ہندوستان
دہلی میں لگاتار حادثے ہو رہے ہیں لیکن کسی کی جوابدہی نہیں: عآپ
نئی دہلی، عام آدمی پارٹی (عآپ) کے سینئر رہنما سوربھ بھاردواج نے جنوبی دہلی کے مالویہ نگر میں ہوئے بھیانک آتشزدگی کے واقعے پر دہلی حکومت اور انتظامیہ پر سوالات اٹھائے ہیں مسٹر بھاردواج نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مالویہ نگر میں لگی بھیانک آگ میں 20 لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجدھانی میں لگاتار بڑے حادثے ہو رہے ہیں لیکن کسی بھی معاملے میں جوابدہی طے نہیں کی جا رہی۔ عآپ رہنما نے حال ہی میں پیش آنے والے کچھ بڑے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پالم آتشزدگی کے واقعے میں نو لوگوں کی موت ہوئی تھی لیکن تین ماہ بعد بھی ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) کی انکوائری رپورٹ کا انتظار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ویویک بہار آتشزدگی کے واقعے میں نو لوگوں کی جان گئی لیکن اب تک کسی کی جوابدہی طے نہیں ہوئی۔
مسٹر بھاردواج نے ساکیت عمارت گرنے کے واقعے کا بھی ذکر کیا، جس میں چھ لوگوں کی جان گئی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ اس معاملے میں بھی اب تک کسی کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مالویہ نگر میں ایک ریستوراں میں آگ لگ گئی جس میں 20 لوگوں کی موت ہو گئی اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
مظاہرین کےخلاف پولیس کی کارروائی نہ رکی تو دوبارہ مظاہرہ کریں گے: سی جے پی
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے آسام، بہار، مغربی بنگال اور دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں مظاہرین اور طلبہ کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائی پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی اپنی یقین دہانی پر عمل نہیں کیا تو پارٹی دوبارہ تحریک چلانے پر مجبور ہوگی پارٹی کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا نے پیر کو ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزراء جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی نہ کرنے سے متعلق معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
مسٹر رانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، “ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہار اور مغربی بنگال میں سینکڑوں طالب علموں کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں سینکڑوں طالب علموں کی نگرانی کی جا رہی ہے نیز انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ دہلی میں مظاہرین کو لاجسٹک مدد پہنچانے والے لوگوں کو بھی حراست میں لیے جانے کی رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں۔”
مسٹر رانکا نے مطالبہ کیا کہ مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز فوری طور پر واپس لی جائیں، گرفتار طالب علموں کو رہا کیا جائے نیز مستقبل میں دہلی پولیس، مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی پولیس کسی بھی مظاہرین کے خلاف نیا معاملہ درج نہ کرے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قانونی معاملات سے متعلق تحریری معاہدہ حکومت کی طے شدہ وقت کے مطابق منگل تک فراہم کرایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدے کے تحت اگر اس سمت میں کارروائی نہیں ہوئی تو سی جے پی پھر سے دھرنا مظاہرہ شروع کرے گی۔
اس سے پہلے پارٹی کے چیف ترجمان سورَو داس نے بھی بیان جاری کر کے کہا تھا کہ حکومتِ ہند کی یقین دہانی کے بعد ہی سی جے پی نے اپنا ملک گیر مظاہرہ واپس لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی اور این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف تادیبی کارروائی جاری رہتی ہے تو یہ حکومت کے وعدے اور لاکھوں نوجوانوں کے اعتماد کے ساتھ اعتماد شکنی ہوگی۔
مسٹر داس نے کہا کہ سی جے پی نے اپنا ملک گیر مظاہرہ حکومتِ ہند کی اس یقین دہانی کے بعد واپس لیا ہے کہ کسی بھی بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومت والی ریاست میں مظاہرہ کرنےعالے کسی بھی کارکن کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ آسام، مغربی بنگال اور بہار سے مظاہرین کو حراست میں لینے، گرفتار کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کی خبریں شدید تشویش کا باعث ہیں۔
