تازہ ترین
دیکھئے:سرینگر کے پانچ مشہور مذہبی سیاحتی مقامات کے بارے میں دلچسپ معلومات

رضوان سلطان:
آج ہم آپ کو سرینگر کے پانچ سیاحتی مذہبی مقامات کی سیر کروائیں گے ۔جو کسی نہ کسی خاص وجہ سے جانے جاتے ہیں ،جنہیں سن کر آپ بھی ان مقامات پر جانے کی خواہش کریں گے ۔
1۔جامعہ مسجد :جمامعہ مسجد سرینگر کے نوہٹہ علاقے مے واقعہ ہے۔یہ 1394میں میر محمد ہمدانی کے حکم پر سلطان سکندر شاہ نے بنوائی تھی ۔یہ ریاست کی سب سے بڑی مسجد مانی جاتی ہے اس میں ایک ساتھ تیس ہزار سے زائد افراد نماز ادا کر سکتے ہیں ۔
مسجد کے صحن میں وضو بنانے کیلئے ایک فوارہ ہے ۔یہ مسجد لگ بھگ 378ستونوں پر کھڑی ہے اور اس کی لمبائی اور چوڑائی 390فٹ ہے۔ اس تاریخی مسجد میں جمعہ کے دن نمازیوں کی خاصی بھیڑ ہوتی ہے ۔
2۔آستان عالیہ درگاہ حضرت بل : یہ درگاہ سرینگر کے حضرت بل علاقے میں واقع ہے ۔مانا جاتا ہے کہ درگاہ میں نبی کریم ﷺ کا موئے مقدس ہے ۔ موئے مقدس کا دیدار مسلمانوں کے بڑے دنوں پر کروایا جاتا ہے ،جن میں بہت دور دور سے عقیدت مند درگاہ میں جمع ہوتے ہیں ۔

3..پتھر والی مسجد : یہ مسجد مغل زمانے کی مسجد ہے ،یہ پتھروں سے بنائی گئی ہے ۔مسجد 1623میں جہانگیر کی بیوی نور جہاں نے بنوائی تھی ۔یہ مسجد چونے کے پتھروں سے بنائی گئی ہے
خاص بات اس مسجد کی یہ ہے نام تو اس کا مسجد ہے لیکن یہ نماز پڑھنے کیلئے استعما ل نہیں کی جاتی ۔
4۔۔ہری پربت :ہری پربت ایک پہاڑی ہے جہاں سے پورے سرینگر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ مقام شارکہ دیوی مندر کے لئے جا نا جاتا ہے ۔ کشمیر کے ہندوؤں کے لئے یہ پہاڑی مقدس مانی جاتی ہے ۔
5 ۔شنکر اچاریہ مندر : یہ مندر سرینگر کے زبرون پہاڑ ی پر واقع ہے ،یہ مندر ایک ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔امرناتھ یاترا کے سیزن میں ہندو لوگ یہاں پر زیاد ہ آتے ہیں ۔
ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح ان پانچ مذہبی مقامات کا نظا رہ کرنے آتے ہیں ۔
ہندوستان
مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر پاکستان کو اہمیت دینا ہندستان کی سفارتی ناکامی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے ثالث کے طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے والے پاکستان کا نام سامنے آنا ہندستان کی سفارتی ناکامی ہے اور اب وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جمعرات کو ایک بیان میں کانگریس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک کو ثالث کے طور پر قبول کرنا انتہائی قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کو فروغ دینے، اسامہ بن لادن جیسے دہشت گردوں کو پناہ دینے، جوہری عدم پھیلاؤ کے قوانین کی خلاف ورزی اور اے کیو خان نیٹ ورک کے ذریعے جوہری پھیلاؤ میں ملوث رہا ہے۔ اس نے افغانستان میں شہری اہداف پر حملے کیے نیز اپنے ہی شہریوں اور اقلیتوں کے خلاف کارروائی کی۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ 2008 کے ممبئی حملے کے بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا تھا، لیکن حالیہ واقعات میں ایسا نہیں ہوسکا۔ عاصم منیر کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر مزید متعلقہ ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا، “ہماری حکومت کی سفارت کاری، عالمی رابطہ اور بیانیہ کے انتظام میں کمزوریوں کی وجہ سے، ایک غیر مستحکم ملک کو ’’بروکر‘‘ کا کردار مل گیا ہے، جو ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
سی آئی کے کی لشکرِ طیبہ سے وابستہ کشمیر میں دس مقامات پر چھاپے ماری
