تازہ ترین
امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

تحریر رفیق احمد راتھر
ملک کے سابق وزیر داخلہ اور ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کو ان کی آٹھویں برسی کے موقع پر یاد کرنا محض ایک سیاسی رہنما کی یاد منانا نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاست کا سنجیدہ محاسبہ کرنا ہے جو اقتدار کے بجائے امکان پر یقین رکھتی تھی۔ وہ امکان جو مکالمے، مفاہمت اور انسان دوستی سے جڑا ہوا تھا، مگر جس کی قیمت سیاسی نقصان، عوامی ناراضگی اور ذاتی تنقید کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔ مفتی محمد سعید ان چند سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے آسان اور مقبول فیصلوں کے بجائے مشکل اور غیر مقبول راستے کا انتخاب کیا۔
جموں و کشمیر کی سیاست طویل عرصے سے تصادم، بداعتمادی اور طاقت کے استعمال کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایسے ماحول میں مفتی محمد سعید نے سیاست کو محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ریاستی طاقت وقتی نظم تو قائم کر سکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف عوامی اعتماد، مکالمے اور عزتِ نفس کے اعتراف سے ہی ممکن ہے۔ یہی سوچ ان کے سیاسی فلسفے کی بنیاد بنی۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا قیام اسی فکری پس منظر کا عملی اظہار تھا۔ مفتی محمد سعید نے ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھی جو دہلی اور کشمیر کے درمیان اعتماد کے پل بنانے کی بات کرتی تھی۔ Human” Approach،”
“Reconciliation” اور عوامی شمولیت جیسے تصورات اس وقت سیاست میں متعارف کرائے گئے جب سخت گیر رویّے اور طاقت کی زبان غالب تھی۔ یہ ایک مختلف اور جراتمندانہ بیانیہ تھا، جس نے عوام میں امید اور اعتماد کو جنم دیا۔
یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مفتی محمد سعید نے جموں و کشمیر میں ایک مضبوط اور نظریاتی سیاسی متبادل ایسے وقت میں کھڑا کیا، جب حکمران نیشنل کانفرنس کے خلاف بات کرنا بھی خود کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ طویل اقتدار، ادارہ جاتی اثر و رسوخ اور سیاسی اجارہ داری کے ماحول میں پی ڈی پی کا قیام دراصل کشمیری عوام کو ایک سیاسی استحصال سے نجات دلانے کی کوشش تھی۔ مفتی محمد سعید نے خوف کی سیاست کو چیلنج کیا اور عوام کو یہ احساس دلایا کہ متبادل سیاست نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی۔
2002 کا سال مفتی محمد سعید کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ محض سولہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود کانگریس کے ساتھ حکومت بنانا جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک انوکھا اور جراتمندانہ واقعہ تھا۔ عددی کمزوری کے باوجود یہ حکومت آج بھی ایک کامیاب، شفاف اور عوام دوست حکومت کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ اس دور میں پہلی بار عام شہری کو راست کاری، تعمیر و ترقی اور سب سے بڑھ کر جانی و مالی تحفظ کا حقیقی احساس ہوا۔ خوف کی فضا میں کمی، پولیس اور سکیورٹی نظام کو انسانی چہرہ دینا اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کیے گئے اقدامات آج بھی ایک معیار سمجھے جاتے ہیں۔
اسی دور میں لائن آف کنٹرول کے آرپار روابط، بس سروس اور تجارتی امکانات کا آغاز ایک تاریخی پیش رفت تھی۔ ریاست کو آرپار جوڑنے کا یہ تصور محض سفری سہولت نہیں بلکہ بکھرے ہوئے خاندانوں، منقسم دلوں اور منجمد رشتوں کو جوڑنے کی ایک انسانی کوشش تھی۔ یہ وہ کارنامہ تھا جسے دہائیوں تک نیشنل کانفرنس سمیت بڑی جماعتیں اپنی طویل حکمرانی کے باوجود عملی شکل نہ دے سکیں۔ مفتی محمد سعید نے ثابت کیا کہ نیت ہو تو محدود مینڈیٹ بھی بڑے فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
