دنیا
‘آسان یا مشکل راستہ’، ٹرمپ کی ایک بار پھر حماس کو غیر مسلح ہونے کی دھمکی

واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر حماس سے فوری طور پر غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ حماس یہ کام ‘آسان طریقے سے یا مشکل طریقے سے’ کرسکتی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حماس تمام وعدے فوراً پورے کرے جس میں آخری اسرائیلی قیدی ران گویلی کی لاش کی واپسی اور مکمل طور پر حماس کا غیر مسلح ہونا شامل ہے۔
امریکہ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس کی باقی ذمہ داریاں اب بھی پوری نہیں ہوئیں۔ دوسرے مرحلے میں امریکہ حماس کے اسلحے کے خاتمے اور ایک بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی پر کام کرے گا تاہم حماس کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ سے مکمل انخلا نہیں کرتا وہ اسلحہ نہیں چھوڑے گی۔
دوسری جانب اسرائیل جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور مشرقی غزہ کی نام نہاد ‘ییلو لائن’ سے فوجی انخلا بھی نہیں کیا۔ اسرائیل نے امدادی سامان کی فراہمی بھی محدود کر رکھی ہے۔
جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی انتظام سنبھالے گی جس کی نگرانی ایک ‘بورڈ آف پیس’ کرے گا جس کے صدر امریکی صدر ٹرمپ ہوں گے۔
واضح رہے کہ غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت برقرار ہے۔
اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں کے مطابق اسرائیل نے مطلوبہ مقدار میں انسانی امداد کی اجازت نہیں دی جس کے باعث انسانی بحران بدستور سنگین ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
چین و امریکہ کے تعلقات صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں: چینی مندوب
اقوام متحدہ، اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں، تعلقات دونوں ممالک اور عوام کے مفاد میں ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے وقت آبنائے ہرمز بند ہوئی تو یہ اہم ایجنڈا ہو گا۔ چینی مندوب کا کہنا ہے کہ چین اور امریکا کے مضبوط اور پائیدار تعلقات دنیا کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور تعاون سے چین اور امریکہ کے تعلقات آگے بڑھ سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ سے تعلقات کا مطلب ٹرمپ کے ہر اقدام سے اتفاق کرنا نہیں: آسٹریلوی وزیراعظم
کینبرا، آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیزی کا کہنا ہے کہ امریکہ سے تعلقات کا مطلب ٹرمپ کے ہر اقدام سے اتفاق کرنا نہیں ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیزی نے امریکی صدر ٹرمپ کی خارجہ اور معایشی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ شروع کرنے سے پہلے اتحادیوں سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ امریکہ فرسٹ پالیسی اور تجارتی محصولات نے اتحادیوں کو دور کردیا ہے۔ انتھونی البانیزی نے کہا کہ دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، بدلتے عالمی حالات میں قومی مفادات کا تحفظ ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع سے جلد باہر نہ نکلنے کا اعلان کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقاصد کے حصول تک تنازع سے نہیں نکل سکتےکیونکہ اس سے مسئلہ چند سالوں بعد دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر ایران کو نہ روکتے تو اسرائیل اور یورپ کے پرزے پرزے کیے جاچکے ہوتے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے پاس بحریہ، فضائیہ اور کوئی قیادت نہیں رہی، ایران کی قیادت باقی نہ رہنے پر افسوس ہے، وہ بہت اچھے لوگ تھے، ایران کی پہلے اور دوسرے درجےکی قیادت ماری جا چکی، یہ برے لوگ تھے، انہوں نے 45 ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے بعد کیوبا پر ’فوری قبضے‘ کی تیاریاں، ٹرمپ کا بحری بیڑے کی تعیناتی کا اشارہ
فلوریڈا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کیوبا پر ’’فوری قبضے‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ ’’ایران کے ساتھ مشن مکمل ہونے کے بعد امریکہ اپنا بحری بیڑہ کیریبین ملک بھیج سکتا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے یہ تبصرہ فلوریڈا میں ایک عوامی تقریب کے دوران کیا، اس سے کچھ دن پہلے کہ انہوں نے کیوبا کی حکومت اور اس سے منسلک اداروں کے خلاف پابندیوں میں توسیع کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔ مسٹر ٹرمپ نے سامعین کو ہنسانے کے لیے کہا، “کیوبا نامی ایک جگہ ہے، جسے ہم تقریباً فوراً اپنے کنٹرول میں لے لیں گے۔” “کیوبا کے اپنے مسائل ہیں۔ ہم پہلے ایک چیز ختم کریں گے… میں ایک چیز کو پہلے ختم کرنا چاہتا ہوں۔”
انہوں نے اپنے پہلے بیان کا اعادہ کیا کہ کیوبا کے خلاف کوئی بھی کارروائی ایران کے ساتھ جاری امریکہ اسرائیل جنگ کے بعد کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر نے تجویز پیش کی کہ امریکہ جزیرے والے ملک (کیوبا) کے قریب ایک طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کر سکتا ہے۔ اس نے کہا، “ایران سے واپسی پر، ہمارے پاس اپنا ایک بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ہوگا۔ شاید دنیا کا سب سے بڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن۔ ہم اسے ساحل سے صرف 100 گز کے فاصلے پر روک کر وہاں بھیجیں گے۔ وہ کہیں گے، ‘بہت بہت شکریہ۔ ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔’ مجھے کام کرنا پسند ہے۔”
دریں اثنا، وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک تفصیلی فیکٹ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد کیوبا کی حکومت اور اس کے حامیوں کو انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، دشمن قوتوں کی حمایت، دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام کے لیے جوابدہ بنانا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان1 week agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان1 week agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
جموں و کشمیر5 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا1 week agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا6 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا3 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا6 days agoامریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ
دنیا1 week agoامریکہ کے دوسرے ممالک پر فوجی حملے صرف تیل کے لیے ہیں: روس
جموں و کشمیر1 week agoکپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم











































































































