تازہ ترین
سرینگر کے دو فلائی اوروں پر کام نامکمل ،لوگوں کو مشکلات کا سامنا

خبر اردو :
وادی کشمیر میں زیر تعمیر2 اہم فلائی اور جہانگیر چوک سے رام باغ اور ٹی آر سی سے پولو ویو کے تعمیراتی کام پھر ایک بار اپنے مقررہ مدت کے اندر پائے تکمیل کو نہ پہنچنے کاخدشہ لاحق ہوا ہے ،جس کی وجہ سے سڑکوں پر موجود لوہا اور دیگر سازو سامان عوام کے لئے مصیبت کا باعث بن گیا ہے۔اس دوران ڈائریکٹر’ ایرا‘‘نے بتایا کہ دو نوں فلائی اوروں کے علاوہ گریڈ سپریٹر ٹی آر سی پر کام کاج جارہ ہے اور متعلقہ تعمیراتی ایجنسی کو ہدایات دی گئی ہے کہ نٹی پورہ فلائی اوور کو اگست تک مکمل کیا جائے جائے ۔
وادی کشمیر میں چند سال قبل زیر تعمیر2 اہم فلائی اوروں پر کام سست رفتاری سے جاری ہے جس کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں فلائی اور مقرر حد کے اندر پھر ایک بار مکمل نہیں ہوں گے جس کی وجہ سے عوام خاص کر مسافروں کو گزشتہ کئی سال سے درپیش مسائل میں کسی کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے ۔
ذرائع سے معلوم ہوا کہ فلائی اوروں پر گزشتہ 2ماہ سے نا معلوم وجوہات کی بناء پر کام کو روک دینے کے علاوہ رام باغ سے ٹی آر سی کراسنگ تک لوہاہے اور دیگر تعمیراتی سامان جگہ جگہ موجود ہونے کی وجہ سے لوگو کو تکلیف دہ حالات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے، گزشتہ دو ماہ کے دوران دو نوں فلائی اوروں پر تعمیراتی کام متعلقہ کمپنی اور حکومت کے در میان آپسی رسہ کشی کے نتیجے میں معطل تھا۔
فلائی اوور پر کام معطل رہنے کے نتیجے میں سڑکوں پر بھاری مقدار میں لوہا اور تعمیر کے لئے دیگر ضروری ساز و سامان بکھرا پڑا تھا جس کے نتیجے میں ٹریفک کی آواجاہی میں کافی دقتیں پیش آرہی ہے ۔اس دوران حال ہی میں جہانگیر چوک سے حیدر پورہ کی جانب جارہی ایک منی بس کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کئی مسافر زخمی ہو ئے ۔
یہ بات قابل زکر ہے کہ مزکورہ تعمیراتی کمپنی دو نوں فلائی اوروں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کر نے میں ناکام رہی ہے جس کے نتیجے میں عوامی حلقوں میں شدید ما یوسی پائی جارہی ہے جبکہ گاڑیوں کی آمد و رفت میں بھی دقتیں پیش آرہی ہے جس کے نتیجے میں آئے روزٹریفک جام کی صورتحال درپیش رہتی ہے۔KNS
دنیا
ایران کا افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان سائٹ پر موجود ہے: رافائل گروسی
نیویارک، اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی کے سربراہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران کا زیادہ تر اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم غالباً اب بھی اس کے اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں موجود ہے۔
آئی اے ای اے چیف رافائل گروسی نے منگل کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے پاس سیٹلائٹ تصاویر موجود ہیں جو ایران کے خلاف حالیہ امریکہ اسرائیل فضائی حملوں کے اثرات دکھاتی ہیں، اس سلسلے میں ہمیں مسلسل معلومات مل رہی ہیں۔
گزشتہ سال اصفہان سائٹ پر فضائی حملے کیے گئے تھے اور اس سال بھی امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران اسے نسبتاً کم شدت کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اصفہان میں آئی اے ای اے کے معائنے اس وقت ختم ہو گئے تھے جب اسرائیل نے گزشتہ جون میں 12 روزہ جنگ شروع کی اور اس دوران امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات پر بمباری کی۔
گروسی کے مطابق اقوامِ متحدہ کا جوہری نگران ادارہ سمجھتا ہے کہ ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کا ایک بڑا حصہ جون 2025 میں وہاں ذخیرہ تھا جب 12 روزہ جنگ شروع ہوئی اور تب سے یہ وہیں موجود ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم ابھی تک یہ معائنہ نہیں کر سکے اور نہ ہی مواد وہاں موجود ہونے کی تردید کر سکے ہیں، اور آئی اے ای اے کی مہریں بھی برقرار ہیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ ایران کا افزودہ یورینیم ممکنہ طور پر اب بھی اصفہان کے جوہری کمپلیکس پر موجود ہے۔ گروسی نے کہا ایئربس کے ایک سیٹلائٹ سے حاصل شدہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ 9 جون 2025 کو، گزشتہ سال کی جنگ شروع ہونے سے کچھ پہلے، 18 نیلے کنٹینروں سے بھرا ایک ٹرک اصفہان نیو کلیئر ٹیکنالوجی سینٹر میں ایک سرنگ میں داخل ہو رہا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان کنٹینروں میں اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم موجود تھا اور غالباً اب بھی وہیں ہے۔ 12 روزہ جنگ کے بعد سے جوہری تنصیبات کا معائنہ معطل ہے، اصفہان نیو کلیئر کمپلیکس میں یورینیم کی موجودگی کی ابھی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی، صورت حال کا حتمی جائزہ معائنے کی بحالی سے مشروط ہے۔
گروسی کا کہنا ہے کہ ایران کے تمام جوہری مقامات کا معائنہ ضروری ہے۔ آئی اے ای اے نطنز اور فردو میں موجود ایران کی جوہری تنصیبات کا بھی معائنہ کرنا چاہتی ہے، جہاں کچھ جوہری مواد بھی موجود ہے۔ گروسی کے مطابق ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا فریق ہے، جس کا پانچ سالہ جائزہ اس وقت اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جاری ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران پر لازم ہے کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کو آئی اے ای اے کے معائنے کے لیے کھولے۔
یو این لایجنسی کے مطابق ایران کے پاس 440.9 کلوگرام (972 پاؤنڈ) یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک ہے، جو تکنیکی طور پر 90 فیصد اسلحہ جاتی سطح سے صرف ایک چھوٹا سا قدم دور ہے۔ گروسی کے مطابق آئی اے ای اے کا خیال ہے کہ تقریباً 200 کلوگرام (تقریباً 440 پاؤنڈ) یورینیم اصفہان کے مقام پر سرنگوں میں ذخیرہ ہے۔
گروسی نے گزشتہ سال اے پی کو بتایا تھا کہ اگر ایران اپنے پروگرام کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرے تو یہ ذخیرہ ملک کو تقریباً 10 جوہری بم بنانے کے قابل بنا سکتا ہے۔ تہران طویل عرصے سے اصرار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے جنگ میں جانے کی ایک بڑی وجہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم کرنا تھا، حالانکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ موسمِ گرما کے حملوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا۔
گروسی نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کی پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایران نے گزشتہ جون میں اصفہان میں یورینیم افزودگی کی ایک نئی تنصیب کا اعلان کیا تھا اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو حملوں کے آغاز کے دن وہاں جانے کا شیڈول دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، بظاہر اس تنصیب کو نہ تو گزشتہ سال اور نہ ہی اس سال اصفہان پر ہونے والے حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
دشمن کے تمام فوجی منصوبے ناکام ہو چکے، محسن رضائی
تہران، ایرانی رہبر اعلیٰ کے مشیر محسن رضائی نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوبارہ جنگ چھڑ گئی تو اس کا مرکز اصفہان ہوگا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی رہبر اعلیٰ کے مشیر محسن رضائی کا کہنا تھا کہ اب ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ دشمن کے تمام فوجی منصوبے ناکام ہو چکے ہیں، ناکہ بندی جاری رہی تو پھرجواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی حکمت عملی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ فضول مشورے دے رہے ہیں، ناکہ بندی سے تیل کی قیمت 140 ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
ایرانی اسپیکر نے بیان میں کہا کہ اصل مسئلہ نظریہ نہیں بلکہ ذہنیت ہے، غیر حقیقی اور غلط مشورے فیصلوں کا حصہ بن رہے ہیں، امریکی ناکہ بندی سے تیل کے کنوؤں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ باقر قالیباف نے کہا تین دن میں کوئی کنواں نہیں پھٹا ہے، اور اگلے 30 دن بھی تیل کے کنوؤں سے پیداوار جاری رہے گی۔
