Connect with us

تجزیہ

خلیجی پیٹرو ڈالر نظام پر دباؤ، برکس کا کردار اہم ہوتا جا رہا ہے

Published

on

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ کے لیے برکس کے فعال اور تعمیری کردار کی ضرورت پر زور دیا۔

پزشکیان نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود ایران ’’برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سمیت بین الاقوامی تنظیموں کے فریم ورک کے اندر بھارت اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعاون اور روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘

موجودہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب برکس کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنگ اب اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور ایران کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ توقع رکھتا ہے کہ 11 رکنی برکس اتحاد، جس کا ایران بھی ایک فعال رکن ہے، اس کی حمایت میں کردار ادا کرے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑھتا ہوا تنازعہ برکس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس بحران نے برکس کے اندر موجود گہرے اختلافات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ برکس کے بانی ارکان برازیل، روس، چین اور جنوبی افریقہ نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو کھلے عام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ دوسری جانب بھارت، جو 2026 میں برکس کی صدارت کر رہا ہے، نے حملوں کی براہِ راست مذمت نہیں کی بلکہ ’’مذاکرات اور سفارت کاری‘‘ کے ذریعے امن کی بحالی پر زور دیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی صدر پزشکیان کے ساتھ گفتگو میں امن اور استحکام کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی، شہری ہلاکتوں اور سویلین انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت سفارت کاری کے راستے کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعمیری کردار ادا کرے گا۔

ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر حملوں نے برکس کے کچھ ارکان کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے، جس کے باعث اس جنگ پر مشترکہ بیان جاری کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

اگرچہ یہ بحران برکس کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کرتا ہے، تاہم اسی کے ساتھ ساتھ اس نے مغربی مالیاتی نظام سے آزادی کے لیے متبادل مالیاتی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو بھی تیز کر دیا ہے۔

برکس پے (BRICS Pay) پلیٹ فارم کو اب سوئفٹ (SWIFT) نیٹ ورک کے متبادل کے طور پر توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ روس اور ایران پہلے ہی اپنی باہمی تجارت کا تقریباً 90 فیصد حصہ قومی کرنسیوں میں منتقل کر چکے ہیں۔ اسی طرح بعض دیگر ممالک بھی ڈالر کے اتار چڑھاؤ سے اپنی توانائی کی درآمدات کو محفوظ رکھنے کے لیے مقامی کرنسیوں میں لین دین کو فروغ دے رہے ہیں۔

امریکہ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر کوئی برکس ملک ایسی مشترکہ کرنسی کی حمایت کرتا ہے جو ڈالر کا متبادل بننے کی کوشش کرے تو اس پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔

ایران اور متحدہ عرب امارات کی رکنیت کے بعد اب برکس دنیا کی 40 فیصد سے زیادہ خام تیل کی پیداوار پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ اس سے اس اتحاد کو طویل مدت میں عالمی توانائی کی قیمتوں کو پیٹرو ڈالر نظام سے ہٹانے کی قابلِ ذکر طاقت مل سکتی ہے۔

خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک خطے میں امریکی فوجی اڈے بند نہیں کر دیے جاتے۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈے دراصل مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی پراکسی طاقت ہیں۔

قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کو نشانہ بنا کر ایران دراصل یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور امریکہ کے درمیان قائم پیٹرو ڈالر معاہدہ اب اپنی افادیت کھو رہا ہے کیونکہ امریکہ ان ممالک کو مطلوبہ سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔

پیٹرو ڈالر نظام کی بنیاد امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دور میں رکھی گئی تھی۔ 1970 کی دہائی میں جب امریکہ نے ڈالر کو سونے کے ساتھ براہِ راست منسلک رکھنے کا نظام ختم کر دیا تو عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے اسے تیل سے جوڑنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔

1973 کے عرب تیل بحران کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 8 جون 1974 کو ایک تاریخی معاہدہ طے پایا جس کے تحت سعودی عرب نے اپنے تیل کی قیمت صرف امریکی ڈالر میں مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔ بدلے میں امریکہ نے سعودی عرب کو فوجی تحفظ، اسلحہ اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ سعودی عرب کے اس فیصلے کے بعد دیگر اوپیک ممالک نے بھی یہی راستہ اختیار کیا اور یوں عالمی توانائی تجارت میں ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی۔

