جموں و کشمیر
جنتر منتر احتجاج کی تاحال اجازت نہیں ملی، کچھ لوگ پروگرام کو ناکام بنانا چاہتے ہیں: عمر عبداللہ
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز انکشاف کیا ہے کہ ان کی حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر 20 جولائی کو ہونے والے مجوزہ احتجاجی مظاہرے کے لیے حکام کی جانب سے اب تک اجازت نہیں ملی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ عناصر پارٹی کے اس پروگرام کو سبوتاژ (ناکام) کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دلانے کے مطالبے کے تحت ملک کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک بڑے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جس میں شرکت کے لیے ملک بھر کی 52 سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا گیا ہے۔
مخالفین کو 24 گھنٹے میں اجازت مل گئی، ہم پانچ دن سے منتظر ہیں،سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ درخواست دینے کے باوجود پارٹی کو ابھی تک احتجاج کی باقاعدہ اجازت موصول نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا،”ہم ابھی تک اجازت حاصل کرنے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ دوسری طرف ‘کاکروچ (جنتا) پارٹی’ کو اجازت ملنے میں 24 گھنٹے بھی نہیں لگے، جبکہ ہم گزشتہ پانچ دنوں سے انتظار کر رہے ہیں۔”
عمر عبداللہ نے مزید الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس کے اس منظم پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے پسِ پردہ سازشیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ہمارے پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لیے جان بوجھ کر اپنے پروگرام کی تاریخیں تبدیل کر دی ہیں اور اب وہ اسی دن (20 جولائی) اپنا پروگرام منعقد کرنے کی تجویز دے رہے ہیں جس دن ہمارا احتجاج طے ہے۔
یاد رہے کہ ایک دن قبل ہی، نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ‘انڈیا’ بلاک کے قائدین، بی جے پی مخالف قومی جماعتوں اور میرواعظ عمر فاروق سمیت جموں و کشمیر کے متعدد رہنماؤں کو تین صفحات پر مشتمل ایک مکتوب ارسال کیا تھا۔ اس خط کے ذریعے انہوں نے تمام ہم خیال جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور آئینی حقوق کی بحالی کے لیے نیشنل کانفرنس کے اس احتجاج کا حصہ بنیں اور ان کی حمایت کریں۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
صرف خودمختاری کافی نہیں، دفعہ 370 کی بحالی بھی احتجاج کا حصہ ہو: میرواعظ عمر فاروق
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین اور کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کے روز اس بات پر زور دیا ہے کہ نیشنل کانفرنس (این سی) کی جانب سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کا دائرہ کار محض جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کو بھی بنیادی ایجنڈے کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
میرواعظ عمر فاروق کا یہ بیان نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی اس دعوت کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے میرواعظ کو نئی دہلی میں ہونے والے اس مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس نے اس احتجاج کے لیے ملک بھر سے 52 سیاسی رہنماؤں کو مدعو کیا ہے، جن میں کانگریس قائدین سونیا گاندھی، ملک ارجن کھڑگے، اور راہل گاندھی سمیت جموں و کشمیر کے کئی سرکردہ رہنما شامل ہیں۔
سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا”مجھے ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب کی جانب سے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے، جیسا کہ انہوں نے میڈیا کے ذریعے بھی اس کا اعلان کیا تھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ 2019 میں حکومتِ ہند کی جانب سے کی جانے والی یکطرفہ تبدیلیوں کے نتیجے میں جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ گھٹا کر اسے یونین ٹریٹری (مرکزی زیرِ انتظام خطہ) بنا دیا گیا تھا۔ اس اقدام سے عوام کے آئینی تحفظات چھین لیے گئے، جس نے یہاں کے باشندوں کو انتہائی کمزور اور بے بس کر کے رکھ دیا۔میرواعظ نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے سلب شدہ حقوق کی بحالی کے لیے کسی بھی سیاسی اتحاد، تنظیم یا فرد کی جانب سے کی جانے والی ہر وہ کوشش وقت کی اہم ضرورت ہے جو خلوصِ نیت پر مبنی ہو۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: ادھم پور میں گاڑی حادثے کا شکار، چھ مسافر زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ادھم پور ضلع میں جموں-سری نگر قومی شاہراہ پر مسافروں کو لے
