تازہ ترین
ویڈیو: این سی نہ لڑا ہوتا تو 1996 میں کوکہ پرے چیف منسٹر ہوتا: عمر عبداللہ

خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صد ر عمر عبداللہ نے ریاست میں میں انتخابات سے ایک بہت بڑا انکشاف کر د یا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر۱۹۹۶ کے انتخابات میں این سی نے شمولیت نہ کی ہوتی تو تب اخوانی کمانڈر کوکہ پرے وزیراعلی بن گئے ہوتے ۔
ا نہوں نے کہا کہ اس وقت وادی میں حالات پر خطر تھے ہر طرف موت کا ڈر تھا ، ، لیکن اس کے باوجود پارٹی کارکنا ن نے نے ریاست کے مجموعی مفاد کے خاطر اپنی جانوں پر کھیل کر انتخابات میں حصہ لیا ۔
دوسری طرف پی ڈی پی نے عمر کے اس بیان پر این سی پر نشانہ سادھا ہے ۔، پارٹی کے ترجمان نعیم اختر نے ردعمل کرتے ہوئے کہا کہ ۱۹۹۶ کے بعد نیشنل کا نفرنس نے ہی کوکہ پرے کے منصوبے کو سرکار ی پالیسی کے طور اپنایا ۔
این سی نے ریاستمیں ٹاسک فورس کو مظبوط کیا ، پوٹا کو لایا ،یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، عمر کو پہلے اپنے گریباں میں جھنکنا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے ٹھیک ۱۱ سال پہلے بھی اسی طرح کا بیان دیا تھا جب وہ اپوزیشن میں ۲۰۰۷ میں انہوں نے کہا تھا ۲۲ ایم ایل ایز آئی بی کے پے رول پر ہیں ، اور انہوں نے یہ بات پھر سے دوہرائی تھی کہ دلی نے ۱۹۹۶ میں کوکہ پرے کو چیف منسٹر کی کرسی کیلئے نامز د کیا ہے ۔
کوکہ پرے کے نام سے مشہور محمد یوسف پرے جو ایک لوک گلوکار تھے ، ۹۰ کی دہائی میں انہوں نے ۹۰ کی دہائی میں جنگجو گروپ میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے اخوان المسلمین نے بنیاد ڈالی ۔، لیکن اسکے کہیں سال بعد ۱۹۹۳ میں انہوں نے فوروسز کا ساتھ دے کر اخوان المسمون بنا لیا ۔ جس میں انہوں نے لگ بھگ ۲۵۰ ملی ٹنٹوں کو سرینڈر کر ا کر سرکار کی طرف سے حمایت یافتہ اس گروپ میں شمولیت کروائی ۔
اس دوران اخوان پر عام لوگوں کی طرف سے قتل عام کی کہانیاں عام ہیں ، کوکہ پرے پر الزام ہے کہ انہوں نے extra judicail killing انجام دیں ہیں ۔
۱۹۹۶ میں اس اخوان نے الیکشن میں لڑنے کا فیصلہ کیا اور جموں کشمیر عوامی لیگ کی بنیاد ڈالی جس میں سابق حزب کمانڈر میر نیازی جنرل سیکر ٹری اور جاوید حسین شاہ کو وائس چیر مین بنایا گیا ۔
ہلال حیدر نامی اخوانی کی سیاسی ونگ پارٹی عوامی کانفرنس بھی اسی پارٹی کیساتھ مل گئی ۔ ۲۱ اگست کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے پارٹی کو تسلیم کرنے کے بعد پارٹی نے ۹۶ میں ۲۷ امیدواروں کو انتخابات میں اتارا ۔
لیکن پارٹی ایک ہی سونوار سیٹ جیتنے میں کامیاب رہی جو کوکہ پرے نے جیتی ، کوکہ پرے نے این سی کے عبدل غنی وکیل کو ہرایا ۔ پارٹی نے اسکے بعد لوک سبھا ناتخابت میں حصے لئے ۔ اور ۱۹۹۹ کے انتخابات میں تیس ہزار کے قریب ووٹ حاسل کئے ۔
پھر ۲۰۰۲ کے اسمبلی انتخابت میں پارٹی نے ۹ امیدوار میدان میں اتارے جن میں سے کوکہ پرے کو ہار ملی جب یاک ہی جیتی گئی پر قبضہ بانڈی پوری سے عثمان مجید نے کیا ۔
۲۰۰۳ میں اخوان کی اس سیاسی پارٹی کو تب دھچکا جب اگست میں جاوید حسین شاہ مارے گئے اور اسکے بعد ستمبر میں پارٹی چیف کوکہ پرے کو جیش محمد گروپ نے ایک ایم بش کے ذریعے ہلاک کیا ،
۲۰۰۸ میں کوکہ پرے کے بیٹے امتیاز احمد پرے نے سوناواری سیٹ سے انتخابات لڑے اور تیسرے نمبر پر رہے ۔ تب کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید نے کوکہ پرے کی موت کو امن کیلئے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا تھا ۔
گزشتہ سال اخوان المسمون کے سابق کمانڈر عبدالرشید پرے عرف ر شید بلا کا قتل کیا گیا ۔ پولیس کے مطابق صدر کوٹ قتل عام میں رشید بلا مرکزی ملزم تھا ۔
دنیا