اسی پس منظر میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں تاکہ خلیجی ممالک کو امریکہ کے ساتھ پیٹرو ڈالر نظام سے باہر نکلنے پر مجبور کیا جا سکے۔ صدر پزشکیان کی جانب سے وزیر اعظم مودی کے ساتھ گفتگو میں برکس کا ذکر بھی اسی وسیع تر حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ مضمون رامیش بھان نے تحریر کیا ہے۔ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات مصنف کے ذاتی ہیں

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تجزیہ

گرم سمندری پانی اور انٹارکٹیکا: ایک خاموش بحران کی مکمل کہانی

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

دنیا کے سب سے سرد، ویران اور پُراسرار براعظم انٹارکٹیکا کے بارے میں طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہاں کی برفانی چادریں صرف فضا کے درجہ حرارت میں اضافے سے متاثر ہوتی ہیں مگر جدید سائنسی تحقیق نے اس تصور کو یکسر بدل دیا ہے، اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود گرم پانی خاموشی سے انٹارکٹیکا کی برف کو نیچے سے پگھلا رہا ہے،ایک ایسا عمل جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر اس کے اثرات نہایت دور رس اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔

زمین کا برفانی قلعہ ارنٹارٹیکا (Antarctica) نہ صرف زمین کا سب سے سرد براعظم ہے بلکہ یہاں دنیا کی تقریباً 90 فیصد برف اور 70 فیصد تازہ پانی موجود ہے۔ یہ براعظم زمین کے موسمیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی سفید برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتی ہے، جس سے زمین کا درجہ حرارت متوازن رہتا ہے۔

انٹارکٹیکا کے گرد واقع Southern Ocean دنیا کے سمندری نظام کا ایک کلیدی جزو ہے۔ یہ سمندر نہ صرف حرارت کو جذب کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں سمندری دھاراؤں کے ذریعے اسے تقسیم بھی کرتا ہے۔ برف کی شیلفیں جو ایک خاموش محافظ کا کام کرتی ہیں انٹارکٹیکا کے ساحلوں کے ساتھ بڑی بڑی برفانی چادریں موجود ہیں جنہیں آئس شیلف (Ice Shelves) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل زمینی برف کا وہ حصہ ہوتی ہیں جو سمندر پر تیر رہا ہوتا ہے۔ یہ شیلف ایک مضبوط دیوار کی طرح کام کرتی ہیں جو اندرونی برف کو سمندر میں بہنے سے روکتی ہیں۔ اگر یہ شیلف کمزور ہو جائیں یا ٹوٹ جائیں تو ان کے پیچھے موجود برف تیزی سے سمندر میں شامل ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

