ہندوستان
مسلم خواتین: ملک وسماج کے لیے کچھ کرگزرنے کا جذبہ کم نہیں

نئی دہلی، ہندوستان میں جب بھی ملک اور سماج کی تعمیروترقی کی بات ہوتی ہے تو سب سے بڑی اقلیت کے بارے میں تذکرہ مایوسی پر مبنی ہوتا ہے اور اگر اس کمیونٹی کی مسلم خواتین کا ذکر ہوتو بات مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے، لیکن خواتین کے تعلق سے غیر جانبدارانہ طریقہ سے جائزہ لیا جائے تو صورتحال اتنی مایوس کن نہیں، جتنی نظر آتی ہے یا جس کا شور ہے، مسلم خواتین نے گزشتہ برسوں کے دوران ہر شعبے میں اپنی نمایاں موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ ادب وثقافت، معیشت، کارپوریٹ اور سرکاری ملازمت، تحقیق و ترقی، اسپورٹس گویا کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں، جہاں مسلم خواتین کی نمائندگی نہیں ہے ۔
اگر ادب کی بات کریں تو 2025 میں ایک کنڑ مصنفہ بانو مشتاق کو”ہارٹ لیمپ” کے لیے بین الاقوامی بکر انعام سے نوازاگیا۔ بانو مشتاق کی پیدائش 3 اپریل 1948 کرناٹک میں ہوئی۔ دیپا بھاستی نے ان کی مختصر کہانیوں کا ترجمہ کیا تھا ،جس پر انھیں یہ انعام ملا۔ انھوں نے چھ مختصر کہانی کے مجموعے، ایک ناول، ایک مضمون کا مجموعہ اور ایک شعری مجموعہ شائع کیا ہے۔ ان کی تصنیفات کا اردو، ہندی، تمل، ملیالم اور انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
بانومشتاق کو چھوٹی عمر سے ہی لکھنے کا شوق تھا۔انھوں نے اپنے احساسات اور تجربات کو روبہ عمل لانے کے لیے تحریروں کا رخ کیا۔ ان کی زیادہ تر تحریر خواتین کے مسائل پر نظر آتی ہے۔ مجموعے کی کہانیاں ایک صحافی اور وکیل کے طور پر مشتاق کی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں خواتین کے حقوق اور ملک کے اس حصے میں ذات پات اور مذہبی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت پر توجہ دی گئی ہے۔
ممتاز ادیبہ اور مترجم ارجمندآرا کے بقول “بے شک وہ کنڑ زبان میں کنڑ علاقے کی کہانیاں بیان کرتی ہیں لیکن ان کا اطلاق پورے برصغیر پر اور خصوصاً برِ صغیر کے مسلم معاشرے پر ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں ہمیں غورو فکر پر مجبور کریں گی، قدرے حساس اور عقلمند اور نسبتاً بہتر انسان بننے پر مائل کریں گی۔”
بکر انٹرنیشنل ججوں کے سربراہ میکس پورٹر نے کہا کہ اگرچہ کہانیاں حقوق نسواں کی علم بردار ہیں اور ان میں پدرانہ نظام اور مزاحمت کے غیر معمولی بیانات ہیں، لیکن سب سے پہلے وہ ‘روزمرہ کی زندگی اور خاص طور پر خواتین کی زندگیوں کے خوبصورت بیانات ہیں۔’دی گارڈین نے تبصرہ کیا کہ ‘لہجہ خاموش سے مزاحیہ تک مختلف ہوتا ہے، لیکن نقطہ نظر میں استقلال ہے’ اور اس نے اسے ‘حیرت انگیز مجموعہ قرار دیا۔ بکر انعام کے علاوہ انھیں کرناٹک ساہتیہ اکیڈمی سمیت دیگر ایوارڈ سے بھی نوازاگیا ہے ۔
اس کے علاوہ ادیبہ انعم اشفاق احمد نے یواپی ایس سی 2024 کے امتحان میں 142 کا آل انڈیا رینک حاصل کرنے کے بعد مہاراشٹر کی پہلی مسلم خاتون آئی اے ایس (انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس) آفیسر بن کر تاریخ رقم کی۔ انھوں نے یہ کامیابی مالی مشکلات کے باوجود حاصل کی۔ مہاراشٹر کے ایوت محل ضلع کی طالبہ ادیبہ اشفاق احمد نے یونین پبلک سروس کمیشن(یوپی ایس سی ) کے نتائج میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ ایک آٹو ڈرائیور کی بیٹی نے ایسا کارنامہ انجام دیا، جو ریاست میں اس سے پہلےکوئی مسلم طالبہ انجام نہیں دے سکی۔
یو پی ایس سی امتحانات کے لیے کلاسز اور سہولیات کی کمی کے باوجود ایوت محل کی اس ہونہار طالبہ نے اپنی محنت اور لگن سے مقصد کو حاصل کر لیا۔ ضلع کے بہت سے طلباء اپنے مقصد کو پورا کرنے اور امتحان کی تیاری کے لیے پونے، ممبئی اور دہلی جاتے ہیں۔
دوسری جانب جو طلباء غربت کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں، وہ آن لائن کورسز مکمل کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
محترمہ ادیبہ نے اپنی ابتدائی تعلیم ظفر نگر ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ انھوں نے یہاں پہلی سے ساتویں کلاس تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے آٹھویں سے دسویں جماعت تک کی تعلیم ضلع پریشد کے سابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سے حاصل کی۔
