جموں و کشمیر
وادی سے باہر قیدیوں کی حالت تشویشناک، محبوبہ مفتی کا عمر عبداللہ سے فوری مداخلت کی اپیل

سری نگر، سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو وادی سے باہر مختلف جیلوں میں رکھے گئے کشمیری زیرِ سماعت قیدیوں کی مسلسل حراست پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے درجنوں خاندانوں کو جذباتی اور مالی طور پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ شدید مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ وہ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے دور دراز جیلوں کا بار بار سفر کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اُن کے مطابق متعدد گھرانے روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے قابل بھی نہیں رہ گئے، ایسے میں جیل تک کے طویل سفر اُن کے لیے ناممکن ہو چکے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے بتایا کہ انہوں نے فروری میں چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی کو تحریری طور پر وادی سے باہر قید کشمیری زیرِ سماعت قیدیوں کی تفصیلات مانگی تھیں، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بعدازاں انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور ہوم سکریٹری کو بھی خطوط ارسال کرکے ان قیدیوں کی وادی کی جیلوں میں منتقلی کی اپیل کی، مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ پھر عوامی مفاد کی عرضداشت کے ذریعے عدالت میں اٹھایا گیا، تاہم افسوس کی بات ہے کہ اس درخواست کو سیاسی رنگ دے کر خارج کر دیا گیا۔ محترمہ محبوبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر عدالت نے عرضداشت خارج کر دی تھی تو پھر از خود نوٹس کیوں نہیں لیا گیا؟ انہوں نے کہا، ’عدالت یہ جاننے میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتی کہ زیرِ سماعت قیدی بغیر سزا کے برسوں جیلوں میں کیوں پڑے ہیں‘
محبوبہ مفتی نے کہا کہ غریب خاندانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بار بار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں، ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم، صدرِ ہند اور سابق چیف جسٹس کے بیانات میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک کی جیلوں میں 76 فیصد سے زائد قیدی زیرِ سماعت ہیں، پھر بھی ایسے حساس مسائل حل نہ ہونا افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تشکیل پانے کے بعد امید تھی کہ اس انسانی مسئلے کو حل کیا جائے گا، لیکن پیش رفت نہ ہونے سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔ محبوبہ کے مطابق کشمیر سے منتخب نمائندوں کی غیر موجودگی نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں آغا سید روح اللہ مہدی اور میان الطاف احمد جیسے نمائندے موجود ہوتے تو وہ اس متعلق سرکاری اعداد و شمار طلب کر سکتے تھے، مگر ایسا نہیں ہو پایا۔
محبوبہ مفتی نے بتایا کہ انہوں نے عمر عبداللہ سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ایک ٹیم تشکیل دیں جو بیرونِ کشمیر مختلف جیلوں کا دورہ کرکے کشمیری زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد اور حالت کا جائزہ لے۔
انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اُن کا مطالبہ صرف اُن قیدیوں کی منتقلی سے متعلق ہے جن پر جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اس معاملے کی پیروی جاری رکھے گی۔
آخر میں محبوبہ مفتی نے کہا، ’ہم نے ان خاندانوں کی تکلیف اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم یہ مسئلہ اٹھائیں، اور ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سجاد لون کا بڑا الزام: 2025 کے راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی، این سی اور پی ڈی پی کے درمیان “میچ فکسنگ” ہوئی
سرینگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور حلقہ ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ 2025 کے راجیہ سبھا انتخابات میں ان تینوں جماعتوں کے درمیان ملی بھگت اور “میچ فکسنگ” ہوئی تھی۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب ایک آر ٹی آئی کے ذریعے یہ انکشاف ہوا کہ راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پی ڈی پی کا کوئی ‘پولنگ ایجنٹ’ موجود نہیں تھا۔ یاد رہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اکتوبر 2025 میں ہونے والے ان پہلے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے تین نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی کے ست شرما نے محض 28 اراکین اسمبلی کی حمایت کے باوجود 32 ووٹ حاصل کر کے چوتھی نشست پر این سی کے عمران ڈار کو شکست دے دی تھی۔ اس نتیجے نے اراکین کی وفاداریاں تبدیل کرنے اور “ہارس ٹریڈنگ” کے شکوک و شبہات کو جنم دیا تھا۔
راجیہ سبھا انتخابات سے دور رہنے والے سجاد لون نے این سی اور پی ڈی پی کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ماننا ناممکن ہے کہ اتنی پرانی جماعتیں انتخابی قوانین سے ناواقف تھیں۔ سجاد لون نے کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں پولنگ ایجنٹ کی تقرری سب سے اہم قانونی مرحلہ ہوتا ہے۔ “کوئی پارٹی امیدوار کھڑا کرے یا نہ کرے، وہ اپنا ایجنٹ مقرر کر سکتی ہے۔
