتی ذہن فاشسٹ حکمرانوں کی ایما پر نیز مواخذے سے مکمل استثنیٰ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی تازہ مثال حالیہ تین ایام کے دوران شوپیان، بجبہاڑہ، پانپورہ وغیرہ کے خونین واقعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں پر پُرامن مزاحمت کے دروازے بھی بند کررکھے ہیں اور کشمیری نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرکے تہہ تیغ کرنے کا سلسلہ دراز کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ نام نہاد جمہوریت اور امن کے نام پر کیا جارہا ہے، حالانکہ یہ سب بدترین آمریت اور فساطئیت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ قائدین نے ریاست جموں کشمیر شوپیان ، بجبہاڑہ اور اس قسم کی دوسری معرکہ آرائیوں کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام نے 2008، 2009، 2010اور 2016 جیسی پُرامن عوامی اور سیاسی تحریکوں کے ذریعے بھارت کے جابر حکمرانوں کے سامنے اپنی جمہور نوازی کا تاریخی ثبوت فراہم کرکے حقِ خودارادیت کا مطالبہ دہرانے میں کوئی کسر باقی رہنے نہ دی ہے، لیکن بھارت کشمیری عوام کے دل کی دھڑکنوں کو سُننے کے بجائے ان کی پُرامن تحریک کو زیادہ سے زیادہ فوجی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے کچلنے پر تُلا ہوا ہے۔
مزاحمتی قیادت نے مسئلہ کشمیر کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ میں بالخصوص 1990 کی عسکری تحریک کے دوران شوپیان جیسے خونین معرکہ آرائیوں میں بھارت کے جبری فوجی قبضے کے خلاف مجاہدین نے اپنا گرم گرم لہو بہاکر عظیم قربانیاں پیش کی ہیں۔ مزاحمتی قیادت نے جموں کشمیر میں جاری قتل وغارت گری اور بھارت کے قابض افواج کی طرف سے سول آبادی کو اپنے غیض وغضب کا نشانہ بناتے ہوئے سینکڑوں عام شہریوں کو شدید زخمی کئے جانے اور تشدد ڈھائے جانے کی جابرانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان ہلاکت خیز کارروائیوں کے نتیجے میں پوری کشمیری قوم سوگوار ہوچکی ہے۔
مزاحمتی قیادت نے کشمیر میں جاری قتل وغارت گری اور ظلم وجبر کے خلاف 26؍نومبر کو یومِ سیاہ منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام کے حقِ زندگی کو تلف کرنے اور زبردست فوجی حصار کے اندر کشمیری عوام کی زندگیوں کو جہنم زار بنانے اور ان کے جذبۂ آزادی کو کچل دینے کے لیے فوجی طاقت کو استعمال کرنا بدترین قسم کی فسطائیت ہے جسے ریاستی عوام نے شعوری طور پر ہمیشہ ردّکردیا ہے اور اس سے آئندہ بھی بھارت کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔KNS
دنیا
تل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کو نظر انداز کر کے علاقائی سلامتی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر کا بیان نسل کشی کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے کسی عام انتہاپسند کا بیان نہیں بلکہ اسرائیلی وزیر کا سرکاری مؤقف ہے۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ تل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی ہے اسرائیلی حکومت مستقل جنگ کو اپنے مفاد میں سمجھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے کے امن واستحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے عالمی برادری اسرائیلی پالیسیوں کا نوٹس لے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا، سیز فائر آج شام مقامی وقت کے مطابق 4 بجے شروع ہوگی۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان آج مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پیشرفت دونوں کے درمیان لبنان میں کشیدگی میں شدید اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس کا لبنان پر حملے روکنے کیلئے امریکہ سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
پیرس، فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئیل بارو نے کہا ہے کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں بند کرے۔
ژاں نوئیل بارو نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ فرانس لبنان کی فوج کی مدد کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس حوالے سے حمایت کو متحرک کیا جا سکے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ فرانس اس وقت تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی حمایت نہیں کرے گا جب تک تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات اس کی توقعات کے مطابق پیش رفت نہیں کرتے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ فرانس کی منظوری کے بغیر سلامتی کونسل کی ایران پر پابندیاں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر خدشات دور ہونے تک خطے میں پائیدار استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اتحادی گروپوں کی حمایت سے متعلق خدشات ختم ہونے تک بھی خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا اور اس صورتِ حال میں ایران کے طرزِ عمل اور پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے مطابق اس تمام صورتِ حال میں سب سے بڑا نقصان ایران کے عوام نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو اپنی موجودہ حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے: اسرائیلی وزیر کا بیان
تل ابیب، اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا لبنان جلا دینا چاہیے۔
اتمار بن گویر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی ماؤں کے آنسوؤں کے بدلے لبنانی ماؤں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان برداشت کرنا چاہیے اور اس وقت خطے میں سخت اور تباہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزر لینڈ کا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ نئی مذاکراتی کوششوں کی قیادت کی جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی مفاہمت کے بعد 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ ادھر امریکی سینٹکام نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندی ختم کر دی ہے جبکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے اجازت نامے اب اس کی متعلقہ اتھارٹی جاری کرے گی۔ اسی دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں نئی فضائی کارروائیاں کی ہیں جن میں 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں آج صبح تک 16 افراد کی شہادت کے باعث ایرانی وفد سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ ہی نہیں ہو سکا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق چیف مذاکرات کار باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سوئٹزر لینڈ روانگی کے لیے مکمل طور پر تیار تھے تاہم لبنان میں اسرائیلی جارحیت جاری رہنے کی وجہ سے ایرانی وفد کا دورہ آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ سے ملتوی کیے گئے مذاکرات کی نئی تاریخ یا مقام کا ابھی تک تعین نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل کی لبنان میں کارروائی حالیہ ہفتوں کی بدترین بمباری قرار دی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی


































































