بیان میں کہا گیا، “ہم ہر مظاہرین کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہماری ٹیم ان تمام ریاستوں میں وکلاء کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ حراست میں لیے گئے لوگوں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہر ممکن قانونی امداد دی جا سکے۔ یہ ہم پہلے دن سے کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا، “ہم حکومتِ ہند سے، خصوصاً جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حکومت کی طرف سے دی گئی یقین دہانی کا احترام کریں اور حراست میں لیے گئے تمام لوگوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت دیں کہ ملک میں کسی بھی مظاہرین کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کی جائے۔ مظاہرین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز کو بھی واپس لیا جانا چاہیے۔”
انہوں نے حکومتِ ہند کو یاد دلایا کہ اس سلسلے میں انہیں تحریری ضمانت منگل (28 جولائی) تک فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا جائے۔ پارٹی نے اپنا ملک گیر مظاہرہ حکومت پر بھروسے کی بنیاد پر ہی ختم کیا تھا کہ وہ اپنے وعدے پر کھری اترے گی۔ اس وعدے کو توڑ کر نہ صرف حکومت سی جے پی سے اعتماد شکنی کرے گی، بلکہ ان لاکھوں نوجوانوں کے بھروسے کو بھی توڑے گی جنہوں نے مظاہرے کے بجائے بات چیت کا راستہ چنا۔
بیان میں کہا گیا، “اس طرح کی اعتماد شکنی نوجوانوں کو قطعی ناقابل قبول ہے۔ حکومتِ ہند کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اس کی ساکھ صرف وعدہ کرنے سے نہیں، بلکہ اس وعدے کو پورا کرنے سے ہے۔”
بیان میں نوجوان مظاہرین کو یقین دلایا گیا کہ وہ ڈٹے رہیں اور سی جے پی ان کے ساتھ ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ مسلسل صورتحال پر نظر بنائے ہوئے ہے اور حکومت نیز بی جے پی-این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں میں حکومت سے انتہائی مستعدی، ذمہ داری اور نیک نیتی سے کام کرنے کی امید رکھتی ہے۔
بیان میں کہا گیا، “ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام حراست میں لیے گئے یا گرفتار لوگوں کو فوراً، اور ہر حال میں کل تک رہا کیا جائے اور تمام ایف آئی آرز فوراً واپس لی جائیں۔ ایسا نہ ہونے پر ہم آگے ضروری قدم اٹھائیں گے۔”
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
سو سال بعد بھی اہمیت کا حامل ہے گاندھی کا ستیہ گرہ: سونم وانگچک
نئی دہلی، ماحولیاتی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے پیر کو کہا کہ ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کا عدمِ تشدد اور امن کا راستہ 100 سال بعد بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور آنے والے ہزاروں سال تک رہے گا۔
مسٹر وانگچک نے پیر کو یہاں راج گھاٹ پر گاندھی جی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے کہا، “میں سب سے پہلے باپو کو یاد کرنے راج گھاٹ آنا اور ملک کو بتانا چاہتا تھا کہ ان کا بتایا ہوا راستہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا 100 سال پہلے تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایسی حکومت کے ساتھ یہ طریقے نہیں چلتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ طریقہ حاکم سے زیادہ عوام کے دل تک پیغام پہنچاتا ہے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ مسٹر وانگچک نے نیٹ پیپر لیک نیز اس کے بعد 22 امیدواروں کی خودکشی پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 28 جون سے یہاں جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ کچھ دنوں کے بعد پولیس نے مسٹر وانگچک کو وہاں سے ہٹا کر اسپتال میں داخل کرا دیا تھا۔ حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات پر کچھ یقین دہانی کرائے جانے کے بعد انہوں نے 26 دن کی بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔
مسٹر وانگچک نے کہا، “کوئی بھی حاکم ہو، وہ عوام کی سنتا ہے، چاہے میری نہ سنے۔ میں نے گاندھی جی کے تجربے کو ایک بار پھر کامیاب ہوتے دیکھا۔ اس سے پہلے لداخ میں ہم گاندھی جی کے اس تجربے کا استعمال کرتے آئے ہیں اور اسے بہت اہم دیکھا، لیکن قومی سطح پر بھی یہ اس قدر اہم ہوگا، یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔ آج مجھے تسلی ہوئی کہ 100 سال بعد بھی یہ اتنا ہی اہم ہے۔”
انہوں نے کہا، “میں ہندوستان اور دنیا کی عوام سے یہی کہوں گا کہ وہ باپو کے دکھائے ہوئے امن کے راستے پر ہی چلیں۔ اس راستے پر چلتے ہوئے اگر خود کو تکلیف دیں، اور دوسرے کو تکلیف نہ دیں تو یہ کسی بھی سخت سے سخت دل کو پگھلا سکتا ہے۔ میں اس ملک کی نوجوان نسل کو، تمام عام شہریوں کو اور اس تحریک کو پرامن طریقے سے آگے بڑھانے والے لوگوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کچھ کامیابی حاصل ہوئی ہے تو یہ ہمارے بازوؤں کی طاقت سے نہیں، بلکہ امن کی اپیل سے ہوئی ہے۔”
وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سے متعلق سوال پر مسٹر وانگچک نے کہا کہ انہیں اس کے بعد نظام میں اصلاح ہونے کی امید ہے، ورنہ استعفے کا کوئی مطلب نہیں۔ بھول ہونے کے بعد اگر بیماری کا علاج ہو تو ہمارا ملک ایک بہتر ملک بنے گا۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