کانگریس کے ساتھ حکومت سازی کا یہ تجربہ مجموعی طور پر سودمند ثابت ہوا۔ اسی تجربے نے مفتی محمد سعید کو یہ اعتماد دیا کہ اگر نیت واضح ہو تو متضاد نظریات کے باوجود بھی حکومت کو عوامی مفاد میں چلایا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ مرکز میں اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بھی نسبتاً مثبت، متوازن اور سیاسی استحکام کا حامل تھا۔ واجپائی دور میں جموں و کشمیر کے حوالے سے مکالمے اور مفاہمت کی جو گنجائش موجود تھی، اس نے مفتی محمد سعید کے اس یقین کو تقویت دی کہ مرکز میں برسرِ اقتدار جماعت کے ساتھ شراکت ریاست کے لیے کچھ بہتر امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ یہی پس منظر بعد کے برسوں میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی سوچ کا باعث بنا۔
تاہم بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی ان کے سیاسی سفر کا سب سے جراتمندانہ، متنازع اور تاریخی فیصلہ ثابت ہوا۔ نظریاتی طور پر یہ اتحاد آسان نہ تھا۔ ایک طرف بی جے پی کا سخت قومی بیانیہ، دوسری طرف پی ڈی پی کا نرم، انسان دوست اور کشمیر مرکز نقطۂ نظر’ یہ تضاد سب پر عیاں تھا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کے دو خطوں، جموں اور کشمیر، سے ملنے والے متضاد مینڈیٹ کی حقیقت بھی اس فیصلے میں شامل تھی۔ مفتی محمد سعید کے نزدیک اس مینڈیٹ کی قدر اور اس کا احترام ایک مشترکہ حکومت کے ذریعے ہی ممکن تھا۔
وہ بخوبی جانتے تھے کہ یہ فیصلہ ان کی جماعت اور ووٹرز کے لیے شدید ذہنی صدمے کا باعث بنے گا، مگر انہوں نے یہ قدم کسی اقتدار کی لالچ میں نہیں اٹھایا۔ وزیر اعلیٰ بننا ان کے لیے کوئی نیا یا غیر معمولی اعزاز نہیں تھا۔ اصل محرک یہ سوچ تھی کہ اگر مرکز میں طاقت کے اصل سرچشمے کے ساتھ براہِ راست سیاسی شراکت قائم ہو جائے تو شاید کشمیر کے لیے انسانی اور سیاسی ریلیف کا کوئی راستہ نکل سکے۔ ان کے نزدیک یہ اتحاد اقتدار کا نہیں بلکہ امکان کا انتخاب تھا۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اس فیصلے کا پی ڈی پی کو بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔ پارٹی کا نظریاتی تشخص مجروح ہوا، کارکنان بددل ہوئے اور عوامی اعتماد کو شدید دھچکا لگا۔ مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ مفاہمت، مصلحت میں بدل گئی ہے۔ مفتی محمد سعید کی ذات اور نیت پر بھی سوال اٹھائے گئے، مگر اس تمام دباؤ کے باوجود انہوں نے مکالمے کے دروازے بند نہیں کیے۔
بدقسمتی سے موجودہ مرکزی سرکار کے سخت گیر، غیر لچکدار اور طاقت پر مبنی رویّے نے اس مفاہمتی تصور کو کمزور کر دیا جس کی بنیاد پر مفتی محمد سعید نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ یوں یہ سیاسی تجربہ اپنی مکمل روح کے ساتھ کامیاب نہ ہو سکا، اور اس ناکامی کی قیمت سب سے زیادہ خود پی ڈی پی اور مفتی محمد سعید کو ادا کرنی پڑی۔
تاہم سیاست کو صرف کامیابی اور ناکامی کے سادہ پیمانے پر پرکھنا ایک محدود سوچ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے میں جرات تھی؟ اور جواب واضح ہے—ہاں۔ مفتی محمد سعید نے وہ راستہ اختیار کیا جس پر چلنے سے اکثر سیاست دان کتراتے ہیں۔
آج، جب جموں و کشمیر ایک بار پھر غیر معمولی سیاسی اور آئینی دور سے گزر رہا ہے، مفتی محمد سعید کی فکر پہلے سے زیادہ معنی خیز محسوس ہوتی ہے۔ ان کا ورثہ محض ایک جماعت یا ایک خاندان تک محدود نہیں بلکہ ایک فکری معیار اور اخلاقی پیمانہ ہے۔ وہ اقتدار کے اسیر نہیں تھے، وہ امکان پر یقین رکھتے تھے—چاہے اس کی قیمت انہیں خود کیوں نہ چکانی پڑے۔ یہی ان کی اصل جرات تھی، اور یہی ان کی سیاست کا حقیقی حاصل۔
مصنف پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری ہیں اور اس سے قبل ٹریڈ یونین لیڈر اور تعلیمی ماہر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
دنیا
امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے
واشنگٹن، آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے، امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے۔