نیا خطرہ گرم سمندری پانی: ماضی میں سائنس دانوں کی توجہ زیادہ تر فضا کے درجہ حرارت پر مرکوز تھی۔ مگر اب تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اصل خطرہ سمندر کے نیچے چھپا ہوا ہے۔گہرے سمندر میں ایک خاص قسم کا پانی پایا جاتا ہے جسے“گرم گہرا پانی”(Warm Deep Water) کہا جاتا ہے۔ یہ پانی نسبتاً زیادہ گرم ہوتا ہے اور عام حالات میں سطح سے نیچے رہتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ پانی انٹارکٹیکا کے قریب آ رہا ہے اور برف کی شیلف کے نیچے داخل ہو رہا ہے۔ University of Cambridge کی قیادت میں ہونے والی تحقیق نے اس عمل کے واضح شواہد فراہم کیے ہیں۔ اس تحقیق میں Southern Ocean کے گزشتہ 20 سال کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ گرم گہرا پانی آہستہ آہستہ انٹارکٹیکا کے قریب منتقل ہو رہا ہے۔ یہ کوئی نظریاتی امکان نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو اب ڈیٹا میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ پانی نیچے سے کیوں پگھلاتا ہے؟جب گرم پانی برف کی شیلف کے نیچے پہنچتا ہے تو وہ نیچے سے برف کو پگھلانا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل کو“basal melting”کہا جاتا ہے۔یہ عمل اس لیے خطرناک ہے کیونکہ یہ نظر نہیں آتا۔ یہ مسلسل جاری رہتا ہے اوریہ برف کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔نتیجتاً، برف کی شیلف اوپر سے ٹھیک دکھائی دے سکتی ہے مگر اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے۔ 2002 میں Larsen B Ice Shelf کا اچانک ٹوٹ جانا اس بات کی واضح مثال ہے کہ برف کی شیلف کتنی جلدی ختم ہو سکتی ہے۔ چند ہفتوں میں ہزاروں سال پرانی برف ٹوٹ کر سمندر میں بہہ گئی۔اس واقعے نے سائنس دانوں کو خبردار کر دیا کہ برف کے نظام میں تبدیلیاں بہت تیزی سے ہو سکتی ہیں۔ گرم پانی کیوں بڑھ رہا ہے؟ یہ سوال نہایت اہم ہے۔ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں: (اول)عالمی حدت (Global Warming)انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا اور سمندر دونوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ (دوم) ہواؤں کے نظام میں تبدیلی: انٹارکٹیکا کے گرد چلنے والی ہوائیں سمندری پانی کو اوپر یا نیچے لے جا سکتی ہیں۔ اگر یہ ہوائیں بدل جائیں تو گرم پانی اوپر آ سکتا ہے۔ (سوم) سمندری دھارائیں: سمندری دھارائیں دنیا بھر میں حرارت کو منتقل کرتی ہیں۔ ان میں تبدیلی گرم پانی کو انٹارکٹیکا کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اگر برف پگھل گئی تو کیا ہوگا؟یہ سوال اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ (چہارم) سمندر کی سطح میں اضافہ: اگر انٹارکٹیکا کی برف پگھلتی ہے تو سمندر کی سطح کئی میٹر تک بڑھ سکتی ہے۔ (پنجم) ساحلی علاقوں کا ڈوب جانا: دنیا کے بڑے شہر جیسے ممبئی، کراچی، لندن، اور نیویارک خطرے میں آ سکتے ہیں۔ (ششم) ماحولیاتی نظام میں تبدیلی: سمندری حیات، موسم، اور بارشوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ (ہفتم) عالمی معیشت پر اثرات: یہ مسئلہ صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے:زرعی زمینوں کا نقصان، پانی کی قلت، نقل مکانی (Migration) میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان؎ (ہشتم) سائنس دانوں کی پریشانی: سائنس دان اس لیے پریشان ہیں کیونکہ: یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔اس کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ اسے روکنا مشکل ہے۔

اس کے اثرات عالمی ہوں گے۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ ہو رہی ہیں، جس سے لوگوں کو فوری خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ (نہم) مستقبل کی پیش گوئیاں:سائنس دان مختلف ماڈلز کے ذریعے مستقبل کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو برف کے بڑے حصے ختم ہو سکتے ہیں، سمندر کی سطح تیزی سے بڑھے گی اور موسمیاتی نظام غیر مستحکم ہو جائے گا۔ اگرچہ صورتحال تشویشناک ہے، مگر مکمل طور پر ناامید ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہمیں اس ناگہانی آفت سے بچنا ہے تو کاربن اخراج میں کمی اورفوسل فیول کے استعمال کو کم کرنا ضروری ہے۔قابل تجدید توانائی، شمسی، ہوائی، اور دیگر صاف توانائی کے ذرائع اپنانے ہوں گے۔یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل بھی عالمی سطح پر ہی ممکن ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اس مسئلے کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہے:سیٹلائٹس زیرِ آب روبوٹس، ڈیٹا ماڈلنگ وغیرہ۔یہ سب ہمیں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف سائنس دانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔ ہر فرد، ہر ملک، اور ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔Antarctica میں گرم سمندری پانی کا داخل ہونا ایک خاموش مگر خطرناک تبدیلی ہے۔

University of Cambridge کی تحقیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ کوئی دور کا خطرہ نہیں بلکہ ایک جاری حقیقت ہے۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو اس کے اثرات پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔ مگر اگر ہم سنجیدگی سے کام کریں تو اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف انٹارکٹیکا کی کہانی نہیں،یہ پوری انسانیت کے مستقبل کی کہانی ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

مشرق وسطی میں ایران کے ہاتھوں امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی:ایک جائزہ

