جموں و کشمیر
سری نگر میں منشیات فروش کی جائیداد منسلک:پولیس

سری نگر،منشیات فروشوں کے خلاف مہم کو جاری رکھتے ہوئے پولیس نے سری نگر میں ایک منشیات فروش کی لاکھوں روپیے مالیت کی جائیداد کو ضبط کیا ہے۔
ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سری نگر میں پولیس نے این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت ایک بدنام زمانہ منشیات فروش کی نورباغ علاقے میں واقع لاکھوں روپیے مالیت کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قانونی کارروائی پولیس اسٹیشن نور باغ میں محمد عرفان شیخ ولد محمد اشرف شیخ ساکن پمپوش کالونی پال پورہ کے خلاف درج ایک ایف آئی آر زیر نمبر 134/2024 کے تحت انجام دی گئی۔
ان کا کہنا تھا: ‘تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آگئی کہ منشیات کی بھاری مقدار پکڑی گئی ہے اور ملزم نے منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم سے مکان اور زمین سمیت کافی جائیداد حاصل کی تھی’۔
پولیس بیان میں کہا گیا کہ متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے لاکھوں روپیے مالیت کی جائیداد (مکان اور زمین) کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت منسلک کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سری نگر پولیس کی طرف سے سخت قانونی کارروائیوں کا ایک سلسلہ منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث تمام افراد کو یہ پیغام دیتا ہے کہ قانون جلد یا بدیر ان کو اپنی گرفت میں لے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس نہ صرف مجرموں کو ان کے جرائم کے لیے نشانہ بناتی ہے بلکہ ان کے غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے اثاثوں کو بھی قانون کے تحت ضبط کرتی ہے۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
منوج سنہا نے نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمے پر زور دیا، مصنفین سے ہندوستان کی عالمی کہانی دوبارہ پیش کرنے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ ’’نوآبادیاتی ذہنیت‘‘ کے باقی ماندہ اثرات کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے اور ہندوستان کی تاریخ اور موجودہ حالات کو عالمی سطح پر مسخ شدہ انداز میں پیش کیے جانے کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنفین اور دانشوروں کا اہم کردار ہے کہ وہ ان کے بقول غلط بیانیوں کی اصلاح کریں اور دنیا کے سامنے ہندوستان کا نقطۂ نظر پیش کریں۔
وہ سری نگر میں کشمیر لٹریچر فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مصنفین پر زور دیا کہ وہ افسانہ، غیر افسانوی ادب اور دیگر تخلیقی ذرائع کے ذریعے مثبت بیانیہ تشکیل دیں اور لوگوں کو متاثر کریں، کیونکہ ’’مصنف کی تخلیق صرف الفاظ میں نہیں بلکہ لوگوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں نوآبادیاتی ذہنیت کے ہر نشان کو مٹانا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بیرونِ ملک لوگ ہماری تاریخ اور حال کو اپنی پسند کے بیانیے کے لیے مسخ نہ کریں۔‘‘ ان کے مطابق، ایسی غلطیوں کی اصلاح کرنا اور حقیقت کو عالمی قارئین تک پہنچانا مصنفین کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں دنیا کو بار بار یاد دلانا ہوگا کہ تقریباً 6,000 سال قبل جب ویدوں کی تدوین ہوئی، اس وقت ہندوستان دنیا کی معیشت، تعلیم، ثقافت اور فلسفے کا مرکز تھا۔ صدیوں تک ہندوستان عالمی تہذیب اور ثقافت کا محرک رہا اور اس نے سائنس، ریاضی، فلکیات اور طب کے میدان میں دنیا کی سماجی و معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔‘‘
منوج سنہا نے کہا کہ تاریخ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ بھارت کا بیانیہ درست انداز میں تشکیل پا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ویدی دور سے ہمارے آبا و اجداد حقائق کو درستگی کے ساتھ محفوظ اور منتقل کرتے رہے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر جدید دور میں بھارت اپنی تاریخ خود لکھنے کی روایت سے دور ہو گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم اپنی قیمتی روایات، ثقافت، علم اور سائنسی ورثے کو دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہے، اسی لیے بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کچھ چیزیں باہر سے آئیں یا حملہ آوروں نے متعارف کرائیں، جبکہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے الزام لگایا کہ بعض غیر ملکی مؤرخین نے جان بوجھ کر بھارت کی قدیم سائنسی دریافتوں، ادبی، فنی اور تعمیراتی کامیابیوں کو نظر انداز کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’جب ہندوستان سائنسی ترقی کی بلندی پر تھا، بہت سے ممالک میں سائنس کا ذکر تک نہیں ملتا۔ فارس اور دیگر خطوں میں سائنس، ریاضی اور فلکیات کے ابتدائی حوالہ جات آٹھویں صدی میں سامنے آئے اور وہ بھی بڑی حد تک ہندوستان کے اثرات کے مرہونِ منت تھے۔ یورپ کی پہلی نشاۃ ثانیہ نے 12ویں صدی میں ہندوستان کے علم، سائنس، ثقافت اور فن کے خزانے سے استفادہ کیا۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
