اہم خبریں
ئیق رضوی، کربلائی ادب اور دریافت کے نئے دریچے… معین شاداب

نوحے اور مرثیے پر تحقیقی اور تنقیدی کام کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی ادبی نقد و تحقیق کی روایت لیکن لئیق رضوی کی تصنیف ’عوامی مرثیے کی روایت‘ اس اعتبار سے اپنی نوعیت کی پہلی تحقیقی کاوش ہے کہ انہوں نے رثائی ادب کے ڈانڈے اردو کے وجود میں آنے سے قبل کی ہندوستانی بولیوں سے جوڑے ہیں۔ آثار وقرائن اس بات کی طرح اشارہ کرتے رہے ہیں کہ اردو مرثیے کی بنیادیں ہندوستانی مٹّی میں ہی پیوست ہیں۔ محققین عام طور پر ہندوستان میں مرثیے کا نکتہ آغاز ملّا وجہی اور قلی قطب شاہ وغیرہ کے یہاں تلاش کرتے ہیں لیکن یہ بنیادیں ذرا اور گہری ہیں۔ لئیق رضوی نے ہندوستان میں مرثیے کی جڑوں کو دریافت کیا ہے۔
ہندوستان میں مرثیے کا آغاز اردو زبان سے نہیں ہوتا بلکہ اردو کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کی مختلف زبانوں میں مرثیہ لوک گیتوں کی شکل میں موجود تھا۔ محققین کو اس کا اندازہ تھا لیکن اسے نہ جانے کیوں نظر انداز کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ تو عربی اور فارسی کا زور رہا، دوسرے اردو ادب کی نستعلیق تہذیب نے اس لوک ورثے کو قابل اعتنا نہ سمجھا۔ اس طرح یہ قدیم رثائی سرمایہ سمٹتا چلا گیا۔
جن لوگوں نے لوک گیتوں پر کام کیا ہے انہوں نے لوک رثائی ادب یا عوامی مرثیے کے خال خال اشارے ضرور دیئے ہیں۔ بعض لوگوں نے محرم کے گیت وغیرہ کے ضمن میں انہیں رکھا ہے لیکن ان پر کوئی منصوبہ بند تحقیقی یا تنقیدی کام نہیں ہوا۔ مرثیے اور نوحے کے ناقدین نے عوامی مرثیے کی اہمیت کا تذکرہ تو ضرور کیا ہے اور اس پر تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے لیکن کسی کویہ توفیق نہ ہو سکی۔ اظہر علی فاروقی نے اس پر تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ جو کچھ اور کام بھی لوک گیتوں پرسامنے آئے ہیں اس میں محرم کے گیت بھی مل جاتے ہیں۔ اظہر فاروقی کا کام اس لحاظ سے بہتر ہے کہ انہوں نے اس تعلق سے کچھ چیزیں جمع کی ہیں۔ لیکن ان کا مقصد عوامی گیتوں پر کام کرنا تھا مرثیوں پر نہیں۔ کچھ برس قبل ایک اور کتاب دکنی لوک گیتوں پر آئی ہے جس میں دو دو چار چار مصرعوں کے ایک دو گیت شامل ہیں۔
تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں لوک گیتوں کی ایک مضبوط روایت ہے۔ ان گیتوں میں رثائی مواد بھی موجود ہے لیکن وہ نظر انداز ہوتا رہا۔ جبکہ اسے منظر عام پر لانے کی ضرورت تھی۔ لئیق رضوی نے اس کا بیڑہ اٹھایا اور سنجیدگی و تن دہی سے اس پر کام شروع کیا۔ اس تعلق سے ان کے کچھ مضمون ادھرادھر شائع ہوئے۔ سہ ماہی ’فکرو تحقیق‘ میں’دہے‘ پر ان کا تحقیقی مقالہ چھپا تھا۔ جس کا عنوان تھا ’عوامی مرثیہ دہا: روایت اور آداب‘۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا کے محرم نمبر میں لئیق رضوی کا ایک مضمون ’نوحہ حسین کے عوامی رنگ‘ شائع ہوا۔ اب اس اہم موضوع پر ان ایک پوی کتاب ’عوامی مرثیے کی روایت‘ شائع ہوگئی ہے۔
