دنیا
آپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
واشنگٹن، سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت برہم ہو گئے جب اینکر نورہ او ڈانل نے حملہ آور کول ایلن کا پیغام پڑھ کر ان سے سوال کر دیا۔
پولیٹیکو نے لکھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں صحافی نورہ او ڈانل پر سخت تنقید کی، کیوں کہ انھوں نے اُس مشتبہ حملہ آور کے منشور سے ایک اقتباس پڑھ دیا تھا، جس نے ایک دن قبل وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ جب او ڈانل نے اتوار کو وائٹ ہاؤس میں ریکارڈ کیے گئے انٹرویو کے دوران حملہ آور کول ایلن کے منشور سے یہ جملہ پڑھا ’’میں اب اس بات کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ ایک پیڈوفائل، ریپسٹ اور غدار میرے ہاتھوں کو اپنے جرائم سے آلودہ کرے۔‘‘ تو ٹرمپ، جو اس سے پہلے نسبتاً پُرسکون تھے، اچانک غصے میں آ گئے۔
ٹرمپ نے کہا ’’میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ یہ پڑھیں گی کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ آپ ایسا کریں گی، کیوں کہ آپ لوگ بہت برے ہیں، بہت برے لوگ۔ ہاں، اس نے یہ لکھا ہے۔ میں ریپسٹ نہیں ہوں۔ میں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔‘‘ حملہ آور کے بارے میں ٹرمپ کا نیا انکشاف او ڈانل نے درمیان میں پوچھا ’’اوہ، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اشارہ کر رہا تھا‘‘ لیکن صدر نے ان کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ’’میں پیڈوفائل نہیں ہوں۔‘‘
ٹرمپ اس بات پر بھی برہم دکھائی دیے کہ شاید ان کا تعلق جیفری اپیسٹین کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، حالاں کہ منشور یا اوڈانل کی بات میں ان کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا ’’آپ ایک بیمار شخص کی یہ بکواس پڑھ رہی ہیں۔ مجھے ان چیزوں سے جوڑا جا رہا ہے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے مکمل طور پر بری الذمہ قرار دیا جا چکا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا ’’آپ کو یہ پڑھنے پر شرم آنی چاہیے، کیوں کہ میں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوں۔ آپ کو ’60 منٹس‘ میں یہ نہیں پڑھنا چاہیے تھا۔ آپ باعثِ شرم ہیں۔‘‘ اینکر نے کہا ’’حملہ آور نے لکھا ہے کہ میں ہوٹل میں ہوں اور کوئی چیکنگ نہیں ہوئی، سیکرٹ سروس کیا کر رہی ہے، یہ نااہل ہے۔‘‘ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’حملہ آور خود بھی نااہل ہے وہ آسانی سے پکڑا گیا۔‘‘
اینکر نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گزشتہ رات کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ ٹرمپ نے کہا ایسے لوگوں کو لگتا ہے کہ جنگ عظیم بھی نہیں ہوئی، جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ بیمار ذہن کے مالک ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ حملہ آور اچھے کالج سے پڑھا اور ذہین بھی ہے لیکن بیمار ذہن ہے، کچھ لوگ ذہین ہوتے ہیں لیکن بیمار ذہن کے بھی ہوتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کولمبیا: بس دھماکے میں بچوں سمیت 20 افراد جان سے گئے
بگوٹا، کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے کاؤکا میں ایک زوردار دھماکے کے باعث 20 افراد جان سے گئے جبکہ 38 سے زائد زخمی ہو گئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ پان امریکن ہائی وے پر کاخیبیو کے علاقے میں ہفتے کے روز ہوا، جہاں ایک بارودی مواد سے بھری ڈیوائس کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔
کاؤکا کے گورنر نے اس واقعے کو شہری آبادی کے خلاف اندھا دھند حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور حکومت سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا۔
کولمبیا کی فوج کے کمانڈر نے اسے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے پیچھے بدنام زمانہ کمانڈر ایوان موردیسکو کے نیٹ ورک اور جائمے مارٹینیز گروپ کا ہاتھ ہونے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔
کولمبیا کے صدر گستاف پیٹرو نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کو ’دہشت گرد، فاشسٹ اور منشیات فروش‘ قرار دیا ہے۔ دو دنوں کے دوران اس خطے میں کم از کم 26 پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں پولیس اسٹیشن پر حملے، فوجی تنصیبات کے قریب دھماکے اور ڈرون حملے شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
میں گھبرایا نہیں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے بعد پہلی بار امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیا، جس میں انھوں نے کہا کہ جب حملہ ہوا تو میں گھبرایا نہیں تھا، میں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں۔