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی، عسکری اور ماحولیاتی تبدیلیاں ایک پیچیدہ مگر نہایت اہم بحث کو جنم دے رہی ہیں خاص طور پر امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور اس کے ساتھ موسمی حالات میں غیر معمولی تبدیلیوں کو بعض حلقوں میں آپس میں جوڑ کر دیکھ رہے ہیں یہ موضوع صرف سیکیورٹی یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی، سائنسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں موسمی حالات ہمیشہ سے سخت رہے ہیں۔ یہاں کی آب و ہوا عمومی طور پر خشک اور گرم ہے، بارشیں کم ہوتی ہیں اور کئی ممالک طویل عرصے سے قحط سالی جیسے حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، عمان، یمن اور دیگر ممالک میں پانی کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے پانی کے متبادل ذرائع، جیسے ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو صاف کر کے قابلِ استعمال بنانا) پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ اور موسم کے پیٹرن میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جبکہ بعض دیگر افراد اسے مصنوعی عوامل سے جوڑتے ہیں، جن میں عسکری ٹیکنالوجی، ریڈار سسٹمز اور الیکٹرو میگنیٹک لہروں کا کردار شامل بتایا جاتا ہے۔

ریڈار سسٹمز کا بنیادی مقصد دفاعی نگرانی، دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور میزائل یا فضائی حملوں کا بروقت پتہ لگانا ہوتا ہے۔ یہ سسٹمز انتہائی جدید ہوتے ہیں اور ان میں طاقتور الیکٹرو میگنیٹک ویوز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض نظریات کے مطابق یہ لہریں ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بادلوں کی تشکیل اور بارش کے نظام پر۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی ریڈار سسٹمز موسمی حالات کو متاثر کر سکتے ہیں؟ سائنسی اعتبار سے اس کا کوئی واضح اور مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے کہ عام دفاعی ریڈار براہ راست موسمی نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ موسمی نظام ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے جس میں درجہ حرارت، ہوا کا دباؤ، نمی، سمندری دھارائیں اور دیگر کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو کسی ایک ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔

البتہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی ہے، جسے ‘کلاؤڈ سیڈنگ’ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سائنسی طریقہ ہے جس کے ذریعے بادلوں میں خاص کیمیکل شامل کر کے بارش کو بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے بعض اوقات بارش میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، لیکن یہ عمل محدود پیمانے پر ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی مکمل طور پر یقینی نہیں ہوتے۔

اگر ہم امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کے درمیان تعلق کی بات کریں تو اس حوالے سے زیادہ تر دعوے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی خاص علاقے میں ریڈار سسٹم کی موجودگی یا عدم موجودگی سے مقامی سطح پر پورے خطے کے موسم میں بڑی تبدیلی کو صرف اس ایک عنصر سے جوڑنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا اور ہم ان عوامل سے انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بارشوں اور موسم کی تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ، برفانی تودوں کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور ہوا کے دباؤ کے نظام میں تبدیلی جیسے عوامل موسمی پیٹرن کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی کا اثر مشرقِ وسطیٰ پر بھی پڑ رہا ہے۔

قحط سالی کے خاتمے یا اس میں کمی کے حوالے سے بھی ہمیں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ کہنا کہ قحط سالی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے، درست نہیں ہوگا۔ پانی کا بحران اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اس کے علاوہ سیاسی اور عسکری حالات بھی اس خطے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں جنگ یا کشیدگی ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف معیشت بلکہ ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ صنعتی سرگرمیاں، تیل کی پیداوار، اور دیگر عوامل فضائی آلودگی کو بڑھاتے ہیں، جو موسمی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ بعض اوقات میڈیا اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے ایسی معلومات پھیل جاتی ہیں جو حقیقت سے دور ہوتی ہیں۔ امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کو جوڑنے والے نظریات بھی اسی زمرے میں آ سکتے ہیں لیکن فی الحال سوشل میڈیا پر پھیلنے والے مفروضے سے ہم انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر دعوے کو سائنسی بنیادوں پر پرکھیں اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔

مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ پانی کی قلت، درجہ حرارت میں اضافہ، اور غیر متوقع موسمی حالات اس خطے کے لیے بڑے مسائل بن سکتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے علاقائی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور ماحول دوست پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔

مشرقِ وسطیٰ میں موسمی تبدیلی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کے اسباب پیچیدہ اور کثیر جہتی ہیں۔ امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی کو اس تبدیلی کی بنیادی وجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں ہے لیکن اس کے مضر اثرات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اصل عوامل میں عالمی موسمیاتی تبدیلی، انسانی سرگرمیاں، اور قدرتی نظام شامل ہیں۔ ہمیں ان عوامل کو سمجھ کر ہی مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ اس خطے کو ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

