ہندوستان
ہندوستان میں دنیا کا پہلا اے آئی پر مبنی چائلڈ سیفٹی ٹول ‘رکشا’ لانچ کیا

نئی دہلی، ہندوستان میں اے آئی پر مبنی دنیا کا پہلا چائلڈ سیفٹی ٹول ‘رکشا’ لانچ کیا گیا، یہ اپنی نوعیت کا پہلا، ٹیکنالوجی سے چلنے والا ٹول ہے جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلایا گیا ہے۔ یہ بچوں کی اسمگلنگ، بچوں کی شادی اور بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد (سی۔سم) کو مؤثر طریقے سے روکنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، یہ اے آئی پر مبنی ٹول حکومت ہند کی انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 سے قبل لانچ کیا گیا ہے، جو 16-20 فروری 2026 کو منعقد ہونے والی ہے۔ بچوں کی حفاظت کے لیے خاص طور پر تیار کردہ ‘رکشا’ کو وزیر مملکت برائے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی،جتن پرساد پروسپیرٹی فیوچر:چائلڈ سیفٹی ٹیک سمٹ میں لانچ کیا، جو حکومت ہند کے اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا آفیشل پری سمٹ پروگرام ہے۔ اس کانفرنس کا اہتمام الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے تعاون سے جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی) نے اپنے اسٹریٹجک پارٹنر، انڈیا چائلڈ پروٹیکشن کے تعاون سے کیا۔ بچوں کی حفاظت کے لیے یہ ٹول ’رکشا‘ جسٹس رائٹس فار چلڈرن نے تیار کیا ہے، جس کے تحت 250 سے زائد شراکت دار سول سوسائٹی تنظیموں کا ایک نیٹ ورک قائم ہے۔ یہ نیٹ ورک ملک کے 451 اضلاع میں زمینی سطح پر کام کر رہا ہے تاکہ بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی روک تھام، شناخت اور مؤثر ردِعمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔
بچوں کے تحفظ سے متعلق اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس سے ڈیجیٹلی خطاب کرتے ہوئے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کامرس و صنعت کے مرکزی وزیر مملکت جتن پرساد نے کہا، “ٹیکنالوجی کی اصل قدر کا اندازہ سب سے زیادہ حساس طبقات اور افراد کے تحفظ میں مضمر ہے۔ بچے ہمارے مستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ جس ڈیجیٹل دنیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو وہ پائیں، وہ محفوظ، جامع اور انہیں بااختیار بنانے والی ہو۔ یہ جان کر مجھے خوشی ہے کہ جسٹ رائٹس فار چلڈرن بچوں کی حفاظت، بااختیار بنانے اور تحفظ کے لیے اے آئی پر مبنی ٹول کا آغاز کر رہا ہے۔”
مرکزی وزیرِ مملکت جتِن پرساد نے مزید کہا کہ ’رکشا‘ ٹول بچوں کی حفاظت اور تحفظ کی اقدار کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور ایک مضبوط و مؤثر نظامِ تحفظِ اطفال کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے جسٹ رائٹس فار چلڈرن کو اس ذمہ داری کو مکمل عزم کے ساتھ نبھانے اور اے آئی و ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ملک کے بچوں کے محفوظ حال اور خوشحال مستقبل پر تعمیری مکالمے کے لیے تمام فریقوں اور شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے نیز اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔
اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ رکشا کس طرح پورے چائلڈ پروٹیکشن ایکو سسٹم کو تبدیل کر سکتی ہے، جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے بانی بھوون ریبھو نے کہا، “ہندستان بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنے اور بچوں کی حفاظت اور خوشحالی کو آگے بڑھانے کے لیے اے آئی کے استعمال میں رہنمائی کر رہا ہے۔ ’رکشا‘ دنیا کے سب سے زیادہ جامع نظام چائلڈ پروٹیکشن پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے ہندستان کی عالمی قیادت میں ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ ہر بچے اور ہر کمزور خاندان کی شناخت اور نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی کو علم اور ٹھوس کارروائی میں تبدیل کر کے یہ نقطہ نظر انصاف تک رسائی کو بڑھا رہا ہے، کمزور خاندانوں کے لیے خدمات کے معیار کو بہتر بنا رہا ہے اور ہم ساتھ مل کر ہر بچے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے۔
رکشا ملک بھر سے بچوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے اور جدید اے آئی صلاحیتوں کا استعمال کر کےبچوں کی اسمگلنگ اور بچوں کی شادی کے خطرے سے دوچار علاقوں کی بروقت نقشہ سازی، کمزور بچوں اور کمیونٹیز کی شناخت، منافع بخش منظم جرائم میں ملوث گروہوں کی نگرانی جیسے اسمگلنگ، منبع اور منزل کے مقامات کا سراغ لگانا، اور ابھرتے ہوئے نئے مراکز کا پتہ لگانے اور ان کا پتہ لگانے کے قابل بناتا ہے۔
بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام میں اے آئی کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے رکنِ پارلیمان لاوو شری کرشن دیورایلو نے کہا:“مصنوعی ذہانت اب مستقبل کا کوئی وعدہ نہیں رہی بلکہ موجودہ دور کی ایک حقیقت بن چکی ہے۔ یہ اس بات کو تشکیل دے رہی ہے کہ ہم کیسے سیکھتے ہیں، حکومت کرتے ہیں اور کام کرتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی طے کر رہی ہے کہ ہمارے بچے کس سے اور کس طرح جڑتے ہیں۔ اے آئی ہمیں محض ردِعمل سے آگے بڑھ کر روک تھام کی جانب لے جاتی ہے اور نقصان کی صرف دستاویز سازی سے آگے بڑھ کر خطرات کی پیشگی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
