تازہ ترین
ویڈیو: مرکز نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کیوں کی؟
رضوان سلطان:
چھ روز قبل بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کے بعد ریاست کی معروف سیاسی مذہبی وسماجی تنظیم جماعت اسلامی پر جمعرات کی شام مرکزی حکومت نے پانچ سال کے لئے پابندی عائد کر دی ہے ۔
وزارت داخلہ نے جماعت اسلامی پر جنگجو تنظیموں کے ساتھ نزدیکی رابطہ کا الزام عائد کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جماعت انتہا پسندی اور عسکریت کی حمایت کرتی ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی پر ملک مخالف جذبات بھڑکانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ۔
اسکے علاوہ مرکزی حکومت اس خیال کی حامی ہے کہ اگر جماعت اسلامی کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا اور قابو نہ کیا گیا تو اس سے یہ منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
جیسے کہ جموں وکشمیر ریاست کو بھارت سے علیحدہ کرنے کی وکالت جاری رکھے گی، نیز ریاست کا مرکزکے ساتھ الحاق کی مخالفت کرے گی۔ اور اس کے علاوہ اور بھی کچھ باتوں کا ذکر نو ٹیفیکیشن میں کیا گیا ہے ۔
واضح رہے چھ روز قبل وادی میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض کے علاوہ جماعت کے مرکزی و ضلعی سطح کے تین سو سے زائد عہدیدارن کو گرفتار کیا گیا جن میں کئی سنٹرل جیل سرینگر منتقل کئے گئے ہیں ۔
اسکے بعد ہی مرکز نے ۱۰۰ سنٹرل فورسز کمپنیاں وادی بھیجی جن میں بی ایس ایف بھی شامل ہے جسے ۹۰ کے بعد پہلی بار وادی میں تعینات کیا گیا ۔ جس سے وادی میں خوف وہراس پھیل گیا ۔ ریاستی انتظامنیہ نے طرف سے کہا گیا کہ یہ صرف انتخابات کی تیاروں کو لے کر گرفتاریاں اور فورسز کی مزید نفری تعینات کی گئی ہے ،۔
اسکے بعد اب کہیں اضلاع میں جماعت کے عہدیدران کی گرفتاریاں پھر سے شررع کی گئی ہیں جبکہ بانڈی پورہ اور کپوارہ کے علاوہ ضلعی دفاتر کو بھی سیل کیا گیا ہےء ۔۔ وہیں جماعت اگر چہ جماعت کے عہدیدان گھروں کو بھی سیل کیا گیا تھا تاہم بعد میں یہ سیل ہٹا دی گئی ۔
جماعت کے فلاح عام ٹرسٹ ادارہ کے تحت چلنے والے سکولوں میں زیر تعلم بچوں کے والدیں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گےئی ہے کہ کہیں ایف ے ٹی کےء سکولوں پر بھی اب پابندی عائد نہ کی جائے ۔
فلاح عام ٹرسٹ کے چئیر مین محمد مقبول کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی کا جماعت کیساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ۔ایف اے ٹی کے اس وقت وادی میں تین سو سکول چل رہے ہیں جن میں دس ہزار اساتذہ ہیں اورر ایک لاکھ سے زائد زیر تعلیم طلاب ہیں ، جن کا مستقبل اس فیصلے سے خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔
ادھر گونر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے واضح کر دیا کہ ریاستی سرکار فلاح عام ٹرسٹ کے سکولوں پر پابندی کا فیصلہ زمینی سورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی کر ے گی۔
جماعت اسلامی نے اپنے دفاع اس پابندی کو غیر آینی غیر جمہوری اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے ۔ جماعت پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ۔ جماعت کی ہر سرگرمی سب کے سامنے عیاں ہے
۔ اب جماعت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پابندی کے خلاف عدالت کا رخ کرے گی ۔۔
پابندی کے خلاف ریاست کی تمام مین سٹریم پارٹیوں ارو علیحدگی پسند جماعتون نے سخت مذمت کی ہے ۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ جماعت خالص ایک ایک دینی اور فلاحی تنظیم ہے ۔ جماعت پر پابندی کو جے آر ایل نے استعمار ی حربہ قرار دیا ۔سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ جماعت کا ملی ٹنٹون کے ساتھ تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ۔ یہ ایک فلاحی جامعت ۔ اس پر پابندی کے سخت نتائج بر آمد ہونگے ۔۔
پیپلز کانفرنس کے چیر میں سجاد غنی لون ایک ٹویٹ کے زریعے کہا کہ جماعت پر پابندی کیون جامعت ایک سیای و مذہبی جماعت ہے اس تنظیم نے شاندار رہنما اور قانون ساز عطا کئے ہیں گی ۔