جموں و کشمیر

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

Published

on

گوہر پیرزادہ

اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی

پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتاΩ تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔

پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔

بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔

انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔

“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔

اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔

گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔

محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”

غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔

مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔

کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔

“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔

ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔

سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔

ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔

انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔

“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔

ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔

ہوٹل مالک گورپریہ کور

مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔

“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔

“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔

کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔

جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔

لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔

جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔

Continue Reading
Advertisement
دنیا7 hours ago

آبنائے ہرمز سے دو بحری جہاز گزرنے کا امریکی دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے، ایران

ہندوستان7 hours ago

آج سے بنگال خوف سے آزاد اور ترقی کے اعتماد سے لبریز ہوا: مودی

دنیا7 hours ago

چین ایران پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دباؤ ڈالے: امریکہ

ہندوستان9 hours ago

مودی نے مغربی بنگال کی جیت کو یادگار قرار دیا، آسام، پڈوچیری، تمل ناڈو اور کیرالہ کے کارکنوں کو مبارکباد دی

ہندوستان9 hours ago

کیرالہ میں یو ڈی ایف کی جیت پر راہل نے ریاست کے عوام کا شکریہ ادا کیا

جموں و کشمیر9 hours ago

ایل جی نے کھلاڑیوں سے ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کے سفیر بننے کی اپیل کی

جموں و کشمیر9 hours ago

اے سی بی نے غیر قانونی تعمیرات کیس میں ایس ایم سی اہلکاروں سمیت 11 کے خلاف چارج شیٹ داخل کی

جموں و کشمیر9 hours ago

جموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی

فن و ادب11 hours ago

جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین

دنیا13 hours ago

جرمنی میں امریکی فوج کی کمی: چانسلر فریڈرک مرز نے امریکہ سے اختلافات کو کم اہم قرار دیدیا

دنیا13 hours ago

امریکہ کیلئے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

دنیا13 hours ago

ایران کے ساتھ مثبت بات چیت جاری ہے، یہ عمل سب کیلئے انتہائی مثبت ثابت ہوسکتا ہے: ٹرمپ

دنیا13 hours ago

ہرمز میں مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائےگا: ایران

پاکستان13 hours ago

پاک-ایران وزرائے خارجہ کا رابطہ،مذاکراتی بحالی پر غور

جموں و کشمیر13 hours ago

جموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد

تجزیہ13 hours ago

گرم سمندری پانی اور انٹارکٹیکا: ایک خاموش بحران کی مکمل کہانی

دنیا14 hours ago

ایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ

دنیا14 hours ago

دشمن کی دھمکی یا خطرے پر ایران سخت جواب دیگا، کمانڈر خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر

ہندوستان15 hours ago

دہلی میں بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں جشن کا ماحول، لذیذ پکوانوں کا انتظام

ہندوستان15 hours ago

رجحانات میں بنگال اور تامل ناڈو میں بڑا الٹ پھیر، آسام میں این ڈی اے تو کیرالہ میں کانگریس فرنٹ کو اکثریت

دنیا15 hours ago

آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی فوج کا پیر سے آپریشن فریڈم شروع کرنے کا اعلان

دنیا16 hours ago

صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں

دنیا16 hours ago

امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا

جموں و کشمیر17 hours ago

جے ڈی اے کی کارروائی، جموں میں رنگ روڈ کے قریب 15 سے زیادہ غیر قانونی ڈھانچے مسمار

دنیا17 hours ago

کینیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، 18 ہلاک

ہندوستان2 days ago

خاتون رکن پارلیمنٹ پر گجرات بی جے پی صدر کا تبصرہ توہین آمیز: راہل

دنیا2 days ago

چین و امریکہ کے تعلقات صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں: چینی مندوب

دنیا2 days ago

امریکہ سے تعلقات کا مطلب ٹرمپ کے ہر اقدام سے اتفاق کرنا نہیں: آسٹریلوی وزیراعظم

دنیا2 days ago

ایران کے بعد کیوبا پر ’فوری قبضے‘ کی تیاریاں، ٹرمپ کا بحری بیڑے کی تعیناتی کا اشارہ

جموں و کشمیر2 days ago

لیفٹیننٹ جنرل بل بیر سنگھ نے 15 کور کی کمان سنبھالنے کے بعد جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی

جموں و کشمیر2 days ago

وزیر اعلیٰ نے جموں کے بنٹلاب پل حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا، جس میں تین مزدور ہلاک

