تازہ ترین
سخت سکیورٹی پالیسی سے کشمیر میں کا م نہیں چلے گا ،محبوبہ مفتی

سرینگر : طاقت کی پالیسی کو کسی بھی صورت میں ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست میں امن کو پٹری پر لانے اورعام لوگوں کے اندر مایوسی کو ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کسی بھی طور صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے ہمیشہ 370اور 35اے کے تحفظ کے لیے کام کیا جبکہ 11ہزار سنگ بازوں کو نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کا موقعہ فراہم کرتے ہوئے ان کے کیسوں کو واپس لیا۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مخلوط اتحاد کے ٹوٹ جانے کے فوراً بعد کہا کہ ریاست میں طاقت کی پالیسی کسی بھی صورت میں کامیاب اور کار گر ثابت نہیں ہو سکتی، پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد اقتدار کے لئے نہیں بلکہ لوگوں اور ریاست جموں و کشمیر کے مفاد کی خاطر کیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر قطعاً حیرانگی نہیں ہوئی کہ بی جے پی نے اتحاد توڑ ڈالا بلکہ ہم یہ بات واضح کر نا چاہتے ہیں کہ پی ڈی پی لوگوں کے مفاد اور جموں کشمیر کے مفاد کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہے گی ۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پارٹی ممبران کے ساتھ میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پی ڈی پی نے دفعہ 370اور35Aکے تحفظ کے لئے کام کیا اور اسکے علاوہ 11ہزار سنگ بازوں کے خلاف دائر کیس واپس لئے ۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے بل پر ریاست میں کوئی بھی سیکورٹی پالیسی کار گر ثابت نہیں ہو سکتی نہ ہی عوام مخالف کاروائیاں کار گر ثابت ہو سکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے لاہور کا دورہ کیا اس کے علاوہ ماہ رمضان میں جنگ بندی کا بھی اعلان کیا اور ہم یہ سمجھتے تھے کہ ریاست میں عوام دوست پالیسیاں کار گر ثابت ہونگی ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی یہ رائے غلط ہے کہ ریاست جمو وکشمیر ایک دشمن ریاست ہے لیکن یہ رائے ان کی با لکل غلط ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ہمیشہ اس بات کے حق میں تھی کہ ریاست جموں و کشمیر میں اعتماد سازی کے اقدامات سے ہی ماحول کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے اور اس کے لئے پی ڈی پی نے ہمیشہ کام کیا ۔یاد رہے کہ مخلوط سر کار کی اکائی بی جے پی نے منگلوار کی دوپہر اچانک اس بات کا اعلان کیا کہ وہ پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد میں آگے شامل نہیں رہ سکتے اور اس حوالے سے بی جے پی کے کشمیر انچارج رام مادھو نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کیا ۔جبکہ اچانک اتحاد توڑنے پر ریاست جموں وکشمیر میں ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ غلام نبی آزاد نے کہا کہ اتحاد ٹوٹنا ایک اچھا اقدام ہے ۔انہوں نے کہا کہ دو نوں جماعتوں نے ریاست جموں کشمیر کو غیر یقینی صورتحال میں پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو سخت مشکلات در پیش تھے ۔نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی پارٹی اتحاد ٹوٹنے پر خوشی کا اظہار نہیں کرے گی ۔KNS
دنیا
تل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کو نظر انداز کر کے علاقائی سلامتی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر کا بیان نسل کشی کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے کسی عام انتہاپسند کا بیان نہیں بلکہ اسرائیلی وزیر کا سرکاری مؤقف ہے۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ تل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی ہے اسرائیلی حکومت مستقل جنگ کو اپنے مفاد میں سمجھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے کے امن واستحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے عالمی برادری اسرائیلی پالیسیوں کا نوٹس لے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا، سیز فائر آج شام مقامی وقت کے مطابق 4 بجے شروع ہوگی۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان آج مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پیشرفت دونوں کے درمیان لبنان میں کشیدگی میں شدید اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس کا لبنان پر حملے روکنے کیلئے امریکہ سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
پیرس، فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئیل بارو نے کہا ہے کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں بند کرے۔
ژاں نوئیل بارو نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ فرانس لبنان کی فوج کی مدد کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس حوالے سے حمایت کو متحرک کیا جا سکے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ فرانس اس وقت تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی حمایت نہیں کرے گا جب تک تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات اس کی توقعات کے مطابق پیش رفت نہیں کرتے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ فرانس کی منظوری کے بغیر سلامتی کونسل کی ایران پر پابندیاں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر خدشات دور ہونے تک خطے میں پائیدار استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اتحادی گروپوں کی حمایت سے متعلق خدشات ختم ہونے تک بھی خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا اور اس صورتِ حال میں ایران کے طرزِ عمل اور پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے مطابق اس تمام صورتِ حال میں سب سے بڑا نقصان ایران کے عوام نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو اپنی موجودہ حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے: اسرائیلی وزیر کا بیان
تل ابیب، اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا لبنان جلا دینا چاہیے۔
اتمار بن گویر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی ماؤں کے آنسوؤں کے بدلے لبنانی ماؤں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان برداشت کرنا چاہیے اور اس وقت خطے میں سخت اور تباہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزر لینڈ کا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ نئی مذاکراتی کوششوں کی قیادت کی جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی مفاہمت کے بعد 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ ادھر امریکی سینٹکام نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندی ختم کر دی ہے جبکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے اجازت نامے اب اس کی متعلقہ اتھارٹی جاری کرے گی۔ اسی دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں نئی فضائی کارروائیاں کی ہیں جن میں 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں آج صبح تک 16 افراد کی شہادت کے باعث ایرانی وفد سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ ہی نہیں ہو سکا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق چیف مذاکرات کار باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سوئٹزر لینڈ روانگی کے لیے مکمل طور پر تیار تھے تاہم لبنان میں اسرائیلی جارحیت جاری رہنے کی وجہ سے ایرانی وفد کا دورہ آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ سے ملتوی کیے گئے مذاکرات کی نئی تاریخ یا مقام کا ابھی تک تعین نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل کی لبنان میں کارروائی حالیہ ہفتوں کی بدترین بمباری قرار دی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ


































































