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) نے پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ سے وابستہ ایک دہشت گرد ماڈیول کی تحقیقات کے سلسلے میں وادیِ کشمیر میں دس مقامات پر چھاپے مارے ہیں حکام نے جمعرات کو بتایا کہ سری نگر، شوپیاں اور گاندربل اضلاع میں دس مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ یہ کارروائی سی آئی کے پولیس اسٹیشن میں درج دہشت گردی کے ایک نئے تفتیشی کیس کا حصہ ہے۔ یہ چھاپے ایک عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد مارے گئے۔ آخری اطلاعات تک چھاپے جاری تھے۔
اطلاعات کے مطابق گاندربل ضلع میں چھ مقامات، شوپیاں ضلع میں تین مقامات اور سری نگر ضلع میں ایک مقام پر تلاشی لی گئی۔ ان چھاپوں کا تعلق ایک بین الاقوامی دہشت گردی کے ماڈیول سے ہے، جسے مبینہ طور پر شبیر احمد لون نامی ایک فرد چلاتا ہے۔ یہ شخص لشکر طیبہ کا کارندہ ہے اور اس کا تعلق گاندربل کے کنگن علاقے سے ہے، جو اس وقت بنگلہ دیش میں مقیم ہے۔
حکام نے بتایا کہ ماڈیول مبینہ طور پر بنگلہ دیش اور پاکستان سے کام کرنے والے دہشت گرد تنظیم کے ہینڈلرز سے ہدایات حاصل کر رہا تھا۔ حکام نے بتایا کہ تلاشی کی کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق ثبوت جمع کرنا تھا، جس میں ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر مواد شامل ہیں۔ اس معاملے کی مزید تحقیق جاری ہے۔ٰ
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
دنیا
جرمنی نے امریکا کی ایران جنگ کو تباہ کُن سیاسی غلطی قرار دیا
برلن ، جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے امریکا کی ایران جنگ کو تباہ کُن سیاسی غلطی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا برلن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر نے امریکی صدر ٹرمپ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ جنگ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، اس جنگ کے لیے امریکا کا جواز قابلِ قبول نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا تو یہ غیر ضروری جنگ ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جرمن صدر کو خاموشی توڑ کر ایران کے خلاف غیرقانونی جنگ کی مذمت کرنے پروہ انہيں سراہتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ غزہ اور یوکرین کے معاملے پر مغرب کا معیار دوغلا ہے، مغرب کا یہ دوغلا معیار ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے پر خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے، قانون کے حکمرانی پر یقین رکھنے والوں کو بھی قانون کی پامالیوں پر آواز اٹھانی چاہیے۔
یواین آئی۔ ا م
دنیا3 days agoایران نے امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کی ویڈیو جاری کردی
دنیا7 days agoہمارا صبر لامحدود نہیں، ایران کو نتائج بھگتنا ہوں گے: سعودی عرب
دنیا2 days agoایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 اسٹریٹجک شرائط پیش کردیں
ہندوستان2 days agoہندوستان ہائی الرٹ پر: وزیر دفاع کی قیادت میں مغربی ایشیا کی کشیدگی کے تعلق سے ہنگامی جائزہ
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر میں بین الاقوامی سائبر فراڈ گینگ بے نقاب، 7 گرفتار
دنیا2 days agoٹرمپ آسمان کو دیکھو، نیا سرپرائزآنے والاہے، بہت بڑے نتائج سامنے آئیں گے: ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کی بندش سے نیا معاشی محاذ کھل گیا
دنیا1 week agoامریکہ ایران کی باقی ماندہ قیادت کو بھی ختم کر سکتا ہے: ٹرمپ
دنیا2 days agoامریکہ۔اسرائیل کے علاوہ دیگر ممالک کے جہازوں کو باہر نکلنے کا راستہ دیا جائے گا: پیزیشکیان
دنیا4 days agoقطر میں فوجی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ، ترک فوجی سمیت 6 افراد ہلاک
دنیا2 days agoصدر ٹرمپ کو اچانک ایران سے بات کرنے کا خیال کیسےآیا
جموں و کشمیر1 week agoمیرواعظ نے ایرانی رہنما لاریجانی کے قتل کی مذمت کی







































































