یو این آئی ۔ ظ ا۔ م الف
ہندوستان
‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے 14 نکاتی ‘اسلام آباد مفاہمت نامے (ایم او یو)’ پر مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو ‘اسلام آباد ایم او یو’ کہا جانا پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی کردار کو ظاہر کرتا ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کے لیے شدید جھٹکا ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ سال 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا تھا، لیکن اب پاکستان مغربی ایشیا کے جیو پولیٹیکل اور سکیورٹی نظام میں زیادہ اثر و رسوخ والا کردار ادا کر رہا ہے، جس کے ہندوستان کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایم او یو اپنے الفاظ اور جذبے کے مطابق نافذ ہوتا ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی، حالانکہ اس کے ‘میمورنڈم آف مس انڈراسٹینڈنگ’ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق، اگلے 60 دن اس معاہدے کی کامیابی کے لحاظ سے بے حد اہم ہوں گے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے ایران کو کئی اہم اور غیر متوقع فوائد ملے ہیں اور اس نے اپنی مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے احتیاط کے ساتھ اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن وہ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔
مسٹر رمیش نے اسے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اب بھی اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تئیں حکومت کا یہ رخ ہندوستان کے مفادات کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہمات اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی پر امریکی صدر کے تئیں خوش
خوشامد پسندی کا الزام لگاتے ہوئے مرکز حکومت کی خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ، عرب امارات، جاپان، کوریا اور مصر کے لیڈروں سے کی مودی نے بات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ایویاں میں جی-7 سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے منگل کو دوطرفہ ملاقات کی مسٹر مودی نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ، جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی الگ الگ ملاقات کے دوران دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر اسٹارمر اور مسٹر مودی نے گزشتہ سال باہمی دوروں کے بعد سے ہندوستان-برطانیہ تعلقات میں مضبوط رفتار کا جائزہ لیا اور ’ویژن 2035‘ کے تمام اہم ستونوں—تجارت اور اقتصادی ترقی، دفاع اور سکیورٹی، ماحولیاتی کارروائی اور گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور اختراع نیز تعلیم اور لوگوں کے باہمی تعلقات—میں ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے کے جلد نافذ ہونے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے مضبوط تعلیمی شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کیا اور بنگلورو میں یونیورسٹی آف لیورپول کی طرف سے اپنا کیمپس قائم کرنے اور ممبئی میں یونیورسٹی آف یارک اور یونیورسٹی آف برسٹل کے کیمپس کھولنے کے لیے حال ہی میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور یوکرین سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان-برطانیہ جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کو دہرایا۔ مسٹر مودی اور مسٹر آل نہیان کے درمیان اس سال یہ تیسری ملاقات تھی جس سے ہندوستان-یو اے ای کی مضبوط اور متحرک اسٹریٹجک شراکت داری کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس سال جنوری میں صدر آل نہیان کے دورۂ ہندوستان اور مئی میں وزیر اعظم مودی کے دورۂ متحدہ عرب امارات کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں ہوئی پیش رفت اور مثبت تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے خطے میں مستقل امن، سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز سے مسلسل بلا رکاوٹ، محفوظ اور پرامن آمد و رفت اور تجارت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے صدر آل نہیان کو اس سال کے آخر میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے برکس بربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر7 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا5 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
ہندوستان1 day ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
































































