’عوامی مرثیے کی روایت‘ ایک پر مغز تصنیف ہے جو کربلائی ادب کے ذیل میں دریافت کے نئے دریچے بناتی ہے۔ یہ کتاب گیارہ ابواب پر مشتمل ہے اور اس کا ہر باب اہمیت کا حامل ہے۔ پہلے باب میں ’ہندوستان میں عزاداری کی تاریخ‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ’عزاداری میں ہندوستان‘ کے مختلف رنگوں کا تعارف کرایا گیا ہے۔ تیسرا باب ’غم حسین کے عوامی اظہارات‘ کا محاکمہ کرتا ہے۔ جبکہ چوتھے باب میں ’عوامی مرثیے کے ر نگ، روپ اور رویّے‘ سے بحث کی گئی ہے۔ پانچویں، چھٹے اور ساتویں باب میں بالترتیب شمالی ہند، بنگال اور دکن میں مرثیے کے آغاز اور ارتقا پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کا آٹھواں اور نواں حصہ ’دہے‘ اور ’زاری‘ پر مرکوز ہے۔ جس میں ان عوامی اصناف کے آثار ڈھونڈے گئے ہیں۔ دسویں باب میں ’اردو ررثائی شاعری پرعوامی اثرات‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ ’عوامی مرثیے‘ کا انتخاب ہے۔ انّیس صفحات پر مشتمل لوک مرثیوں کا یہ ذخیرہ اپنی مثال آپ ہے جسے لئیق رضوی نے برسوں کی تلاش و جستجوکے بعد جمع کیا ہے۔
لئیق رضوی اپنی اس کتاب میں ’ہندوستان میں عزاداری‘ کے ساتھ ساتھ’ عزاداری میں ہندوستان‘ کے پہلو کو بھی ابھارتے ہیں۔ اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کے زیر اثرمرثیے اور نوحے کے دیسی رنگوں سے بھی وہ متعارف کراتے چلتے ہیں۔ انہوں نے عربی فارسی کے قدیم عزائی متن کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بولیوں میں ترتیب دیئے جا رہے دیسی عزائی متن پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اس ضمن میں دکن میں ’نوسرہار‘ (شہادت نامہ) اور شمالی ہندوستان میں فضلیؔ کی ’کربل کتھا‘ اور روشن ؔعلی کا ’عاشور نامہ‘ جیسی ابتدائی دیسی چیزوں کا بطور خاص حوالہ دیا ہے۔
ہندوستان کثیر المذاہب ملک ہے اور تہذیبی وثقافتی رنگا رنگی کا حامل ہے چناچہ یہاں کربلا کا غم مختلف انداز میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں غم حسین الگ الگ شکلوں میں منایا جاتا ہے۔ غیر مسلموں میں عزاداری اور مراسم کے اپنے اطوار ہیں۔ مصنّف نے ماتمی رقص وموسیقی، سوانگ، اکھاڑے، جھنڈے، گروہ، لنگر، سینہ زنی، آگ اور زنجیری ماتم کی مختلف صورتوں کا ریاست وار تعارف کرایا ہے۔ اس باب میں ’حسینی برہمنوں‘ کا بھی خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے۔
لئیق رضوی نے لوک مرثیے کی صدیوں پرانی روایت کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں جائزہ لیا ہے۔ عہد بہ عہد تبدیل ہوتی اس کی مختلف صورتوں سے آشنا کرایا ہے۔ اس میں پہلی مرتبہ ملک محمد جائسی کو شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ جائسی سے قبل بھاشا کے دیگر شعرا سیّد بھیکہ، قطبین اور تاج بخش کا بھی انہوں نے حوالہ دیا ہے۔
’شمالی ہند میں عوامی مرثیہ‘ ’بنگال میں عوامی مرثیہ‘ اور ’دکن میں عوامی مرثیہ‘ یہ تینوں ابواب اس کتاب کا مغز ہیں۔ مصنف نے ان خطّوں میں عوامی رثائی متن کا تحقیقی اور تنقیدی نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا ہے۔عوامی مرثیے کے نام پر پہلے لوگ ’دہے‘ اور ’زاری‘ کو جانتے تھے۔ مرثیے کی اس نوع کی دیگر اصناف سے لوگ کم واقف تھے یا ناواقف تھے جو ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ لئیق رضوی نے ساتھ ہی یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اردو مرثیوں اور نوحوں کا موجودہ تاثر اور کیفیت دہے اور زاری ہی کا مرہونِ منّت ہے۔
