دنیا
ٹرمپ کی کولمبیا کے صدر پیٹرو سے فون پر بات، وائٹ ہاؤس مدعو کیا

واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کولمبیا کے خلاف فوجی کارروائی کی بات کیے جانے کے چند ہی دن بعد بدھ کے روز دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔
مسٹر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے منشیات کی اسمگلنگ اور دونوں ممالک کے درمیان جاری دیگر تنازعات پر بات چیت کے لیے انہیں فون کیا تھا۔ اس گفتگو کے بعد مسٹر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ صدر پیٹرو کے ساتھ صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ جنوری 2025 میں مسٹر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے اور وینزویلا میں حالیہ فوجی کارروائی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا براہِ راست رابطہ ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے لکھا ہے کہ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو سے بات کرنا اعزاز کی بات تھی۔ انہوں نے منشیات کے تعلق سے اور ہمارے درمیان موجود اختلافات کی وضاحت کے لیے فون کیا تھا۔ میں ان کی کال اور انداز گفتگو کو سراہتا ہوں اور مستقبل قریب میں ان سے ملاقات کا خواہشمند ہوں۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور کولمبیا کے وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوگی، تاہم تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
صدر پیٹرو نے بھی اس گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’خوشگوار‘ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے دونوں حکومتوں کے درمیان براہِ راست مکالمے کی بحالی کی درخواست کی ہے۔ صدر پیٹرو نے دارالحکومت بوگوٹا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ گفتگو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسٹر ٹرمپ کے اقتدار میں واپسی کے بعد سے امریکہ اور کولمبیا کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے بارہا کولمبیا پر امریکہ میں کوکین کی اسمگلنگ کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
کولمبیا نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مکالمے، تعاون اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کے لیے پُرعزم ہیں، اور ریاستوں کے درمیان طاقت کے استعمال یا دھمکی کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔
یو این آئی۔ ایس اے۔ایس وائی
دنیا
اسٹارمر کے مستعفی ہونے کی خبروں کے درمیان ٹرمپ نے نیک خواہشات کا اظہار کیا
واشنگٹن/لندن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے ممکنہ استعفے سے متعلق خبروں کے درمیان ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، “برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر استعفیٰ دے دیں گے۔ میں ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔”
تاہم ٹرمپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت یا اندرونی معلومات پیش نہیں کیں۔
ان کی یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی جب برطانوی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ دباؤ کا شکار لیبر پارٹی کے رہنما کیر اسٹارمر آئندہ چند دنوں میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت نہ کرنے پر اسٹارمر کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اتوار کو اپنی پوسٹ میں انہوں نے ایک بار پھر برطانوی وزیر اعظم پر دو اہم معاملات میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
ٹرمپ نے لکھا، “وہ دو انتہائی اہم موضوعات، امیگریشن اور توانائی (شمالی سمندر میں تیل کی پیداوار کھولو!) میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔”
برطانوی حکومت کی جانب سے تاحال اسٹارمر کے استعفے سے متعلق خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
امریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تہران/برگن اسٹاک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، تاہم بات چیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق مذاکراتی عمل سے وابستہ ایک ایرانی ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پس پردہ رابطے (بیک چینل رابطے) بدستور جاری ہیں۔
دریں اثنا ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں امریکہ کی “مایوسی” قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اتوار کو مذاکراتی عمل کے دوران خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے اقدامات کر سکتا ہے۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا، “اگر ان کی دھمکیاں واقعی مؤثر ہوتیں تو آج انہیں اس حد تک مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکی دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا اور ملک کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
امریکی صدر ٹرمپ کی بائیں بازو کے انتہا پسندوں اور ڈیموکریٹس پر تنقید
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیں بازو کے انتہا پسندوں اور ڈیموکریٹس پر سخت تنقید کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ان کو اب اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم نے ایران کے خلاف کتنی بڑی کامیابی حاصل کی، تہران کو حالیہ جنگ میں مکمل طور پر شکست ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایران کو اربوں ڈالرز فراہم کیے، اوباما نے ایران کے خلاف امریکی فوج کا استعمال ہی نہیں کیا جو ضروری تھا، دنیا میں دہشتگردی کے سب سے بڑے سرپرست ایران کو قابو کرنا ناگزیر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام اوباما اور جو بائیڈن کو انتہائی ناکام لیڈر سمجھتے تھے، وہ ان کو ناکام سمجھنے میں 100 فیصد درست تھے، میرے برسر اقتدار آنے سے پہلے ایران مسلسل 47 برس من مانی کرتا رہا، جبکہ میرے اقتدار میں آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا امریکہ پھر سے طاقتور ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے ڈیموکریٹس دعویٰ کر رہے ایران پہلے سے مضبوط ہے، تہران کو مکمل فوجی شکست ہو چکی اب اس کی بحریہ باقی ہے اور نہ فضائیہ۔
امریکی صدر نے ڈیموکریٹس کو بے وقوف قرار دے دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
ہندوستان4 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا7 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا7 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا7 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
ہندوستان7 days agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا5 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان






































































