انھوں نے امریکی پالیسی سازوں کے غیر سنجیدہ اور فضول مشوروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ٹرمپ انتظامیہ کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ فضول مشورے دے رہے ہیں۔ ’ایران کے پاس کئی سالوں تک جنگ کیلیے میزائل اور ڈرون کے ذخائر موجود ہیں‘ قالیباف کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ ناکہ بندی کے نظریے کو آگے بڑھا رہے ہیں، اس ناکہ بندی سے تیل کی قیمتیں 120 ڈالر تک پہنچ رہی ہیں، تیل کی قیمتوں کا اگلا اسٹاپ 140 ڈالر تک جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور نے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی عہد بستگی کا پیغام دیا: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ آپریشن سندور نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہندوستان اپنی سرزمین پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد اب محض سفارتی بیانات جاری کرنے کی پرانی ذہنیت تک محدود نہیں ہے، بلکہ آگے بڑھ کر فیصلہ کن کارروائی کے لیے پرعزم ہے راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو یہاں ایک قومی سلامتی سے متعلق ایک چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے واضح موقف اپنایا ہے کہ کسی بھی صورت حال میں دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک، فضائی حملوں اور آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف حکومت کے پختہ عزم کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا، “دہشت گردی ایک بگڑی ہوئی اور ذہنی خلل والی ذہنیت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسانیت پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف قومی سلامتی کا معاملہ نہیں ہے، یہ بنیادی طور پر انسانی اقدار کے تحفظ کی جنگ ہے۔ یہ ایک وحشیانہ نظریے کے خلاف جدوجہد ہے جو ہر انسانی قدر کے براہ راست مخالف کھڑی ہے۔ ہم نے اس ہندوستانی نقطہ نظر کو ملک کے اندر اور بیرون ملک واضح طور پر پیش کیا ہے۔”
وزیر دفاع نے کہا کہ جب تک دہشت گردی موجود رہے گی، یہ اجتماعی امن، ترقی اور خوشحالی کو چیلنج کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا، “دہشت گردی کو مذہبی رنگ دے کر یا اسے نکسل ازم جیسے پرتشدد نظریات سے جوڑ کر جائز قرار دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک ہے اور ایک طرح سے دہشت گردوں کو ڈھال فراہم کرتا ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنے مقصد کی طرف بڑھ سکیں۔ دہشت گردی صرف ملک دشمن فعل نہیں ہے، اس کے کئی پہلو ہیں—آپریشنل، نظریاتی اور سیاسی۔ اس سے اسی وقت نمٹا جا سکتا ہے جب ہم ان تمام پہلوؤں پر کام کریں۔”
پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت پر راج ناتھ سنگھ نے کہا، “ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی تھی۔ تاہم آج ہندوستان کو عالمی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے لیے جانا جاتا ہے، جب کہ پاکستان کو ایک الگ قسم کے آئی ٹی یعنی ‘بین الاقوامی دہشت گردی’ کا مرکز مانا جاتا ہے۔”
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کو ہندوستانی مسلح افواج کے اتحاد اور ہم آہنگی کی بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بری فوج، ہندوستانی بحریہ اور ہندوستانی فضائیہ نے متحد ہو کر اور مربوط منصوبہ بندی کے تحت کام کیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ہندوستان کی فوجی طاقت اب الگ الگ حصوں میں کام نہیں کرتی، بلکہ یہ ایک متحدہ، مربوط اور عالمی طاقت کے طور پر ابھری ہے۔
جاری ۔ یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر6 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان5 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
جموں و کشمیر2 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
ہندوستان5 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا6 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا5 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی







































































































