تازہ ترین
ویڈیوز: فرانس میں 50 سال بعد بدترین احتجاج،متعدد افراد گرفتار

خبراردو:
فرانس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف پانچویں ہفتے بھی احتجاج جاری ہے، جہاں پیرس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں نے فرانس کی سڑکوں کو میدان جنگ بنا دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق مظاہرین کو روکنے کیلئے فرانسیسی پولیس نے شیلنگ اور واٹرکینن کا استعمال کیا، جب کہ پچیاسی مشتعل مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔
Breaking Video: Rioters loot stores and flip a car over during protests in Paris, France. pic.twitter.com/FY27TVnP1t
— Jeffrey Porter (@JeffreyPorterPM) December 8, 2018
فرانس میں پیلی جیکٹ تحریک کی جانب سے مسلسل پانچوے ہفتے سے جاری احتجاج شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، تاہم ہفتہ کے روز مظاہرین کی تعداد اور جوش و جذبہ کم دکھائی دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اب دم توڑتا نظر آرہا ہے۔ دیگر شہروں کی طرح پیرس میں بھی پیلی جیکٹ پہنے مظاہرین سڑکوں پر نکلے اور احتجاج کیا۔ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے انہتر ہزار سیکیورٹی اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔
This is not the Middle East. This is in the middle of France near Paris. French police arrested hundreds of high school students after protests.pic.twitter.com/SkAldtvlvg
— Negar (@NegarMortazavi) December 6, 2018
آٹھ ہزار اہل کاروں کو پیرس میں تعینات کیا گیا۔ کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئیں پولیس نے مظاہرین کو روکنے کیلیے شیلنگ اور واٹرکینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر ایمانویل میکرون کے استعفیٰ تک احتجاج جاری رہے گا۔
مظاہروں کی وجہ سے شاہراہ شانزہ لیزا پر ٹریفک معطل ہے، جب کہ انڈر گراؤنڈ ریلوے اسٹیشن بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔ فرانس کے صدر نے گزشتہ دنوں مظاہرین کو راضی کرنے کے لیے اپنے موقف سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے بعض مراعات دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کے وعدے بھی عوام کو مطمئن نہیں کر سکے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف سترہ نومبر سے شروع ہونے والے مظاہرے اب حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ سترہ نومبر سے اب تک پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے نتیجے میں چار مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
عمومی طور پر شہری مراکز میں گھروں کے بلند کراؤں کی بنا پر نواحی علاقوں میں آباد ہونے والے مظاہرین ماکرون سے ملکی معیشت میں بہتری لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب صدر ِ فرانس امینول ماکرون نے “زرد صدری” مظاہرین سے کسی نئے جلوس سے قبل “سکونت” اور “پر امن” رہنے کی اپیل کی ہے۔
دنیا
امریکہ ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ان میں جنگ بندی کے بدلے جوہری پروگرام پر کوئی بڑی رعایت شامل نہیں۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام اہم تنازعات میں سرِفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ تہران مکمل طور پر اپنا نیوکلیئرپروگرام ختم کر دے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔
یورینیئم ذخائر یورینیئم کے ذخائر بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے تقریباً 400 کلو گرام افزودہ یورینیئم کا مکمل کنٹرول اسے دیا جائے، تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز بھی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ایران نے پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں اور ان کا خاتمہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ معاہدے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔
ایرانی حکام نے معاہدے کے لیے معاشی پابندیوں کے خاتمے اور تقریباً 20 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ نقصانات کا ازالہ مزید برآں ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 279 ارب ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جو مذاکرات میں ایک اور بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
ایران کا علاقائی اثر و رسوخ علاقائی اثر و رسوخ بھی ایک حساس معاملہ ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللّٰہ اور غزہ میں حماس سمیت اپنے اتحادیوں کی حمایت محدود کرے، جبکہ ایران اس مؤقف سے متفق نہیں۔ ماہرین کے مطابق ان بنیادی اختلافات کے حل کے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز پر جاری کشمکش کے سبب عالمی معیشت غیر یقینی صورتِحال کا شکار
