ہندوستان
ملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے ہندوستان کی اقتصادی صورتحال کے تعلق سے سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک ایک بڑے معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر عام جنتا پر پڑے گا اتر پردیش دورے کے دوران مسٹر گاندھی نے منگل کو مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں میں ہندوستان کا اقتصادی ڈھانچہ پوری طرح بدل دیا گیا ہے، جس کے سبب ایک بڑا معاشی طوفان آنے والا ہے۔ انہوں نے کہا، “میں گزشتہ کچھ دنوں سے لگاتار کہہ رہا ہوں کہ مودی جی نے ملک کا اقتصادی ڈھانچہ بدل دیا ہے۔ ایک بڑا معاشی بحران آنے والا ہے۔ بدقسمتی سے اس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑے گا۔ اس معاشی جھٹکے کا اثر صرف اڈانی، امبانی اور مودی پر نہیں پڑے گا، بلکہ ہندوستان کے عام لوگوں پر اس کا گہرا اثر پڑے گا۔”
مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت معاشی چیلنجوں کا حل نکالنے کے بجائے لوگوں کو بیرون ملک سفر نہ کرنے کا مشورہ دے رہی ہے، جبکہ وزیر اعظم خود لگاتار غیر ملکی دوروں پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا وقت ہندوستان کے لیے کٹھن ہو سکتا ہے اور حکومت کو وقت رہتے ٹھوس قدم اٹھانے چاہئیں۔
واضح رہے کہ مسٹر گاندھی منگل کو اپنے پارلیمانی حلقے رائے بریلی کے دورے پر ہیں، جہاں وہ کئی پروگراموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے پروگراموں میں بچھراواں اسمبلی حلقہ میں بارات گھر کا افتتاح اور گرام وکاس سمواد، ہرچند پور اسمبلی میں کارکنوں سے خطاب، لال گنج کے سرینی علاقے میں مہیلا سمواد پروگرام اور ویبھو نگر وارڈ نمبر-14 میں سڑک کا افتتاح شامل ہیں۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
پیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
نئی دہلی، کانگریس کے لوک سبھا ایم پی ششی تھرور نے قومی راجدھانی کے جنتر منتر پر امتحان کے نظام میں شفافیت اور پیپر لیک کے خلاف مظاہرہ کر رہے طلبہ کے نام بدھ کو ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے ان کے خدشات کی حمایت کی اور مرکز حکومت سے نوجوانوں کے ساتھ بامعنی بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے مسٹر تھرور نے خط کے ذریعے کہا کہ منصفانہ اور میرٹ پر مبنی امتحان کے نظام ہی متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے خط میں اپنی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں ان کے والد ایک تنخواہ دار ملازم تھے اور ایک ہی آمدنی سے تین بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسکالرشپ، منصفانہ امتحانات اور ایماندارانہ نتائج ہی ان جیسے خاندانوں کے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنے کی بنیاد بنے۔
کانگریس ایم پی نے کہا کہ جب پیپر لیک ہوتے ہیں اور امتحانات منسوخ ہوتے ہیں تو نظام پر سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے، تب سب سے زیادہ نقصان محنت کرنے والے نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو ہوتا ہے، جبکہ خوشحال طبقے کے پاس آگے بڑھنے کے دیگر متبادل موجود ہوتے ہیں۔ جنتر منتر پر مظاہرہ کر رہے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے مسٹر تھرور نے کہا کہ ان کا غصہ کوئی بے راہ روی نہیں بلکہ اس نسل کا درد ہے جس نے پوری ایمانداری سے محنت کی، پھر بھی نظام نے اسے مایوس کیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے امید نہ ہارنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل ان ہی کے ہاتھوں میں ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے سماجی کارکن سونم وانگ چُک سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی گزارش کی۔ مسٹر تھرور نے کہا کہ پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہونے پر طلبہ کے مسائل کو جمہوریت کے سب سے اعلیٰ فورم پر اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے بھی طلبہ کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر کے ان کے مسائل کا حل نکالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہی جمہوری قیادت کی پہچان ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
کانگریس نے اقتصادی ناکامی اور مہنگائی پر مودی سے جواب مانگا