سی بی ایس کے پروگرام سکسٹی منٹس میں دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’فائرنگ کے بعد میں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا ہوا ہے، اہلکاروں نے فوری طور پر مجھے حفاظتی حصار میں لیا، سیکیورٹی اہلکار بار بار کہہ رہے تھے نیچے ہو جائیں، اہلکاروں کے کہنے پر میں اور خاتون اوّل زمین پر بیٹھ گئے۔‘‘ انھوں نے بتایا ’’میں پہلے کرسی سے اٹھا اور کھڑے ہو کر ہی جانے لگ گیا تھا، اہلکاروں نے مجھے جھک کر وہاں سے جانے کا کہا، پہلے ہمیں لگا ٹرے گرنے کی آواز ہے، خاتون اوّل پریشان ہو گئی تھیں۔‘‘
امریکی صدر نے کہا ’’اہلکار جب پہنچے تو میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے، اہلکاروں کے آنے کے بعد سمجھ گئے کہ کچھ غلط ہوا ہے، میں اہلکاروں کو کہہ رہا تھا کہ رکو مجھے دیکھنے دو کیا ہوا ہے، مجھے نہیں پتا کہ حملہ آور کا ٹارگٹ میں ہی تھا۔‘‘ انھوں نے کہا ’’کیرولین لیوٹ کو بھی حملے سے متعلق کچھ پتا نہیں تھا، اس صورت حال میں خاتون اوّل بہادر دکھائی دیں، وہ مضبوط ہیں، مجھ پر پہلے بھی حملے ہوئے، خاتون اوّل کے لیے یہ صورت حال نئی تھی، میں وہیں رک گیا تھا اور میری کوشش تھی تقریب دوبارہ شروع ہو۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’حملہ آور بہت تیزی سے دروازے کی طرف بھاگتا ہوا آیا، وہ کچھ ہی دور بھاگ پایا اور پکڑا گیا، اہلکاروں نے پیشہ ورانہ طریقے سے حملہ آور کو گرفتار کیا، میں جرائم کے خلاف سخت مؤقف رکھتا ہوں، میں نے امریکہ کی سرحدوں کو بہت محفوظ بنا دیا ہے، 9 ماہ میں ایک بھی شخص غیر قانونی طریقے سے امریکا میں داخل نہیں ہوا۔‘‘ انھوں نے کہا میں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں، 500 سال پیچھے بھی چلی جائیں تو ایسے لوگ موجود رہے ہیں، پہلے بھی رہنماؤں پر اس طرح کے حملے ہوتے رہے، ڈیموکریٹس کی نفرت اور اشتعال انگیز تقریریں ملک کے لیے خطرہ ہیں، ایسے صدور پر ہی حملے ہوتے ہیں جو ملک کے لیے کچھ کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا میں نے اس ملک کو بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، ایران کے خلاف کارروائی کی جو پہلے کوئی صدر نہیں کر سکا، سابقہ صدور نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کر کے غلطی کی، 5 یا 10 سال پہلے ایران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی جس کے نہ ہونے سے وہ مضبوط بن گیا، جب اپنے ملک کے لیے کوئی کام کریں تو پھر اس کے نتائج بھی آتے ہیں، ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکتے ہیں تو وہ ناراض ہو جاتا ہے۔
ٹرمپ نے کنگ چارلس کے دورے سے متعلق کہا کہ برطانیہ کے بادشاہ آ رہے ہیں، وہ ہمارے ملک میں محفوظ رہیں گے، وہ محفوظ ترین مقام وائٹ ہاؤس آ رہے ہیں، مجھے یا میری کابینہ کو کسی حملے کا الرٹ نہیں ہے۔ دریں اثنا، امریکی صدر ٹرمپ نے پروگرام میں اپنی اہلیہ کو سالگرہ کی مبارک بھی دی اور بتایا کہ ان کی اہلیہ کی سالگرہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فائرنگ واقعہ کے بعد کنگ چارلس کا دورہ امریکہ کے بارے میں شبہات
لندن، واشنگٹن فائرنگ واقعے کے بعد برطانیہ کے کنگ چارلس کے دورہ امریکہ کے حوالے سے سیکیورٹی پلان کا ازسر نو جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی شاہی محل بکنگھم پیلس کے ترجمان نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر کے موقع پر فائرنگ کے واقعے کے بعد برطانیہ اور امریکہ کے حکام شاہ چارلس کے مجوزہ دورہ امریکہ کے سیکیورٹی انتظامات پر دوبارہ غور کررہے ہیں۔
غیرملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر امریکی حکام سے مشاورت کی جائے گی تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ حالیہ واقعہ اس ہفتے ہونے والے شاہی دورے کی منصوبہ بندی پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے؟۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ کو گزشتہ رات واشنگٹن میں ہونے والے عشائیے میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے فوری بعد سیکریٹ سروس اہلکاروں نے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا تھا۔
شاہی ترجمان نے بتایا کہ کنگ چارلس کو موجودہ صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ رکھا جا رہا ہے انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ ان کی اہلیہ اور دیگر مہمان محفوظ رہے۔
ذرائع کے مطابق شاہ چارلس اور ملکہ ملکہ کیملا نے ذاتی طور پر رابطہ کرکے صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ سے اظہار ہمدردی بھی کیا ہے، شاہی جوڑا پیر کو چار روزہ دورے پر امریکا پہنچے گا، جہاں ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات اور امریکی کانگریس سے خطاب بھی متوقع ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا6 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا7 days agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا6 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا6 days agoٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس
دنیا6 days agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں









































































