پرچہ لیک کے خلاف سخت دفعات پر مشتمل ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش
نئی دہلی، حکومت نے امتحانات میں پرچہ لیک اور منظم امتحانی دھاندلی پر سخت گرفت کے مقصد سے پیر کے روز لوک سبھا میں “لوک پریکشا (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026” پیش کیا سائنس و ٹیکنالوجی اور عملہ کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ بل میں قصورواروں کے لیے 10 سال تک قید، 10 کروڑ روپے تک جرمانہ، جائیداد کی ضبطی، خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں، مقررہ مدت میں تفتیش اور سماعت سمیت کئی سخت نئی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف امتحانات میں پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں نے امتحانی نظام کی شفافیت، غیر جانبداری اور ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان واقعات کی روک تھام اور قصورواروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے قانون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ یہ بل “لوک پریکشا (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024” میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔
ترمیمی بل کے تحت تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس قانون کے تحت جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے اور انہیں نوٹیفائی کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ ان عدالتوں میں مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی اور چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر مقدمات کا فیصلہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہائی کورٹ میں دائر اپیلوں کا بھی تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔
بل کے مطابق مرکزی حکومت کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹاسک فورس (اسپیشل ٹاسک فورس) تشکیل دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ قانون کے تحت درج مقدمات کی تفتیش دو ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے ایک یا ایک سے زائد خصوصی سرکاری وکلاء (اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز) مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔
بل میں منظم طریقے سے پرچہ لیک کرنے، امتحانات میں غیر قانونی ذرائع استعمال کرانے یا ایسے جرائم میں ملوث افراد کے لیے سزا میں اضافہ کرتے ہوئے دو سال سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے سے 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کو بھارتیہ نیائے سنہتہ کی متعلقہ دفعات کے تحت اضافی سزا سنانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
بل کی دفعات کے مطابق اگر کوئی سروس فراہم کرنے والا ادارہ، ایجنسی یا کمپنی اس نوعیت کے جرم میں ملوث پائی جاتی ہے تو اس پر ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحان کے انعقاد پر آنے والی اصل لاگت بھی متعلقہ ادارے سے وصول کی جائے گی اور اسے چار سال تک کسی بھی امتحانی عمل سے متعلق کام انجام دینے سے محروم رکھا جا سکے گا۔
اگر کسی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹر، اعلیٰ انتظامیہ، افسران، ملازمین یا دیگر ذمہ دار افراد جرم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو انہیں بھی دو سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔
بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کوئی امتحانی اتھارٹی، اس سے وابستہ ادارہ یا کوئی منظم گروہ اس جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف پانچ سے 10 سال تک قید اور کم از کم ایک کروڑ روپے جرمانے جیسی سخت کارروائی کی جا سکے گی۔
ترمیمی بل کے تحت جرم سے حاصل کی گئی جائیداد ضبط کرنے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد عوامی امتحانی نظام میں شفافیت، غیر جانبداری اور اعتماد کو مزید مضبوط بنانا، نوجوانوں کا امتحانی نظام پر بھروسہ بڑھانا اور پرچہ لیک و منظم امتحانی مافیا کے خلاف مؤثر اور مقررہ مدت میں کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا6 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
دنیا5 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
جموں و کشمیر6 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان4 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل










































































