این سی اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ جامعت پر پابندی لگانے سے حکومت کچھ بھی حاصل نہین کرے گی بلکہ ایسے فیصلوں سے جموں کشمیر میں مفاہمت اور مصالحت کے سللسے میں رکاوٹ آئے گی ۔
حال میں سیاست میں قدم رکھنے والے شاہ فیصل نے لکھا کہ حکومت کو ایف اے ٹی سکولوں کو سیل کرنے سے پہلے ہزاروں ان سکولی بچوں کا سوچنا چاہیے جو وہاں زیر تعلیم ہیں اور ان اساتذہ کا جن کا گھر چلتا ہے ۔، اس سے کشمیر نمیں حالات مذید خراب ہونگے ۔
پی ڈٰ پی عبدالقیوم وانی نے اسے غیر جمہوری ، غیر آئینی قرار دے کر کہا کہ انہیں اس فیصلے سے حیرانی ہوئی اور اس فیصلے کو جلد منسوخ کرنے کی مانگ کی ہے۔۔۔
انجیئر رشید نے اسے مضحکہ خیز قرار دے کر کہا کہ جماعت پر پابندی عائد کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ۔وادی کے مشہور عالم دین عبدالرشید داوودی نے اسے افسوس ناک قرار دے کر کہا جماعت پر پابندی لگانا امن و امان کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہے ،ادھر جماعت اسلامی ہند نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے پابندی کو ہٹانے کی مانگ کی ہے
جماعت اسلامی جموں کشمیر پر یہ نہ پہلی بار پابندی عائد کی گئی ہے اور نہ آخری ہو گی ۔ پاکستان بھارت کے الگ ہونے کے بعد جماعت ۱۹۵۴ میں ریاست میں الگ اپنے ایک آئین کے تحت باضابطہ طور قائم ہوئی ۔ اسکے بعد جماعت نے ریا ست میں اپنی جڑے گھاڑتے ہوئے ۱۹۷۱ کے لوک سبھا انتخابات اور پھر ۷۲ میں اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا ۔جماعت نے ان انتخابات میں دھندلی کا الزام لگایا اور ۲۲ میں سے پانچ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ۔
۱۹۷۵ میں میں شیخ عبداللہ کی ریاست کی سیاست میں واپسی ہوئی لیکن اندر ا۔ عبداللہ ایکارڈ کیساتھ ۔ جس کی جماعت نے شد ید مذمت کی اور کہا کہ یہ مسلہ کشمیر پر یو این قرارداد کی خلاف ورزی ہے ۔جس کے بعد جماعت پر پابندی عائد کی گئی ۔
اسکے بعد جماعت نے ۸۳ ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور پھر ۸۷ء میں مختلف مذہبی جماعتوں نے مل کر ایک اتحاد مسلم یونائیڈڈ فرنٹ قایم کیا ۔
جس میں جماعت کی سربراہی والے اتحاد نے تیس فیصد ووٹ حاصل کئے لیکن اس اتحاد نے صرف چار سیٹیبں حاصل کی ۔ اور ساتھ ہی دھاند لی کا الزام لگایا۔
جو ریاست میں شورش کی وجہ بنی ۔ یو سف شاہ سید صلاؑ ح دین بنے ۔ رپورٹس کے مطابق اگر دھاندلی نہ ہوتی تو ایم یو ایف ۱۵ سے بیس سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو تا ۔ ۹۰ میں دوسری بار جماعت پر پابندی عائد کی گئی ۔ پھر ۹۳ میں کانگرس سرکار نے ہٹا لی تھی ۔
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جماعت پر پابندی عائد کرنے کے سنگین نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں کیوں کہ ان سے کشمیری لوگ بھی ہمدردی ر کھتے ہیں ۔
عوامی حلقوں کا مننا ہے کہ جماعت کے تحت چل رہے ہزاروں بیت المالوں کے بند ہونے کی وجہ سے کہیں بیواہیں اور یتیم بے سہار ا ہو گئے ہیں اور اب وہ بھیک مانگنے کے لئے سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہوسکتے ہیں ۔
اب دیکھنے والی بات ہو گی کہ جماعت پر پابندی کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے اگر نہیں تو اس کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں ۔
جماعت پر لگی پابندی پے آپ کی کیا رائے ہے، کمنٹ بکس میں ضرور بتائیں ۔
دنیا
امریکی صدر ٹرمپ کی بائیں بازو کے انتہا پسندوں اور ڈیموکریٹس پر تنقید
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیں بازو کے انتہا پسندوں اور ڈیموکریٹس پر سخت تنقید کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ان کو اب اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم نے ایران کے خلاف کتنی بڑی کامیابی حاصل کی، تہران کو حالیہ جنگ میں مکمل طور پر شکست ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایران کو اربوں ڈالرز فراہم کیے، اوباما نے ایران کے خلاف امریکی فوج کا استعمال ہی نہیں کیا جو ضروری تھا، دنیا میں دہشتگردی کے سب سے بڑے سرپرست ایران کو قابو کرنا ناگزیر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام اوباما اور جو بائیڈن کو انتہائی ناکام لیڈر سمجھتے تھے، وہ ان کو ناکام سمجھنے میں 100 فیصد درست تھے، میرے برسر اقتدار آنے سے پہلے ایران مسلسل 47 برس من مانی کرتا رہا، جبکہ میرے اقتدار میں آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا امریکہ پھر سے طاقتور ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے ڈیموکریٹس دعویٰ کر رہے ایران پہلے سے مضبوط ہے، تہران کو مکمل فوجی شکست ہو چکی اب اس کی بحریہ باقی ہے اور نہ فضائیہ۔
امریکی صدر نے ڈیموکریٹس کو بے وقوف قرار دے دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا مذاکرات کیلیے وفد سوئٹرزلینڈ بھیجنے سے متعلق حتمی اعلان
تہران، ایران نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت امریکہ کے ساتھ حتمی مذاکرات کیلیے وفد سوئٹرزلینڈ بھیجنے کا اعلان کر دیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ ایران کا وفد مذاکرات کیلیے سوئٹرزلینڈ جائے گا، مذاکراتی وفد کچھ دیر بعد یورپی ملک کیلیے روانہ ہوگا۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایرانی وفد دوسرے فریق کے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرے گا، ہم اپنے وعدوں پر قائم ہیں، لیکن دوسرا فریق بھی وعدوں کی پاسداری کرے، یہ لازمی ہے کہ صیہونی حکومت کو لبنان پر حملے بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے معاہدہ اس لیے نہیں کیا کہ اس پر عمل نہ ہو، اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرے گا تو ہم بھی ضروری اقدامات کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک
غزہ، طبی ذرائع اور عینی شاہدین کا کہنا ہے ہفتے کی صبح سویرے غزہ میں ایک حملے میں کم از کم پانچ فلسطینی، جن میں ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں، ہلاک اور زخمی ہوئے ۔
الشِفا ہسپتال کے ایک طبی ذرائع نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ الطیّران چوراہے کے قریب غزہ شہر میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا ، جس میں دو بچیاں اور ان کے والدین ہلاک ہو گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حملے میں طلوعِ آفتاب کے وقت سفادی خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں حسین اور رنا سفادی اور ان کی دو بیٹیاں زینہ (6) اور لانا (13) ہلاک ہو گئیں۔ خاندان کے کئی دیگر افراد اور آس پاس کے رہائشی بھی زخمی ہوئے۔
ایک اور واقعے میں، عینی شاہدین کے مطابق، شمالی غزہ شہر کے قریب الصفطاوی چوراہے کے نزدیک پیدل چلنے والوں کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک فلسطینی مرد ہلاک اور ایک عورت معمولی زخمی ہو گئی۔
یہ حملے اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی فائر بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے تسلسل کے دوران ہوئے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جمعرات تک، ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 1,007 فلسطینی ہلاک اور 3,165 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔
فائر بندی کا معاہدہ اسرائیل کی غزہ پر دو سالہ نسل کش جنگ کے بعد ہوا، جس میں 73,000 سے زائد فلسطینی ہلاک، 173,000 سے زائد زخمی اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تقریباً 90 فیصد حصے کو وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا6 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
ہندوستان3 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر5 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا6 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا6 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا4 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
ہندوستان6 days agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال






































































