تل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کو نظر انداز کر کے علاقائی سلامتی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر کا بیان نسل کشی کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے کسی عام انتہاپسند کا بیان نہیں بلکہ اسرائیلی وزیر کا سرکاری مؤقف ہے۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ تل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی ہے اسرائیلی حکومت مستقل جنگ کو اپنے مفاد میں سمجھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے کے امن واستحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے عالمی برادری اسرائیلی پالیسیوں کا نوٹس لے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا، سیز فائر آج شام مقامی وقت کے مطابق 4 بجے شروع ہوگی۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان آج مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پیشرفت دونوں کے درمیان لبنان میں کشیدگی میں شدید اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس کا لبنان پر حملے روکنے کیلئے امریکہ سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
پیرس، فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئیل بارو نے کہا ہے کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں بند کرے۔
ژاں نوئیل بارو نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ فرانس لبنان کی فوج کی مدد کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس حوالے سے حمایت کو متحرک کیا جا سکے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ فرانس اس وقت تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی حمایت نہیں کرے گا جب تک تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات اس کی توقعات کے مطابق پیش رفت نہیں کرتے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ فرانس کی منظوری کے بغیر سلامتی کونسل کی ایران پر پابندیاں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر خدشات دور ہونے تک خطے میں پائیدار استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اتحادی گروپوں کی حمایت سے متعلق خدشات ختم ہونے تک بھی خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا اور اس صورتِ حال میں ایران کے طرزِ عمل اور پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے مطابق اس تمام صورتِ حال میں سب سے بڑا نقصان ایران کے عوام نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو اپنی موجودہ حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے: اسرائیلی وزیر کا بیان
تل ابیب، اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا لبنان جلا دینا چاہیے۔
اتمار بن گویر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی ماؤں کے آنسوؤں کے بدلے لبنانی ماؤں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان برداشت کرنا چاہیے اور اس وقت خطے میں سخت اور تباہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزر لینڈ کا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ نئی مذاکراتی کوششوں کی قیادت کی جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی مفاہمت کے بعد 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ ادھر امریکی سینٹکام نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندی ختم کر دی ہے جبکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے اجازت نامے اب اس کی متعلقہ اتھارٹی جاری کرے گی۔ اسی دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں نئی فضائی کارروائیاں کی ہیں جن میں 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں آج صبح تک 16 افراد کی شہادت کے باعث ایرانی وفد سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ ہی نہیں ہو سکا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق چیف مذاکرات کار باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سوئٹزر لینڈ روانگی کے لیے مکمل طور پر تیار تھے تاہم لبنان میں اسرائیلی جارحیت جاری رہنے کی وجہ سے ایرانی وفد کا دورہ آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ سے ملتوی کیے گئے مذاکرات کی نئی تاریخ یا مقام کا ابھی تک تعین نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل کی لبنان میں کارروائی حالیہ ہفتوں کی بدترین بمباری قرار دی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی



































































































