جموں و کشمیر
کشمیر میں 2025 کے دوران سڑک حادثات میں 202 ہلاکتیں، 3 لاکھ چالان اور 11.24 کروڑ ریونیو ریکارڈ

سری نگر،ٹریفک رورل کشمیر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) رویندر پال سنگھ نے منگل کو کہا ہے کہ ٹریفک پولیسنگ کا بنیادی مقصد انسانی جانوں کو بچانا اور سڑک حادثات میں کمی لانا ہے۔
سرینگر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی نے کہا کہ ٹریفک پولیس کی تعیناتی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی جاتی ہے کہ ٹریفک قوانین کی سختی سے پاسداری ہو اور قانون شکن ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی قانونی دفعات کے تحت عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں شروع کیا گیا مشن نئے سال میں بھی برابر قوت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ عوام میں ٹریفک قوانین کے بارے میں شعور میں واضح اضافہ ہوا ہے اور لوگ خود بھی محفوظ ٹریفک نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایس ایس پی نے کہا:’لوگ پہلے سے زیادہ باشعور اور تعاون کرنے والے بن چکے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ برسوں میں بھی ڈرائیور حضرات ٹریفک قوانین کی پابندی جاری رکھیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ محکمہ آنے والے دنوں میں آگاہی پروگراموں کو مزید تیز کرے گا، جن میں اسکولوں، کالجوں، سومو اسٹینڈز اور دیگر عوامی مقامات پر عہد برداری مہم، این سی سی کیڈیٹس اور سماجی شراکت داروں کی شمولیت اور ٹریفک انفراسٹریکچر کو مزید مضبوط کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
سالانہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ایس ایس پی رویندر پال سنگھ نے بتایا کہ گزشتہ برس کے مقابلے اس سال بہتر صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔
2024 میں جہاں 279 افراد ٹریفک حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، وہیں سال 2025 کے دوران 202 اموات رپورٹ کی گئی ہیں، جو کہ ایک نمایاں کمی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سال بھر میں 3 لاکھ سے زائد چالان کاٹے گئے اور نفاذی کارروائیوں کے دوران 11.24 کروڑ روپے سے زیادہ ریونیو جمع ہوا، جب کہ کئی گاڑیاں بھی ضبط کی گئیں۔
ایس ایس پی نے کہا کہ سخت کارروائیوں کا مقصد جرمانہ وصول کرنا نہیں بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا اور ڈرائیونگ کے ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا:’ہماری تمام کوششوں کا مقصد قیمتی انسانی جانوں کو بچانا ہے۔ ٹریفک نفاذ کا اصل ہدف محفوظ سفر، ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور حادثات میں واضح کمی لانا ہے۔‘
محکمے کے مطابق نئی حکمت عملی، بہتر نگرانی اور عوامی تعاون سے 2026 میں حادثات میں مزید کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جنوبی کشمیر رینج کے ڈی آئی جی نے پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا
سری نگر، جنوبی کشمیر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جاوید اقبال مٹو نے پیر کے روز پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، جس میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے چوکسی بڑھانے اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
پلوامہ ضلع پولیس لائنز میں ایس ایس پی پلوامہ تنوشری اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاوید اقبال مٹو نے جاری تحقیقات، این ڈی پی ایس مقدمات اور مجموعی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ خفیہ نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جائے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر کیا جائے اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی چوکسی برقرار رکھی جائے۔
انہوں نے ضلع میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں اور اینٹی ٹیرر گرڈ کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے موجودہ سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دوران ملک مخالف عناصر کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان رابطہ بڑھانے، علاقے پر کنٹرول مضبوط کرنے اور خفیہ نظام کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔
افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر وقت بلند سطح کی چوکسی برقرار رکھیں اور کسی بھی سکیورٹی چیلنج کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں پیر کی صبح رام نگر سے ادھم پور جا رہی ایک بس کے گہری کھائی میں گر جانے سے کم از کم 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ مسافروں کو لے جانے والی بس ضلع کی رام نگر تحصیل کے کانوٹے موڑ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔” پولیس، مقامی لوگوں اور فوج کے جوانوں نے حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ زخمیوں کو ادھم پور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ادھم پور کے ڈی سی منگا شیرپا سے بات کی، کیونکہ ایک گھنٹہ پہلے کانوٹ گاؤں کے قریب رام نگر سے ادھم پور جانے والی ایک مسافر بس کے حادثے کی خبر موصول ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’بچاؤ کی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔ شدید زخمیوں کو ایئر لفٹ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔” ڈاکٹر سنگھ نے لکھا کہ وہ مقامی انتظامیہ اور راجندر شرما کی قیادت میں مقامی کارکنوں کی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’ادھم پور میں ہونے والا سڑک حادثہ انتہائی دردناک ہے۔ میری گہری ہمدردی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ خدا انہیں صبر عطا فرمائے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ میں نے ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور محکمہ صحت کو متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں کشمیر میں کالعدم جماعتِ اسلامی اور ایف اے ٹی سے وابستہ 58 پرائیویٹ اسکول حکومت کی تحویل میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم تنظیم جمعات اسلامی اور اس کی تعلیمی شاخ فلاحِ عام ٹرسٹ سے وابستہ 58 نجی اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
یہ کارروائی اس اقدام کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کی گئی ہے، جب حکومت نے جماعت سے منسلک 215 اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا۔ واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ نے 2019 میں جماعتِ اسلامی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
جموں و کشمیر کے محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے مزید 58 فعال اسکولوں کی نشاندہی کی ہے، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جماعتِ اسلامی یا فلاحِ عام ٹرسٹ سے منسلک پائے گئے ہیں۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ ان اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے یا ان کے خلاف خفیہ رپورٹ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ماتحت محکمۂ تعلیم نے ضلع مجسٹریٹس/ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان اسکولوں کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیں اور مناسب جانچ کے بعد نئی انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز پیش کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولی تعلیم کے محکمے کے ساتھ مشاورت اور تال میل کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
حکم جاری ہونے کے بعد حکام نے ہفتہ کے روز ان اسکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ان 58 اداروں میں سے سب سے زیادہ 29 بارہمولہ ضلع میں ہیں، جبکہ پلوامہ میں 7، کولگام اور کپواڑہ میں 5-5 اسکول شامل ہیں۔ اننت ناگ اور بڈگام میں 4-4 جبکہ بانڈی پورہ میں 2 اسکولوں کو کنٹرول میں لیا گیا ہے، جب کہ شوپیان اور سری نگر میں ایک ایک اسکول شامل ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا







































































































