اہم خبریں
قرآن کریم اور روزہ انسانی ہدایت کا سرچشمہ

حافظ محمد جمشید قادری 
مولائے رحیم وکریم نے انسانوں کی ہدایت کے لئے قرآن کریم کو نازل فرماکر انسانوں پر احسان عظیم فرمایا اور قرآن مجید میں فرمایا: (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ اس میں ہدایت ہے ڈرنے والوں کے لئے(القرآن ،سورة بقرہ آیت ۲۶) ۔ انسانوں کی ہدایت کے لئے اللہ نے دنیا میں نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا اور انسانوں کی رہنمائی کے لئے پیغمبر آتے رہے اور ان پر خدا کی طرف سے آسمانی کتابیں بھی نازل ہوئیں اور انبیائے کرام اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کرتے رہے۔ سلسلہ نبوت ورسالت آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوااور آپ پر خدا کی طرف سے جو کتاب ہدایت نازل ہوئی اسے قرآن کریم کے نام سے جانا جاتاہے۔آسمانی کتابیں جتنی نازل ہوئیں ان میں قرآن مجید ہی وہ کتاب ہے جس میں آج تک کسی قسم کی کوئی تحریف(حرف یا بیان کا بدلنا) نہیں ہوسکی ہے اور یہ وہ کتاب ہے جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ رب العزت نے فرمایاہے۔ اسی وجہ سے آنے والی صبح قیامت تک بھی اس میںکسی تحریف کا امکان نہیں۔ اس کتاب کے لاکھوں اعجازوں میں سے یہ بہت بڑا اعجاز ہے کہ اس کے مثل کوئی بھی کلام پیش کرنے سے انسان عاجز ہے۔ القرآن ،سورة الاعراف ، آیت ۲۵ میں اللہ فرماتاہے :اور بے شک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لئے۔(کنز الایمان)
قرآن کریم کلامِ مو¿ثر ہے۔ یہ کلام نازل ہی اسی لئے ہوا ہے کہ سوتے ہوو¿ں کو جگائے، غافلین کو خبردار کردے، ظالموں اور سرکشوں کو ان کی ہلاکت اور ان کے برے انجام سے آگاہ کردے۔ جو لوگ بھٹکے ہوئے ہیں انہیں راہِ ہدایت عطا کرے۔ القرآن ، سورة یونس، آیت ۷۵میں اللہ فرماتاہے:اے لوگو!تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوںکے لئے (کنز الایمان) اسی مفہوم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں مطالعہ فرمائیں(۱) سورة بنی اسرائیل آیت ۲۸(۲) سورة السجدہ، آیت ۱،۲) وغیرہ۔ انسانوں کی رہنمائی کے لے اس سے بڑھ کر اور کوئی کتاب نہیں جب اللہ رب العزت نے فرمادیا کہ یہ کتاب ہدایت ہے تو پھر آج مسلمان کیوں بھٹک رہے ہیں؟ہمیں غور وفکر کرنا ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان قرآن کریم کی تلاوت کرے ، اس کا مطالعہ کرے اسی احساس و ذمہ داری کے ساتھ کہ یہ کتاب الٰہی انسانی زندگی کےلئے ایک کامل ہدایت نامہ ہے۔زندگی کی ضرورت سے تعلق رکھنے والے سارے ہی احکام ایمانیات، عبادات، معاملات ، معاشرت ،اخلاقیات وغیرہ وغیرہ قرآن مجید میں موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے قرآن مجید اعلان فرمارہا ہے : اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے ۔ او رہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو(القرآن ،سورة النحل،آیت ۹۸) ۔(کنزالایمان)اس میں انسانی زندگی کے ہر گوشے کے لئے ہدایت حق کا سامان موجود ہے دنیا یا آخرت کو جو بھی مسئلہ ہو اس سلسلے میں سب سے پہلے اسی کتاب کی طرف رجوع کیا جانا چاہیئے اور کتاب الٰہی جو اصول و رہنمائی دے اس کی روشنی میں عمل کرنا چاہئے تبھی کامیابی و کامرانی ملے گی ۔
قرآن مجید کا مطالعہ اس کی تلاوت کی اہمیت خود قرآن کریم بتاتا ہے کہ اللہ کے سچے اور مخلص بندوں کی یہ صفات ہے کہ وہ اللہ کا ذکر اور میری آیتوں (قرآن) کی تلاوت کیا کرتے ہیں۔ قرآن کریم گزشتہ امتوں کی بارے میں بھی فرمارہاہے کہ فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی اور گمراہیوں کی ماری ہوئی قوم بنی اسرائیل میں صرف وہ لوگ حق پر قائم اور باقی رہے جو آیاتِ الٰہی کی تلاوت کیا کرتے تھے۔(القرآن، سورة آل عمران، آیت ۳۱۱)ترجمہ: سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں جو حق پر قائم ہیں اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں(کنز الایمان)کلام الٰہی کی تلاوت کرنے والے اس پر عمل کرنے والے ہی ہدایت پر قائم رہیں گے ورنہ اسے گمراہی کا سبب بن جائے گا۔
قرآن کریم کی ہدایت کی سچی طلب کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔ نیت بھی سچی ہونی چاہئے کیونکہ اللہ کی اس کتاب کے علاوہ کامل حق کہیں اور ممکن ہی نہیں ۔ ہدایت حاصل کرنی ہے ، منزل پر پہنچنا ہے تو قرآن کو دلوں میںلے کر عملی طور پر ہدایت کی راہ پر چلنے کا مصمم ارادہ کرے۔ اللہ کریم ہے ہدایت سے سرفراز فرمائے گا۔قرآن کریم کی بے شمار خوبیا ںہیں ۔ لکھنے والے لکھتے آرہے ہیں آگے بھی لکھتے رہیں گے پھر بھی حق ادا نہ ہوسکے گا۔بڑے بڑے مفسرین کرام نے لکھا، صحابہ، بزرگانِ دین نے لکھا حتی کہ غیر مسلم علم دانوں نے بھی لکھا ۔ چند کا مطالعہ فرمائیں۔آج جو قرآن مسلمانوں کے درمیان رائج ہے ، اس کی صحت میں کسی فرقہ کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ قرآن کا ایسا وصف ہے جس کا معاندین تک اعتراف کرتے ہیں۔سر ولہم میور(Sir Vilhelm) لکھتے ہیں
”محمد(ﷺ) کی وفات کے چوتھی صدی بعد ہی ایسے مناقشات اورفرقہ بندیاں ہوگئیں جس کے نتیجے میں (حضرت) عثمان
قتل کر دئے گئے ۔اور یہ اختلافات آج بھی باقی ہیں۔ مگر ان سب فرقوں کا قرآن ایک ہی ہے۔ ہر زمانہ میں یکساں طور پر
سب فرقوں کا ایک ہی قرآن پڑھنا ، اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ آج ہمارے سامنے وہی مصحف ہے جو اس خلیفہ
(عثمان) کے حکم سے تیار کیا گیا تھ۔ شاید پوری دنیا میںکوئی دوسری کتاب ایسی نہیں ہے جس کی عبارت بارہ صدیوں تک
اس طرح بغیر تبدیلی کے باقی ہو(لائف آف محمدمطبوعہ۲۱۹۱،دیباچہ)َ۔“
لین پول نے اس حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے.
” قرآن کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی اصلیت میںکوئی شبہ نہیں۔ہر حرف جو آج ہم پڑھتے ہیں ، اس پر اعتماد کر سکتے ہیں کہ تقریباًتیرہ صدیوں سے غیر مبدل رہا ہے۔“(سولوشن فرام دی قرآن)
قرآن کریم جس طرح ہدایت انسانی کا سر چشمہ ہے اسی طرح روزہ بھی انسانی ہدایت کے لئے ہی اللہ نے ایمان والوں کو حکم دیاکہ تم پر روزہ اس لئے فرض کیا گیاتاکہ تم متقی و پرہیز گار، نیک ،ہدایت یافتہ بن جاو¿۔ ایک حدیث میں روزہ شیطان کے وار سے بچنے کا ڈھال بتایا گیا ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہم قرآن و روزہ سے ہدایت قبول کریں ۔۔آمین ثم آمین!
رابطہ: ( Mob.:09386379632) e-mail: (hhmhashim786@gmail.com)
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا1 week agoٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں










































































