جا رہی ایک گاڑی کے حادثے کا شکار ہونے سے جمعہ کو کم از کم چھ مسافر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے ایک خاتون کی حالت نازک ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ شاہراہ پر ادھم پور-چینانی حصے میں تولڈی نالہ کے پاس ڈرائیور گاڑی پر سے کنٹرول کھو بیٹھا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے چھ مسافر مدھیہ پردیش کے رہنے والے ہیں اور حادثے کے وقت وہ مقدس امرناتھ گپھا مندر کی یاترا پر جا رہے تھے۔ اس حادثے میں ایک خاتون شدید طور پر زخمی ہوئی ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ٹریفک پولیس، مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے جوان، فوج کے جوان اور مقامی لوگ موقع پر پہنچ گئے اور بچاؤ مہم شروع کی۔ زخمیوں کو گورنمنٹ میڈیکل کالج، ادھم پور کے ایسوسی ایٹڈ ہسپتال لے جایا گیا، جہاں سے شدید زخمی خاتون کو بہتر علاج کے لیے جموں کے سرکاری میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے ادھم پور کے ڈپٹی کمشنر منگا شیرپا سے بات کی۔ انہوں نے کہا، “زخمی یاتریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے اور صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ان کا دفتر ضلع انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
نیشنل کانفرنس حکومت مکمل ریاست کے درجے کی آڑ میں ترقیاتی کاموں کو روکنا بند کرے: الطاف بخاری
سری نگر، اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے جمعہ کو برسراقتدار نیشنل کانفرنس حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل ریاست کے درجے کی آڑ میں کشمیر کے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالنا بند کرے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پورے کشمیر میں اس وقت ترقیاتی کام مکمل طور پر ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔
مسٹر بخاری نے سری نگر میں پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ سڑکوں، اسپتالوں اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچوں کی موجودہ بدحالی صاف ظاہر کرتی ہے کہ ترقیاتی سرگرمیاں پوری طرح رک گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کام کرنے کا اہم موسم اپریل سے ستمبر کے آخر تک ہوتا ہے، جس کا 50 فیصد سے زیادہ وقت پہلے ہی گزر چکا ہے، لیکن منصوبوں میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں دکھ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا، “کشمیر کی ترقی کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت روکا گیا ہے۔”
مسٹر بخاری نے مقامی ٹھیکیداروں کے مسائل کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادائیگیوں میں تاخیر، تعمیری مواد کی کمی اور کان کنی کے وسائل کی الاٹمنٹ میں امتیازی پالیسیوں کی وجہ سے وہ سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔۔
اپنی پارٹی کے صدر نے حکومت پر ٹینڈر قوانین میں تبدیلی کر کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی کوالٹی سے سمجھوتہ کرنے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے حکومت سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سیاحت، صحت کی دیکھ بھال اور اقتصادی ترقی کے لیے بہتر سڑکیں اور ہسپتال بے حد ضروری ہیں۔ مسٹر بخاری نے حکومت کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا، “مکمل ریاست کے درجے کے نام پر اپنی ناکامیوں کو چھپانا بند کریں۔ ریاست کے درجے کے مطالبے کا کشمیر کے ترقیاتی کام روکے جانے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ یہاں کے ترقیاتی فنڈ کو ضائع ہونے دینا چاہتے ہیں، تاکہ آپ کو یہ بہانہ مل سکے کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں تھے۔”
مسٹر بخاری نے اس تعطل کے لیے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ گورننس اور بنیادی ڈھانچے کو درست کرنے کی پوری ذمہ داری انہی کی ہے۔ انہوں نے کہا، “آپ وزیر اعلیٰ ہیں، اس لیے عوام کو راحت دینا آپ کا فرض ہے۔ صرف سیاحت سے ہی لوگوں کا پیٹ نہیں بھرے گا۔” اپنی پارٹی کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک خرچ کی گئی رقم کی پوری تفصیلات دیتے ہوئے ایک وائٹ پیپر جاری کرے اور صورتحال واضح کرے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا1 week agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا4 days agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoوینیزویلا زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1943 ہوئی، 10500 سے زیادہ زخمی
ہندوستان1 week agoموہن یادو پر لگے گھوٹالوں کے الزامات پر بی جے پی کی خاموشی تشویشناک: کانگریس
دنیا1 week agoامریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانہ تعمیر کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے
ہندوستان1 week agoکھرگے نے شمال مشرق میں تباہ کن سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کی صورتحال پر دکھ کا اظہار کیا
ہندوستان1 week agoسندھ طاس معاہدہ: پاکستان کو ہندوستان کا کرارا جواب، دہشت گردی کی حمایت بند کرنی ہوگی
دنیا1 week agoآیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ سے قبل ایران کا امریکا اور اسرائیل کو انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoریاست کا درجہ بحال ہونے تک عمر کابینہ میں شامل نہیں ہوگی کانگریس: طارق کرّا
ہندوستان4 days agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا1 week agoفیلڈ مارشل عاصم منیر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لئے تہران پہنچ گئے
دنیا4 days agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف







































































