ایجنٹ مقرر نہ کرنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ پارٹی جان بوجھ کر ایسا نہیں کرنا چاہتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ این سی نے ایجنٹوں کی تقرری پر زور نہیں دیا اور پی ڈی پی نے سرے سے ایجنٹ مقرر ہی نہیں کیے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بی جے پی کو نشست جتوانے کے لیے درپردہ مدد فراہم کی گئی۔سجاد لون نے موجودہ سیاسی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ووٹرز کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا”کشمیر کے عوام کو میری طرف سے نیک خواہشات۔ بدقسمتی سے یہ سارا مذاق انھی کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس کی قیمت بھی وہی چکا رہے ہیں۔سجاد لون کے ان الزامات نے جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں پہلے ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
اردو زبان پر تنازع: التجا مفتی کا عمر عبداللہ سے سوال، “جو بی جے پی نے نہیں مٹایا، وہ آپ کیوں مٹا رہے ہیں
سرینگر، محکمہ مال (ریونیو) کی بھرتیوں میں اردو کی لازمی شرط ختم کرنے کی مبینہ کوششوں پر جموں و کشمیر کی سیاست میں ابال آ گیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر اردو زبان کو منظم طریقے سے نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور ان کی پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھائے۔
التجا مفتی نے کہا کہ اردو کا مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کی “ثقافتی اور لسانی شناخت” سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ کی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے اردو کی ادارہ جاتی حیثیت کمزور ہو رہی ہے۔
انہوں نے 9 جولائی 2025 کے ایک حکم نامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ مال نے زمینی ریکارڈ کو انگریزی میں ڈیجیٹل کرنے کا حکم دیا، جبکہ تاریخی طور پر یہ تمام ریکارڈ اردو میں موجود ہیں۔ اس سے مقامی افسران اور عوام کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
التجا نے دعویٰ کیا کہ 14 اپریل 2026 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پٹواری اور تحصیلدار جیسے عہدوں کے لیے اردو کی مہارت کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اب کوئی بھی گریجویٹ اردو جانے بغیر ان عہدوں کے لیے درخواست دے سکتا ہے، جو مقامی نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وزیر اعلیٰ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہا”میں عمر صاحب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جو کام مہاراجہ کے دور میں نہیں ہوا اور جسے مٹانے کی جرات بی جے پی نے بھی نہیں کی، وہ آپ کیوں کر رہے ہیں؟ کیا آپ یہ سب بی جے پی کے اشارے پر کر رہے ہیں”
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ : منشیات سے متعلق معاملات میں غیر قانونی املاک کو پولیس نے کیا مسمار
سرینگر، جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پولیس نے سول انتظامیہ کے تعاون سے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے سرکاری زمین پر تعمیر کردہ کروڑوں روپے کی غیر قانونی املاک کو مسمار کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق، اس مہم کے دوران قومی شاہراہ کے کنارے واقع اسٹیٹ سنگم میں سرکاری زمین پر بنی کئی عمارتوں کو گرا دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ان عمارتوں کو سڑک کنارے ڈھابوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور یہ املاک این ڈی پی ایس ایکٹ کے مقدمات میں ملوث افراد سے وابستہ پائی گئیں۔ مسمار کی گئی املاک میں ‘کشمیر ریسٹورنٹ (ڈھابہ)’ بھی شامل تھا، جس کے مالکان ڈونی پورہ سنگم کے رہائشی گل محمد میر اور بشیر احمد میر تھے۔ پولیس نے واضح کیا کہ ان دونوں کے نام بجبہارا پولیس اسٹیشن میں درج مختلف منشیات کے مقدمات میں شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ تیسری عمارت، ‘میر ریسٹورنٹ’، ان کے بھائی اما میر کی تھی جو ان دونوں ڈھابوں کے درمیان واقع تھی؛ اس عمارت کو بھی کارروائی کے دوران گرا دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ “یہ تمام عمارتیں سرکاری زمین پر کسی بھی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں۔ یہ کارروائی مکمل طور پر قانونی ضابطوں کے مطابق کی گئی، جو منشیات کے اسمگلروں اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سختی سے نمٹنے کے لیے اننت ناگ پولیس کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔”
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر مہم’ شروع کیے جانے کے بعد سے، پولیس نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں منشیات کے اسمگلروں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس مہم کے تحت مشتبہ اسمگلروں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، ان کی املاک ضبط کی جا رہی ہیں اور این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت نئے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ پولیس منشیات کنٹرول کرنے والے حکام کے ساتھ مل کر غیر قانونی اور ممنوعہ ادویات کی فروخت روکنے کے لیے ادویات کی دکانوں کا معائنہ بھی کر رہی ہے۔
یواین آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر6 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان5 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان5 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا6 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر1 day agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ










































































