ادیبہ نے اپنی 11ویں اور 12ویں کی تعلیم ضلع پریشد سابق گورنمنٹ کالج، ایوت محل سے مکمل کی۔ اس کے بعد ادیبہ نے انعامدار سینئر کالج، پونے سے ریاضی میں بی ایس سی کیا۔
بعد ازاں، ادیبہ انعم نے پونے کی ایک اکیڈمی سے یو پی ایس سی فاؤنڈیشن کی کوچنگ لی۔ ان کو چوتھی کوشش میں کامیابی ملی۔ ادیبہ کے والد کی مالی حالت بہت خراب تھی، اس لیے انہیں اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ انھوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا رکشہ تک بیچ دیا۔ ادیبہ انعم کی داستان سن کر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر انسان میں ہمت اور لگن ہوتو کوئی بھی چیز اسے اپنے مقصد کےحصول میں حائل نہیں ہوسکتی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ سے حال ہی میں ایم ٹیک مکمل کرنے والی طالبہ تمکین فاطمہ کی وزارتِ دفاع، حکومتِ ہند کے تحت ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) میں بطور سائنس داں ‘بی’ تقرری عمل میں آئی ہے۔ ان کا انتخاب ایک مسابقتی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں علمی کارکردگی، گیٹ اسکور اور انٹرویو شامل تھے۔
محترمہ تمکین فاطمہ نے 2025 میں ایم ٹیک (کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ) میں فرسٹ رینک حاصل کی۔ انہوں نے 2023 میں بی ٹیک بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کیا تھا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے 2024 میں اپنی پہلی ہی کوشش میں یو جی سی نیٹ (جے آر ایف) امتحان، کمپیوٹر سائنس میں آل انڈیا رینک 2 کے ساتھ پاس کیا۔
سیاست کی بات کی جائے تو اقراحسن چودھری جون، 2024 سے کیرانہ حلقے کی نمائندگی کرنے والی ہندوستان کی سب سے کم عمر مسلم رکن پارلیمنٹ (ایم پی) بن گئی ہیں۔ وہ کیرانہ کے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے دادا چودھری اختر حسن ، والد منور حسن اور والدہ تبسم حسن، تینوں لوک سبھا سے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ جب کہ اقرا کے بھائی ناہید حسن کیرانہ سے رکن اسمبلی ہیں۔
اقرا حسن بتاتی ہیں کہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، شاید ان کے والد نے انہیں گھر سے دور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا کیونکہ وہ انہیں گھر کے سیاسی ماحول سے دور رکھنا چاہتے تھے لیکن جب ان کے والد ایک حادثے میں انتقال کر گئے اور والدہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں تو ان سے قربت کی وجہ سےمجھے بھی سیاسی لوگوں سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا۔
ہندوستانی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی اور ہندوستانی فضائیہ کی ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نمایاں شخصیات تھیں، جنہوں نے مئی، 2025 میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن سندور کے بارے میں دنیا کو بریف کیا، جو مسلح افواج میں خواتین کی قیادت کی علامت ہے۔ کرنل صوفیہ نے جہاں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیکر حکومت اور اعلی افسران کا اعتماد حاصل کیا، وہیں یہ ثابت بھی کیا کہ اگرخواتین کو موقع ملے تو مشکل ترین کام سے بھی پیچھے نہیں ہٹتیں ۔
ڈاکٹر شبنم شبیر شیخ مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک بین الاقوامی ریسلنگ کوچ ہیں۔ انھیں ہندوستان کی ایسی پہلی خاتون کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے اسپورٹس اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ انھوں نے متعدد ریاستی اور قومی تمغے جیتے ، جن میں 2010 میں ‘ویمن مہاراشٹر کیسری’ خطاب بھی شامل ہے۔ وہ دوسری لڑکیوں کو کھیلوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سرگرمی سے کام کرتی ہیں۔
فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی، ایسی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے، جوکچھ کرگزرنے کا جذبہ رکھتی ہیں اور ملک وسماج کی تعمیروترقی میں تعاون کرنا چاہتی ہیں۔ ان خواتین نے اپنی ہمت،لگن اورجوش وجذبہ سے نہ صرف اپنے لیے خاص مقام حاصل کیا بلکہ ملک وملت کانام بھی روشن کیا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کی زندگی ،جدوجہد اور حصولیابیاں لاتعداد مسلم لڑکیوں کے لیے باعث تحریک بنیں گی ۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے 14 نکاتی ‘اسلام آباد مفاہمت نامے (ایم او یو)’ پر مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو ‘اسلام آباد ایم او یو’ کہا جانا پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی کردار کو ظاہر کرتا ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کے لیے شدید جھٹکا ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ سال 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا تھا، لیکن اب پاکستان مغربی ایشیا کے جیو پولیٹیکل اور سکیورٹی نظام میں زیادہ اثر و رسوخ والا کردار ادا کر رہا ہے، جس کے ہندوستان کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایم او یو اپنے الفاظ اور جذبے کے مطابق نافذ ہوتا ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی، حالانکہ اس کے ‘میمورنڈم آف مس انڈراسٹینڈنگ’ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق، اگلے 60 دن اس معاہدے کی کامیابی کے لحاظ سے بے حد اہم ہوں گے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے ایران کو کئی اہم اور غیر متوقع فوائد ملے ہیں اور اس نے اپنی مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے احتیاط کے ساتھ اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن وہ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔
مسٹر رمیش نے اسے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اب بھی اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تئیں حکومت کا یہ رخ ہندوستان کے مفادات کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہمات اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی پر امریکی صدر کے تئیں خوش
خوشامد پسندی کا الزام لگاتے ہوئے مرکز حکومت کی خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ، عرب امارات، جاپان، کوریا اور مصر کے لیڈروں سے کی مودی نے بات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ایویاں میں جی-7 سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے منگل کو دوطرفہ ملاقات کی مسٹر مودی نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ، جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی الگ الگ ملاقات کے دوران دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر اسٹارمر اور مسٹر مودی نے گزشتہ سال باہمی دوروں کے بعد سے ہندوستان-برطانیہ تعلقات میں مضبوط رفتار کا جائزہ لیا اور ’ویژن 2035‘ کے تمام اہم ستونوں—تجارت اور اقتصادی ترقی، دفاع اور سکیورٹی، ماحولیاتی کارروائی اور گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور اختراع نیز تعلیم اور لوگوں کے باہمی تعلقات—میں ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے کے جلد نافذ ہونے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے مضبوط تعلیمی شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کیا اور بنگلورو میں یونیورسٹی آف لیورپول کی طرف سے اپنا کیمپس قائم کرنے اور ممبئی میں یونیورسٹی آف یارک اور یونیورسٹی آف برسٹل کے کیمپس کھولنے کے لیے حال ہی میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور یوکرین سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان-برطانیہ جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کو دہرایا۔ مسٹر مودی اور مسٹر آل نہیان کے درمیان اس سال یہ تیسری ملاقات تھی جس سے ہندوستان-یو اے ای کی مضبوط اور متحرک اسٹریٹجک شراکت داری کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس سال جنوری میں صدر آل نہیان کے دورۂ ہندوستان اور مئی میں وزیر اعظم مودی کے دورۂ متحدہ عرب امارات کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں ہوئی پیش رفت اور مثبت تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے خطے میں مستقل امن، سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز سے مسلسل بلا رکاوٹ، محفوظ اور پرامن آمد و رفت اور تجارت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے صدر آل نہیان کو اس سال کے آخر میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے برکس بربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
ہندوستان1 day ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
































































