امریکی نیوز چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے کے جواب میں ایران کے خلاف حملے شروع کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی آرمی کے اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرائے جانے کے بعد ایران کے خلاف جوابی فضائی حملے شروع کر دیے گئے ہیں، امریکی فوج ایران میں صرف مخصوص اہداف کو نشانہ بنارہی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کو “اس حملے کا لازمی طور پر جواب دینا تھا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے خطے میں مزید فوجی اقدامات کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے دو امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ ایک ذریعے کے مطابق حملے میں شاہد ڈرون استعمال کیا گیا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا یا وہ کراس فائر کا شکار ہوا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غیر ملکی افواج کو آبنائے ہرمز سے نکل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں موجود بیرونی افواج انسانی غلطیوں، حادثات یا ممکنہ کراس فائر کے باعث مسلسل خطرات سے دوچار رہیں گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرق وسطیٰ کو ایک بڑے تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال عالمی تیل رسد اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے جان بوجھ کر کسی امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ نہیں بنایا: نائب ایرانی وزیر خارجہ
تہران، تہران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران نے جان بوجھ کر کسی امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ نہیں بنایا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے الجزیرہ کو بتایا کہ اتوار کے روز آبنائے ہرمز کے اوپر تباہ ہونے والے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایران نے جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا تھا۔ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ علاقے میں کشیدہ فوجی صورت حال کے باعث اس نوعیت کے واقعات غیر ارادی طور پر پیش آسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا ”ایران اس حملے کے پیچھے نہیں تھا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدہ ماحول کے باعث ایسے واقعات غیر ارادی طور پر رونما ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ہیلی کاپٹر کو ایران کی جانب سے جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔”
ایران نے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائل داغ دیے ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی رپورٹ کیا کہ فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں 24 گھنٹوں کے دوران کوئی فضائی کارروائی نہیں کی تھی۔ تاہم دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے ”ہمارے عزم کو آزمانے” کا راستہ اختیار کیا ہے اور ایران کی مسلح افواج ”کسی بھی حملے یا دھمکی کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑیں گی۔” انھوں نے مزید کہا ”اگر آپ محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے خطے سے نکل جائیں۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں حادثاتی دھماکے میں دو فوجیوں کی موت
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک حادثاتی دھماکے میں فوج کے دو جوان ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع حکام نے بدھ کے روز دی۔
انہوں نے بتایا کہ منگل کی شام ایل او سی کے قریب کمل کوٹ، اُری سیکٹر میں غلطی سے ہونے والے ایک دھماکے میں دو فوجی شدید زخمی ہو گئے تھے۔
دونوں زخمی جوانوں کو فوری طور پر جائے وقوعہ سے نکال کر علاج کے لیے سری نگر کے بادامی باغ میں واقع فوج کے 92 بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام نے کہا کہ اسپتال میں دونوں فوجیوں کی زخموں کی وجہ سے موت ہوگئی۔ ہلاک ہونے والے فوجی ریاست مہاراشٹر کے رہنے والے تھے۔
واقعے کے حوالے سے تاحال دفاعی ترجمان کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر7 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
دنیا7 days agoیہ بھی ممکن ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے کبھی ملاقات کروں: ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی اراکینِ پارلیمنٹ اور وزراء کے ساتھ خفیہ اور اہم اجلاس






































































