ہندوستان میں قدیم لوک گیتوں کی کم وبیش ہزار سال پرانی تاریخ ہے۔ عام مرثیے اور نوحے کی موجودگی کے با وجود ایک عوامی دھارا ایسا تھا جو لوک گیتوں میں مرثیہ اور نوحہ کہہ رہا تھا۔ اردو کی رثائی شاعری پر اس لوک ورثے کا کتنا اثر پڑا اس کا تفصیلی جائزہ بھی مصنف نے لیا ہے۔ اس لوک ورثے میں شامل برج بھاشا، اودھی، بھوج پوری، مگہی، پنجابی، بنگلہ، تیلگو، مراٹھی، کشمیری اور دوسری کئی ہندوستانی زبانوں میں عزائی ادب کے نقوش کو ابھارا گیا ہے۔
لئیق رضوی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو مرثیے کی جڑیں عربی فارسی میں کم فوک لٹریچر میں زیادہ ہیں۔ اردو میں رثائی تخلیقات آنے سے پہلے قدیم ہندوستانی بولیوں میں کربلائی گیت بن چکے تھے اور اردو کے وجود میں آنے کے بعد وہی گیت اردو میں منتقل ہوئے۔ بعد کے شعرا نے یہ لہجہ اپنے مرثیوں کی کیفیت بڑھانے کے لیے اختیار کیا۔ خلیفہ سکندرؔ اور سوداؔ نے دیہاتی پنجابی، مارواڑی اور برج بھاشا وغیرہ سے استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنے مرثیوں میں چار مصاریع اردو میں کہے اور بیت ان دیسی زبانوں کی لگائی۔ ان شعرا نے عوامی بولیوں یا زبانوں سے استفادہ کرکے ترقی کے مراحل طے کیے ہیں۔ بعد کے شعرا نے بھی اپنے کلام میں زور اور نشتریت پیدا کرنے کے لیے دیہاتی زبانوں سے اجالا لیا۔ بیسویں صدی میں بھی نجمؔ آفندی اور رجاؔ رام پوری (رضا رامپوری) وغیرہ نے اس روایت کی پیروی کی ہے۔ آج بھی اگر آپ دس نوحے یا مرثیے اردو کے پڑھتے ہیں تو وہیں ایک آدھ نوحہ علاقائی زبان میں بھی کہتے ہیں تاکہ بات کو پر اثر بنایا جاسکے۔ دراصل یہ ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی شاعری ہے جو ہمیں اپنے ماضی اور عزائی ادب کی روح سے جوڑتی ہے۔
نایاب اور کم یاب لوک گیتوں کا انتخاب اور یکجائی اس کتاب کا انتہائی اہم حصّہ ہے۔ قدیم دیسی زبانوں میں مختلف صورتوں میں موجود عوامی مرثیوں اور نوحوں کو محفوظ کرنے کی خاطر لئیق رضوی نے دیدہ ریزی کی ہے۔ ان میں بیشتر لوک گیت ایسے ہیں جو تحریری شکل میں دستیاب نہیں تھے لیکن سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہے تھے اور ان میں سے کچھ جدید تکنیکی عہد میں ریکارڈنگ کے ضبط میں آگیے تھے۔ انہیں قلم بند کرنے کے لیے لئیق رضوی نے جاںفشانی کی ہے اور اس طرح یہ قدیم اہم سرمایہ پہلی بار تحریر کے ضابطے میں آگیا ہے اور یہ انمول بول محفوظ ہو گیے ہیں۔
یہ کتاب مصنف کی ربع صدی کی جانفشانی اور عرق ریزی کا نتیجہ ہے۔ مصنف نے ان چیزوں کی تحقیق اور بازیافت کے ساتھ ان کی قدرو قیمت کے تعیّن کی قابل قدر کوشش کی ہے۔ یہ کتاب مرثیے کی تاریخ اوراس کی تحقیق کے شعبے میں ایک اضافہ ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

جموں و کشمیر7 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان6 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
جموں و کشمیر2 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
ہندوستان6 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
دنیا7 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا6 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
دنیا1 week ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار
دنیا5 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران








































































































