اہم خبریں
موسم خشک پر سردی کا راج برقرار،شبانہ درجہ حرات نقطہ انجماد سے نیچے درج

چلہ کلان کی مدت ختم،چلہ خرد کا آغاز
سرینگر۔جموں شاہراہ پر یکطرفہ آمد ورفت بحال،کنڈی علاقوں کی رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام شروع
سرینگر:حالیہ برف وباراں کے تازہ مرحلے کے بعد موسم میں آئی تبدیلی کے بیچ چلہ کلان کی40روزہ مدت جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو ختم ہوگئی،تاہم اسکے ساتھ ہی موسم سرما کے شدید ایام کے دوسرے مرحلے ’چلہ خرد‘ کا آج سے باضابط طور پر آغاز ہوگیا جسکی مدت آئندہ20روز تک رہے گی۔اس دوران محکمہ موسمیات نے آئندہ24گھنٹوں کے دوران مجموعی طور موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کی جبکہ شبانہ درجہ حرارت وادی بھر میں نقطہ انجماد سے نیچے ہی درج کیا گیا۔
ادھر سرینگر۔جموں شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک کی آمد ورفت بحال کردی گئی،جس دوران گاڑیوں کو سرینگر سے جموں کی طرف روانہ کیا گیا۔کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق وادی کشمیر میں سردیوں کے شہنشاہ کہلانے والے ’چلہ کلان‘ کی 40روزہ مدت جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو ختم ہوگئی۔تاہم اسکے ساتھ شدید سردیوں کے ایام کا دوسرا مرحلہ جسے عرف عام میں ’چلہ خرد‘ کہا جاتا ہے،کی 20روزہ مدت بھی شروع ہوگئی۔
ان ایام کے دوران بھی وادی کشمیر میں بر ف وباراں کا قوی امکان رہتا ہے۔محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ دن بھر مطلع صاف اور دھوپ نکل آنے سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں بہتری درج کی گئی،تاہم رات کادرجہ حرارت تاحال نقطہ انجماد سے نیچے ہی وادی بھر میں ریکارڈ کیا گیا۔درجہ حرارت:محکمہ موسمیات کے ترجمان نے رات کے درجہ حرارت کے حوالے سے جو تفصیلات فراہم کیں،اُنکے مطابق سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.8ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ میں رات کا درجہ حرارت منفی1.3ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں رات کا درجہ حرارت منفی11.0ڈگری اور جنوبی کشمیر میں واقع مشہور ومعروف صحت افزاء مقام پہلگام،جوکہ امرناتھ یاتریوں کا بیس کیمپ بھی ہے،میں رات کا درجہ حرارت منفی10.6ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
تازہ پیش گوئی:محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ اسی طرح سرحدی ضلع کپوارہ میں رات کا درجہ حرارت منفی3.7ڈگری جبکہ سیاحتی مقام کوکرناگ میں رات کا درجہ حرارت منفی1.6ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیاگیا۔محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ وادی کشمیر میں اگلے24گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر موسم خشک رہنے کا امکان ہے،تاہم مطلع جزوی طور ابر وآلود رہنے کا امکان ہے۔ان کا کہناتھا کہ جموں وکشمیر کے چند ایک مقامات پر اگلے24گھنٹوں کے دوران ہلکی بارش و برفباری کا بھی امکان ہے۔
کشمیر شاہراہ پر آمد ورفت بحال: موسمی صورتحال میں آئی بہتری اور سرینگر۔جموں شاہراہ سے مکمل طور رکاوٹیں ہٹانے کے بعد اس پر آمد ورفت بحال کردی گئی۔ٹریفک حکام نے بتایا کہ جمعرات کو سرینگر۔جموں شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک بحال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بدھ کے روز درماندہ گاڑیوں کو اپنی اپنی منزل مقصود کی جانب جانے کے بعد ہی شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک بحال کیا گیا۔
ٹریفک حکام نے بتایا کہ جمعرات کو سرینگر سے جموں کی طرف گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی گئی،تاہم مخالف سمت سے کسی بھی گاڑی کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔یاد رہے کہ سرینگر۔جموں شاہراہ پر منگلوار کے روز ٹریفک کی آمد ورفت ٹنل کے آر پار تازہ برفباری اور رام بن سے رامسو کے درمیان پسیاں اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے روک دی گئی تھی۔جمعرات کو شاہراہ پر ٹریفک جام کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے جس دوران گاڑیوں کی رفتار کچھوے کی مانند رہی۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ رفتار گاڑیوں کی رابطہ سڑک پر پھسلن کے سبب کم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔غور طلب بات یہ ہے کہ سرینگر۔
لہیہ شاہراہ،تاریخی مغل روڑ اور اننت ناگ۔کشتواڑ روڑ گذشتہ دو ماہ سے بند ہے،یہ رابطہ سڑکیں بھاری برفباری کے نتیجے میں آمد ورفت کیلئے بند کردی گئیں اور ممکنہ طور اپریل۔مئی میں دوبارہ کھول دی جائیں گی۔رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام:اس دوران وادی کشمیر کے کنڈی علاقوں کو اپنے اپنے ضلع ہیڈ کواٹروں سے جوڑ نے کیلئے کئی رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام دوبارہ شروع کردیا گیا۔درجنوں سرحدی اور دور دراز کنڈی علاقے حالیہ برفباری کے بعد ضلع ہیڈ کواٹروں سے کٹ کر رہ گئے جسکی وجہ سے عام لوگوں خاص طور پر مریضوں کو مشکلات درپیش تھیں۔
اطلاعات کے مطابق سرحدی قصبہ جات کیرن،مژھل،گریز کیساتھ ساتھ درجنوں دور دراز اور کنڈی علاقے بھاری برفباری کی وجہ سے 13جنوری سے اپنے ضلع ہیڈ کواٹروں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ درجنوں کنڈی علاقوں کی اہم رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے،تاکہ ضلع ہیڈ کواٹر وں سے ان کا زمینی رابطہ بحال ہوسکے۔(کے این ایس)
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر9 hours agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر3 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند







































































