تہران، خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ جنگی صورتِ حال کے باعث عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے اور تاحال مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دی جا سکی۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے آغاز کے بعد اس گزرگاہ میں بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار جہاز خلیج میں پھنس گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتیٰ کہ اگر راستہ کھول بھی دیا جائے تو بھی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں کم از کم 6 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک مکمل طور پر خطرہ ختم کرنا تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب انشورنس کمپنیوں نے بھی صورتِ حال کو انتہائی غیر یقینی قرار دیتے ہوئے جنگی خطرات کی انشورنس معطل یا مہنگی کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلے جہاں انشورنس کی لاگت جہاز کی مالیت کا تقریباً 0.25 فیصد تھی، وہ اب بڑھ کر 1 سے 5 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس راستے کو دوبارہ محفوظ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی، واضح سیکیورٹی ضمانتیں، بارودی سرنگوں کی مؤثر صفائی اور بحری راستوں پر مکمل کنٹرول قائم ہو۔
ماہرین کے مطابق صرف عارضی جنگ بندی کافی نہیں ہوگی بلکہ طویل عرصے تک بحری آمد و رفت کا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنا ضروری ہے تاکہ انشورنس کمپنیاں اعتماد بحال کر سکیں۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اس صورتِ حال کو عالمی تاریخ میں تیل کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے، جو 1970ء کی دہائی کے آئل بحران سے بھی زیادہ سنگین ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
سجاد لون کا بڑا الزام: 2025 کے راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی، این سی اور پی ڈی پی کے درمیان “میچ فکسنگ” ہوئی
سرینگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور حلقہ ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ 2025 کے راجیہ سبھا انتخابات میں ان تینوں جماعتوں کے درمیان ملی بھگت اور “میچ فکسنگ” ہوئی تھی۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب ایک آر ٹی آئی کے ذریعے یہ انکشاف ہوا کہ راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پی ڈی پی کا کوئی ‘پولنگ ایجنٹ’ موجود نہیں تھا۔ یاد رہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اکتوبر 2025 میں ہونے والے ان پہلے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے تین نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی کے ست شرما نے محض 28 اراکین اسمبلی کی حمایت کے باوجود 32 ووٹ حاصل کر کے چوتھی نشست پر این سی کے عمران ڈار کو شکست دے دی تھی۔ اس نتیجے نے اراکین کی وفاداریاں تبدیل کرنے اور “ہارس ٹریڈنگ” کے شکوک و شبہات کو جنم دیا تھا۔
راجیہ سبھا انتخابات سے دور رہنے والے سجاد لون نے این سی اور پی ڈی پی کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ماننا ناممکن ہے کہ اتنی پرانی جماعتیں انتخابی قوانین سے ناواقف تھیں۔ سجاد لون نے کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں پولنگ ایجنٹ کی تقرری سب سے اہم قانونی مرحلہ ہوتا ہے۔ “کوئی پارٹی امیدوار کھڑا کرے یا نہ کرے، وہ اپنا ایجنٹ مقرر کر سکتی ہے۔
ایجنٹ مقرر نہ کرنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ پارٹی جان بوجھ کر ایسا نہیں کرنا چاہتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ این سی نے ایجنٹوں کی تقرری پر زور نہیں دیا اور پی ڈی پی نے سرے سے ایجنٹ مقرر ہی نہیں کیے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بی جے پی کو نشست جتوانے کے لیے درپردہ مدد فراہم کی گئی۔سجاد لون نے موجودہ سیاسی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ووٹرز کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا”کشمیر کے عوام کو میری طرف سے نیک خواہشات۔ بدقسمتی سے یہ سارا مذاق انھی کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس کی قیمت بھی وہی چکا رہے ہیں۔سجاد لون کے ان الزامات نے جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں پہلے ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر5 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 day agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان4 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان4 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا5 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
دنیا4 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی










































































