دنیا2 days ago

’ایران اپنی قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا

دنیا2 days ago

امریکہ نے نئی جارحیت کی تو جواب فوری اور دردناک ہوگا: ایرانی عسکری قیادت

دنیا2 days ago

ایرانی وزیر خارجہ کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم رابطے

دنیا2 days ago

ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس

دنیا2 days ago

آبنائے ہرمز میں ایران کو فیس ادا کرنے والے بحری جہازوں پر پابندیاں لگ سکتی ہیں: امریکی محکمہ خزانہ

دنیا2 days ago

امریکی نیوی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کیلئے ’بحری قزاقوں‘ جیسا کردار ادا کر رہی ہے: ٹرمپ

دنیا3 days ago

ٹرمپ کا مقاصد کے حصول تک ایران جنگ سے نہ نکلنےکا اعلان

دنیا3 days ago

سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھنےکو تیار ہیں لیکن امریکہ کو دھمکی آمیز لہجہ بدلنا ہوگا: ایران

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر پولیس نے شیو کھوری یاترا کے دوران سکیورٹی اور یاتریوں کی حفاظت کا جائزہ لیا

دنیا3 days ago

ایران کی نئی تجویز سے مطمئن نہیں ہوں: ٹرمپ

جموں و کشمیر3 days ago

پلوامہ میں دہشت گرد کا معاون گرفتار، اسلحہ اور گرینیڈ ضبط

دنیا3 days ago

ایران آبنائے ہرمز میں نئے اصول نافذ کرے گا: پاسدارانِ انقلاب

دنیا3 days ago

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام

دنیا3 days ago

ہم کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے: ٹرمپ

جموں و کشمیر3 days ago

جموں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوئی

دنیا3 days ago

اگر امریکہ نئی تجاویز کے لیے تیار ہے تو ایران اگلے ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے لیے تیار ہے: رپورٹیں

جموں و کشمیر3 days ago

جموں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوئی

دنیا3 days ago

ایران کی نئی تجاویز پاکستان کے حوالے، امریکہ سے مذاکرات میں پیش رفت کا امکان

جموں و کشمیر3 days ago

سری نگر: سی آئی ٹی یو کا یومِ مئی پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا عزم، تاریگامی کی اتحاد کی اپیل

جموں و کشمیر3 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر3 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین2 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تازہ ترین3 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین3 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین3 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

ہندوستان4 weeks ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

دنیا2 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

اہم خبریں3 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ5 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین3 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

کھیل2 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر2 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین3 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر4 weeks ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

کھیل3 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

دنیا2 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

دنیا3 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تازہ ترین3 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

دنیا2 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

تازہ ترین3 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تجزیہ5 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

اہم خبریں3 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

دنیا2 months ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

ہندوستان3 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تازہ ترین4 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

جموں و کشمیر3 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین3 months ago

شوپیاں کے زینہ پور علاقے میں رہائشی مکان سے ہیروئن بر آمد، ملزم گرفتار: پولیس

جموں و کشمیر3 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

دنیا2 months ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

ہندوستان2 months ago

گھریلو ایل پی جی سلنڈر 60 روپے اور کمرشیل سلنڈر 114.50 روپے مہنگا

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

دنیا2 months ago

ٹرمپ کی گردن پر سرخ نشان، صحت سے متعلق نئی بحث چھڑگئی

تازہ ترین6 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

کھیل3 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

دنیا2 months ago

کیا نیتن یاہو مر چکے ہیں سرکاری اکاؤنٹ سے نیتن یاہو کی ’’چھ انگلیوں‘‘ والی ویڈیو وائرل

دنیا2 months ago

امریکی شہریوں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کی ہدایت

جموں و کشمیر3 weeks ago

لداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی

تازہ ترین3 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

دنیا1 month ago

امریکہ کے ایران کو بھیجے گئے 15 نکاتی امن منصوبے کی ‘شرائط’

جموں و کشمیر2 months ago

جموں و کشمیر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مجھے بے حد متاثر کیا: سی پی رادھا کرشنن

دنیا2 months ago

ایرانی پاسداران انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر حملہ، اسرائیل کی حملے کی تصدیق

جموں و کشمیر2 weeks ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر1 month ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر3 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین3 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین3 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر3 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں3 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں3 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر6 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین2 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending