ہندوستان
وزیر اعظم 17 اور 18 جنوری کوآسام اور مغربی بنگال کا دورہ کریں گے

نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کے روز سے مغربی بنگال اور آسام کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزیر اعظم مالدہ میں 3,250 کروڑ روپے سے زائد کے مختلف ریل اور سڑک منصوبوں اور ہگلی کے سنگور میں 830 کروڑ روپے سے زائد کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے اور افتتاح کریں گے۔ مسٹر مودی ہاوڑہ اور گوہاٹی (کاماکھیا) کے درمیان ہندوستان کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔
وزیر اعظم آسام کے کالیا بور میں 6,950 کروڑ روپے سے زائد لاگت والے قاضی رنگا ایلیویٹڈ کوریڈور منصوبے کا بھومی پوجن کریں گے۔ وہ گوہاٹی (کاماکھیا) روہتک اور ڈبروگڑھ۔لکھنؤ (گومتی نگر) کے درمیان دو نئی امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو بھی ہری جھنڈی دکھائیں گے۔
17 جنوری کو وزیرِ اعظم مالدہ جائیں گے اور مالدہ ٹاؤن ریلوے اسٹیشن پر ہاوڑہ اور گوہاٹی (کاماکھیا) کے درمیان بھارت کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ اس کے بعد وزیرِ اعظم عوامی تقریب میں 3,250 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے متعدد ریل اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور ان کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔
18 جنوری کو تقریباً سہ پہر 3 بجے وزیرِ اعظم ہگلی ضلع کے سنگور میں تقریباً 830 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، سنگِ بنیاد رکھیں گے اور انہیں ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔
بعد ازاں ، وزیرِ اعظم مالدہ جائیں گے اور 3,250 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے متعدد ریل اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور ان کا سنگِ بنیاد رکھیں گے، جن کا مقصد مغربی بنگال اور شمال مشرقی خطے میں رابطے کو مضبوط بنانا اور ترقی کو تیز کرنا ہے۔
وزیرِ اعظم مالدہ ٹاؤن ریلوے اسٹیشن کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ ہاوڑہ اور گوہاٹی (کاماکھیا) کے درمیان بھارت کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ وہ گوہاٹی (کاماکھیا)-ہاوڑہ وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ورچوئلی بھی ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ جدید بھارت کی بڑھتی ہوئی نقل و حمل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی یہ مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ وندے بھارت سلیپر ٹرین مسافروں کو ہوائی جہاز جیسے آرام دہ سفر کی سہولت کم خرچ نرخ پر فراہم کرے گی۔ یہ طویل فاصلے کے سفر کو تیز، محفوظ اور زیادہ آسان بنائے گی۔ ہاوڑہ–گوہاٹی (کاماکھیا) راستے پر تقریباً 2.5 گھنٹے کے سفر کے وقت کی کمی کے ذریعے یہ ٹرین مذہبی سفر اور سیاحت کو بھی فروغ دے گی۔
وزیرِ اعظم مغربی بنگال میں چار بڑے ریل منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے، جن میں بالورگھاٹ اور ہیلی کے درمیان نئی ریل لائن، نیو جلپائی گڑی میں جدید فریٹ مینٹیننس سہولیات، سیلیگڑی لوکو شیڈ کی اپ گریڈیشن، اور جلپائی گڑی ضلع میں وندے بھارت ٹرین مینٹیننس سہولیات کی جدید کاری شامل ہے۔ یہ منصوبے مسافروں اور مال برداری آپریشنز کو مضبوط کریں گے، شمالی بنگال میں لاجسٹک کی کارکردگی بہتر کریں گے اور علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔
جاری۔یو این آئی۔ ظ ا ۔ م الف
ہندوستان
خاتون رکن پارلیمنٹ پر گجرات بی جے پی صدر کا تبصرہ توہین آمیز: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے گجرات بی جے پی صدر جگدیش وشوکرما کی جانب سے کانگریس کی خاتون رکن پارلیمنٹ گیٹی بین ٹھاکور پر کیے گئے مبینہ نازیبا تبصرے کو بی جے پی کی خواتین دشمن ذہنیت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ملک کی خواتین ایسی توہین کا منہ توڑ جواب دیں گی۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے ہفتہ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ ‘ناری وندن’ کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کا اصل چہرہ اس طرح کے تبصروں سے بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اقتدار کو چیلنج کرنے والی خواتین کو بی جے پی برداشت نہیں کر پاتی اور ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کسی فرد واحد کا تبصرہ نہیں ہے، بلکہ خواتین کے تئیں پارٹی کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ خاتون ارکان پارلیمنٹ کے سوالات سے بچنا اور ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ خواتین اپنی توہین کو کبھی نہیں بھولتیں اور گجرات سمیت پورے ہندوستان کی خواتین اس طرح کے رویے کا جمہوری طریقے سے جواب دیں گی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کھرگے، راہل اور پرینکا نے اہل وطن کو دی بدھ پورنیما کی مبارکباد
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ پورنیما کے موقع پر جمعہ کو اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے سب کی خوشحالی کی خواہش کی ہے مسٹر کھرگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ “بدھ پورنیما کے مبارک موقع پر سب کو دلی مبارکباد بھگوان بدھ کی زندگی اور تعلیمات لافانی، ہمہ گیر اور عالمگیر علم کا ذریعہ ہیں۔ سچائی، ہمدردی، عدم تشدد، بیداری اور برابری کا ان کا پیغام نہ صرف ہماری تہذیب کو تشکیل دیتا ہے، بلکہ تصادم اور غیر یقینی صورتحال سے بھرے دور میں بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان کا راستہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اندرونی امن ایک منصفانہ اور ہم آہنگ دنیا کی بنیاد ہے۔ ہم آہنگی برقرار رہے، بھائی چارے کے بندھن گہرے ہوں اور ہماری زندگی نیک صفات سے متاثر ہو۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ “آپ سب کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔ بھگوان بدھ کا فلسفہ حیات اور ان کے خیالات پوری انسانیت کے لیے درس ہیں۔ عدم تشدد، ہمدردی، سچائی، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقیات کا ان کا دکھایا ہوا راستہ ہمیں ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کی طرف چلنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔”
محترمہ گاندھی نے کہا کہ “بھگوان بدھ کی سب سے بڑی سیکھ ہے کہ نفرت کو صرف محبت سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ بھگوان بدھ نے سچائی، عدم تشدد، انسانیت، رحم اور ہمدردی جیسی عظیم اقدار پر چلنے کی ترغیب دی اور دنیا کو امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کا راستہ دکھایا۔ تمام اہل وطن کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔”
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
شاہ کے دورہ لداخ پر کانگریس کا نشانہ، تاریخی بدھ باقیات کا کیا ذکر
نئی دہلی، کانگریس کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ لداخ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر شاہ جمعہ کو پپرہوا کی بدھ باقیات کی “عظمت بیان کرنے ” میں مصروف ہیں، جب کہ لداخ کے عوام کے ریاستی درجے، چھٹے شیڈول کے درجے اور زمین و روزگار کے تحفظ جیسے اہم مطالبات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں مسٹر رمیش نے کہا کہ لداخ میں اس طرح کے مذہبی اور تاریخی مظاہروں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جس سے وزیر داخلہ شاید ناواقف ہیں۔ انہوں نے 14 جنوری 1949 کے ایک تاریخی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن بھگوان بدھ کے دو اہم شاگردوں سارپتر اور مہا موگلان کی مقدس باقیات، جنہیں 1851 میں وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم لے جایا گیا تھا، انہیں واپس ہندوستان لایا گیا تھا۔ ان باقیات کو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے وصول کر کے کولکتہ میں مہابودھی سوسائٹی آف انڈیا کے حوالے کیا تھا۔
کانگریس لیڈر کے مطابق، 1949 میں ہی مسٹر نہرو نے لداخ کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔ اس دوران ممتاز بدھ لیڈر کوشک بکولا رنپوچھے نے ان سے درخواست کی تھی کہ ان باقیات کو لداخ بھی لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل مئی 1950 میں شرمندہ تعبیر ہوئی، جب ان مقدس باقیات کو 79 دنوں تک پورے لداخ میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ اس کے بعد انہیں رنگون، کولمبو اور سانچی میں نصب کیا گیا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی تقریبات کا مقصد صرف مذہبی عقیدت نہیں، بلکہ لوگوں کے ساتھ مکالمہ اور ان کے جذبات کا احترام بھی ہوتا تھا۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان1 week agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان1 week agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
جموں و کشمیر5 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا1 week agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا6 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا3 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا6 days agoامریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ
دنیا1 week agoامریکہ کے دوسرے ممالک پر فوجی حملے صرف تیل کے لیے ہیں: روس
جموں و کشمیر1 week agoکپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم











































































