نئی دہلی، کانگریس نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معیشت کی حالت کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ملک اقتصادی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور مسٹر مودی کو 12 سالہ اقتدار کے بعد اس کی جوابدہی لینی چاہیے کانگریس کے کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کو سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا کہ پارٹی گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت کو معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تئیں خبردار کرتی رہی ہے لیکن حکومت نے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں 44 مہینوں کی سب سے زیادہ 9.87 فیصد تھوک مہنگائی درج کی گئی ہے، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں 27.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اس بار کاشتکاری (بوائی) تین سالوں کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے عام لوگ پریشان ہیں، جبکہ کسان حکومت کی غلط پالیسیوں اور ناسازگار موسم کی دوہری مار جھیل رہے ہیں۔ مہنگائی بڑھنے سے صنعتوں کی لاگت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ جب معیشت کے تمام اہم اشاریے ‘ریڈ الرٹ’ کی حالت میں ہیں، تب حکومت حالات کو سنبھالنے کے بجائے صرف سرخیاں بٹورنے میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے بجائے اس کے ہولناک اعداد و شمار کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہول سیل مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک مہنگائی پر وزیر اعظم سے جواب مانگ رہا ہے اور حکومت کو اپنی اقتصادی پالیسیوں کی جوابدہی قبول کرنی چاہیے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی
نئی دہلی، سرکار نے ملک میں موبائل فون کی تیاری کو نئی رفتار دینے، گھریلو ویلیو ایڈیشن بڑھانے، اور ہندستان کو عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر قائم کرنے کے مقصد سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم (ایم پی ایم ایس) کو منظوری دے دی ہے جس پر 62,500 کروڑ روپے کا بجٹی انتظام ہے مرکزی وزیرِ اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے بدھ کو یہ جانکاری دی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم (ایم پی ایم ایس) کو منظوری دے دی ہے۔ 62,500 کروڑ روپے کے بجٹی انتظام والی یہ اسکیم ملک میں موبائل فون کی تیاری کو نئی رفتار دینے، گھریلو ویلیو ایڈیشن بڑھانے، سپلائی چین کو مضبوط کرنے اور ہندستان کو عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر قائم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔ یہ اسکیم مالی سال 27-2026 سے 31-2030 تک پانچ سال کے لیے نافذ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت ہندستان میں تیار کردہ موبائل فون کی اہل فروخت پر 2.25 فیصد سے 5 فیصد تک ترغیبی رقم دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، اہم پرزوں اور سب-اسمبلی کی گھریلو خریداری کو فروغ دینے کے لیے 1.5 فیصد تک اضافی ترغیب ملے گی۔ ہندستانی برانڈز کو تکنیکی طور پر خود کفیل بنانے اور ڈیزائن و ریسرچ کی حوصلہ افزائی کے لیے اہل فروخت پر 3 فیصد اضافی ترغیب کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
سرکار کے مطابق، اسکیم کی مدت میں ملک میں موبائل فون کی پیداوار کی مجموعی مالیت تقریباً 39 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ ساتھ ہی موبائل فون کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور تقریباً 60,000 براہِ راست روزگار پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس سے معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ہندستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ‘میک ان انڈیا’ مہم کے تحت سال 15-2014 کے بعد سے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں سات گنا اور برآمدات میں 11 گنا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ہندستان اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن چکا ہے اور ملک میں استعمال ہونے والے 99.2 فیصد موبائل فون ہندستان ہی میں تیار ہو رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان1 week agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
دنیا1 week agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
دنیا1 week agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا1 week agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا1 week agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
ہندوستان5 days agoمیرٹھ کی دلت طالبہ للیتا گوتم قتل کیس پر کھرگے کا بی جے پی پر شدید حملہ، کہا، حکومت دبا رہی ہے انصاف کی آواز
دنیا5 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا
دنیا6 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
ہندوستان1 week agoیو جی سی- نیٹ پیپر لیک پر گرمائی سیاست، راہل گاندھی نے بنایا مرکزکو نشانہ
ہندوستان5 days agoاتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت سے لوگوں میں ہے مایوسی: کانگریس
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایک بار پھر جنگ میں ایران کو شکست دینے اور امریکی فوج کے طاقتور ترین ہونے کا دعویٰ
جموں و کشمیر6 days agoشوبیاں آپریشن چھٹے روز میں داخل: فورسز کا سرچ آپریشن تیز










































































































