دنیا
ہم جلد ہی ایران سے نکل جائیں گے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ٹرمپ نے وسکونسن ریاست کے زرعی علاقوں کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ ایجنڈے کے اہم امور پر بات چیت کی۔
ٹرمپ نے موقف اپنایا کہ وہ ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے نکلے تھے، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے انہوں نے اس ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے یہ پیغام بھی دیا کہ یہ صورتحال جلد ہی ختم ہو جائے گی۔
امریکی صدر نے کہا، “ہم بہت جلد ایران سے باہر نکل آئیں گے، چاہے یہ کسی معاہدے کے ذریعے ہو یا کسی بہت سخت طریقے سے، ہر صورت میں ایسا ہو کر رہے گا۔ شاید سب سے سخت طریقے ہی سب سے آسان راستے ہوں لیکن ہم وہاں سے نکل جائیں گے۔”
ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنا تھا۔ ہم ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ کوئی بھی ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ ہم نے اس کام کو بڑے پیمانے پر نمٹا دیا ہے۔ آپ دیکھیں گے، کسی نہ کسی طرح یہ معاملہ اب حل ہو چکا ہے۔” اس کے علاوہ، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے متعلق عمل مکمل ہونے کے بعد امریکہ میں پٹرول اور گیس کی قیمتیں قلیل وقت میں نیچے آ جائیں گی، انہوں نے امریکی عوام سے تھوڑا صبر کرنے کی اپیل کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جارحیت پسندوں کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دیں، ایران کا ہمسایہ ممالک سے مطالبہ
تہران، ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحیت پسندوں (امریکہ اور اسرائیل) کو اپنی سرزمین تہران کے خلاف حملوں کیلیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے ریڈار سسٹم اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر حملہ کیا، دہشتگرد فوج نے حملہ ہفتے کی صبح سیرک اور جزیرہ قشم میں کیا، تنصیبات کا مقصد ملکی سرحدوں اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی حفاظت کرنا تھا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حملہ یکم اپریل کی جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے جس کی پُرزور مذمت کرتے ہیں، ایرانی مسلح افواج نے جائز دفاع کے حق کے تحت جارحانہ اقدام کا مؤثر جواب دے دیا ہے، مسلح افواج نے پوری طاقت اور عزم کے ساتھ جارحیت کے منصوبہ سازوں کے مقاصد ناکام بنا دیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ واشنگٹن صرف کشیدگی کو کم کرنے کا عزم نہیں رکھتا، وہ اپنی مہم جوئی سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اقدامات کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، کشیدگی میں کسی بھی ممکنہ اضافے کا ذمہ دار امریکا ہوگا۔
عباس عراقچی نے مطالبہ کیا کہ خطے کے ہمسایہ ممالک اچھی ہمسائیگی کے اصول پر عمل کریں، وہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول کی پاسداری کریں اور جارحیت پسندوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جوہری مقامات پر حملے عالمی جوہری ادارے کی نگرانی منقطع ہونے کا سبب بنے: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ
تہران، ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران کے بعض جوہری مقامات پر فوجی حملے عالمی جوہری ادارے کی نگرانی کا سلسلہ منقطع ہونے کا سبب بنے۔
جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری مقامات پر عالمی ادارے کی نگرانی سے دوری ایرانی عدم تعاون کا نتیجہ نہیں، عالمی جوہری ادارہ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ابہام پیدا کرنے کے لیے امریکی اسرائیلی حملوں کے نتائج کو استعمال کر رہا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ اگر آئی اے ای اے سفارتی حل کا حصہ بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی تکنیکی رپورٹس کو سیاسی دباؤ کا آلہ بنانے سے گریز کرنا ہو گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور ایران امن معاہدے کے قریب یا نئی جنگ کے دہانے پر
واشنگٹن، تہران، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود کشیدگی کم ہونے کے بجائے ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
دونوں ممالک ایک طرف امن مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب دھمکیوں، میزائل حملوں اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس نے خطے میں نئی جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے خطے میں موجود اپنے فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کیا تو انہیں جائز اہداف سمجھا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجی ممالک میں امریکی اور ایرانی مفادات پر متعدد حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملوں سے نقصان پہنچا جبکہ ایک ہندوستانی شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے، ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق بیشتر میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے یا راستے میں تباہ ہو گئے۔
ادھر بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر اور ایک فوجی اڈے کو بھی ایرانی حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تمام حملے ناکام بنا دیے گئے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب امریکہ بھی ایران کے حساس مقامات پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، قشم جزیرے اور دیگر علاقوں میں ایرانی ریڈار، ڈرون تنصیبات اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تہران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں سے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو بھی نقصان پہنچا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ پابندیاں اسی وقت ختم ہوں گی جب ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد بار یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب ہیں، مئی میں انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔
دوسری جانب ایران اور پاکستان کے درمیان بھی سفارتی رابطے تیز ہوئے ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی اور ایرانی وزرائے داخلہ نے خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔
امن مذاکرات کے باوجود دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے بھی ایران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اگر ایران نے جلد فیصلہ نہ کیا تو اس کے لیے کچھ باقی نہیں بچے گا۔
ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کا 40 دن تک مقابلہ کرنا معمولی بات نہیں اور ایران ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور جنگ بندی میں توسیع کی خبریں بھی سامنے آچکی ہیں، لیکن میدانِ عمل میں جاری حملے، دھمکیاں اور جوابی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ اب بھی انتہائی نازک صورتِ حال سے دو چار ہے۔ موجودہ حالات میں امن معاہدہ اور نئی جنگ، دونوں امکانات ایک ساتھ موجود ہیں، تاہم کسی ایک بڑے حملے یا جانی نقصان کی صورت میں صورتِ حال دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا7 days agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
دنیا1 week agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
دنیا1 week agoایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع
جموں و کشمیر4 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان3 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا2 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا5 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا5 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی




































































