سری نگر جموں و کشمیر حج کمیٹی کے ذریعے حاجیوں کے سامان کے ایک بڑے حصے کو احمد آباد سے سری نگر تک سڑک کے راستے سے لے جانے کے فیصلے پر حاجیوں، ان کے خاندانوں اور سیاسی لیڈروں نے بڑے پیمانے پر تنقید کی ہے۔
نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے میں سامان لے جانے کی حد طے ہونے کی وجہ سے کیے گئے اس فیصلے سے حج سے واپس آرہے بزرگ حاجیوں میں پریشانی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کئی لوگوں کو سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور جلد خراب ہونے والی چیزوں سمیت ذاتی سامان میں تاخیر، نقصان یا خرابی کا ڈر ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے فوری طور پر سرکاری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
سری نگر کے لیے حج پروازوں کی آمد دو جون سے شروع ہونے والی ہے، پہلی پرواز کے دوپہر 12:45 بجے سری نگر انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر اترنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ پروازوں کے اوقات تین اور چار جون کو مقرر ہیں۔ اس سال جموں و کشمیر سے 7,000 سے زیادہ زائرین نے سفر حج کیا۔
جموں و کشمیر حج کمیٹی نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ حاجیوں کی امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس سری نگر کے آگے کے سفر سے پہلے احمد آباد میں ہی مکمل کر لی جائے گی۔
سامان کے ترمیم شدہ انتظام کے تحت، حاجیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف سات کلو گرام تک کا ایک ہینڈ بیگیج لے جائیں، جبکہ سری نگر جانے والی پروازوں میں صرف پانچ کلو گرام کا چیک ان بیگیج ہی لے جانے کی اجازت ہوگی۔ نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے کے وزن کی حدود کی وجہ سے باقی سامان، فی زائر 30 کلو گرام تک، سڑک کے راستے سے الگ سے لے جایا جائے گا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ کسی بھی چیک ان بیگیج کا وزن 22 کلو گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ حاجی سڑک کے راستے سے لائے گئے اپنے سامان کو حج ہاؤس سری نگر پہنچنے پر وہاں سے حاصل کر سکیں گے۔
اس فیصلے سے حاجیوں اور ان کے خاندانوں میں غم و غصہ نظر آ رہا ہے۔ کئی زائرین کو اندیشہ ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور دیگر اشیاء سمیت ان کے سامان میں تاخیرسے خرابی یا نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ ایک مقدس سفر سے لوٹ رہے زائرین کو غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایک بیان میں مسٹر بخاری نے کہا کہ “یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ جموں و کشمیر کے حاجی، جو اپنی مقدس زیارت مکمل کرنے کے بعد گھر آنے کی تیاری کر رہے ہیں، متعلقہ حج حکام اور ایئر لائن حکام کے غیر حساس اور غیر تعاون پر مبنی رویے کی وجہ سے غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے رام بن میں ٹرک کھائی میں گرا، ڈرائیور اور ہیلپر کی موت
جموں جموں و کشمیر کے رام بن ضلع کے رامسو علاقے میں ایک ٹرک کے گہری کھائی میں گر جانے سے ڈرائیور اور اس کے ہیلپر کی موت ہو گئی۔
پولیس کے مطابق، جموں سے سرینگر جا رہا چونا پتھر سے لدا ٹرک رامسو علاقے کے گنگرو کے پاس ڈرائیور سے مبینہ طور پر گاڑی سے کنٹرول کھو دینے کے سبب گہری کھائی میں گر گیا۔ ٹرک کے کھائی میں گرنے سے اس میں آگ لگ گئی۔
پولیس کی ایک ٹیم نے مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں کی مدد سے فوراً بچاؤ مہم شروع کی اور گاڑی کے کیبن میں پھنسے ڈرائیور اور ہیلپر کی لاشیں باہر نکالیں۔ ٹرک میں آگ لگنے سے لاشیں جزوی طور پر جھلسی ہوئی پائی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر7 days agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان6 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے ساتھ چل رہی امن بات چیت کو اور وقت دینے کا فیصلہ کیا
جموں و کشمیر5 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
ہندوستان7 days agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا1 week agoجنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، مزید 10 افراد شہید
دنیا1 week agoچین میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، 90 افراد ہلاک
دنیا1 day agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا2 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
دنیا6 days agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر































































































