دنیا
ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی روسی حمایت، یورینیم کی منتقلی کے لیے ولادیمیر پوتن کی پیشکش، امریکی مؤقف پر تنقید
ماسکو، روس نے ایک بار پھر ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی کھل کر حمایت کر دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) کے تحت ایران کو پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا پورا حق حاصل ہے۔ سرگئی لاوروف نے زور دے کر کہا کہ تہران کو وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں جو این پی ٹی معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک کو حاصل ہیں، اور عالمی برادری کی جانب سے ایران سے کوئی بھی اضافی یا غیر قانونی مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ہی روس نے ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کو اپنے ہاں منتقل کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کی باقاعدہ پیشکش بھی کی تھی۔ ماسکو میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس نے سال 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے کے دوران بھی ایران سے افزودہ یورینیم کامیابی سے منتقل کیا تھا، اور اب وہ موجودہ بحران کے حل کے لیے اسی تجربے کو دوبارہ دہرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران تنازع جلد ختم نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں تمام فریقین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تنازع کے تمام فریقین اصولی طور پر یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرنے پر متفق ہو چکے تھے، لیکن پھر اچانک امریکہ نے اپنی پوزیشن سخت کر دی اور اس افزودہ یورینیم کو براہِ راست امریکی سرزمین تک پہنچانے کا سخت مطالبہ داغ دیا، جس کے ردِعمل میں ایرانی مؤقف بھی مزید سخت ہو گیا۔
پوتن کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ تنازع ہے جو اس وقت روس کو بھی ایک مشکل صورتِ حال میں ڈال رہا ہے، کیونکہ ایک طرف ایران تو دوسری طرف خلیجِ فارس کے عرب ممالک سے روس کے یکساں برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں۔
روسی صدر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میری رائے میں کوئی بھی فریق اس عسکری و سفارتی تنازع کو طویل عرصے تک جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، اس لیے توقع ہے کہ ایران تنازع جلد کسی منطقی انجام تک پہنچ کر ختم ہو جائے گا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
امریکہ کے 4 کروڑ سے زائد شہری فوڈ اسٹیمپس پر گزارا کر رہے ہیں: قالیباف
تہران، بھوکا ملک ایران ہے یا امریکہ؟ باقر قالیباف نے 4 کروڑ امریکیوں کے ’فوڈ اسٹیمپس‘ پر ہونے کا جوابی طعنہ دے دیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کی غذائی صورت حال سے متعلق دیے گئے حالیہ بیان پر جمعرات کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ آپ کے اپنے ملک کے 4 کروڑ سے زائد شہری فوڈ اسٹیمپس پر گزارا کر رہے ہیں اور آپ کسی دوسرے ملک کو بھوکا قرار دے رہے ہیں۔
انھوں نے لکھا ’’ذرا تصور کریں کہ آپ کے اپنے ملک کے چار کروڑ سے زائد شہری فوڈ اسٹیمپس پر گزارا کر رہے ہوں، اور آپ کسی دوسرے ملک کو بھوکا قرار دے رہے ہوں۔‘‘
قالیباف نے کہا ٹرمپ کا بیان حقیقت پر مبنی اعلان نہیں، بلکہ اپنی ہی صورت حال کا عکس ہے، اپنی اسنیپ اسکیم کے مشورے اپنے پاس رکھیں۔ انھوں نے کہا ہمارے وسائل ہمارے اپنے ہیں، ہمارے فیصلے بھی ہمارے اپنے ہیں، بہتر ہوگا کہ آپ اپنے ملک میں غذائی قلت کی شرح پر توجہ دیں۔
قالیباف کا یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران 300 فی صد مہنگائی کا شکار ہے اور کوئی آمدنی نہیں کما رہا، ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ اگر جاری سفارتی مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو امریکا مستقبل میں ایران کو غذائی اجناس فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔
ٹرمپ نے کہا تھا انھیں خوراک کی ضرورت ہے، انھیں مکئی، گندم اور سویابین چاہیے، اور ہم یہ سب صرف اپنے امریکی کسانوں کے ذریعے فراہم کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز غیرعلاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں، ایران نے خبردار کردیا
تہران، ایران نے ایران نے غیر ملکی فورسز کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی نقل و حرکت سے خبردار کردیا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز غیرعلاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں ہے، آبنائےہرمزکی سلامتی کا ضامن ہونے کے ناطے آبی گزرگاہ میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ساحلی ریاستوں کی ذمہ داری ہے، بحران پیدا کرنے والے اپنی مہم جوئی کے نتائج کے ذمہ دارخود ہوں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شہید رہبرِ اعلیٰ کا آخری دیدار! تہران میں گرینڈ مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے
تہران، شہید رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت تین روزکے لیے عوام دیدار کے لیے رکھ دی گئی ، گرینڈ مصلیٰ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو الوداع کہنے کے لیے عوام کا سمندر اُمڈ آیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے آخری رسومات اور الوداعی مراسم کا آغاز ہو گیا، جس میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ شخصیات اور سوگواروں کا تہران میں جمِ غفیر جمع ہے۔
شہید رہبرِ اعلیٰ کو الوداع کہنے کے لیے تہران کی سڑکوں پر عوام کا سمندر امڈ آیا اور فضا انتقام اور امریکہ مخالف نعروں سے گونج اٹھی۔
شہید سپریم لیڈر اور ان کے اہل خانہ کے اجسادِ خاکی آخری دیدار کے لیے تہران کے ‘مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس’ (گرینڈ مصلیٰ) میں رکھ دیے گئے ہیں۔
گرینڈ مصلیٰ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں، جہاں لاکھوں سوگوار شدید غم و اندوہ کی حالت میں اپنے قائد کا آخری دیدار کر رہے ہیں۔ عوام آج اور کل رات 8 بجے تک شہید رہبر کا آخری دیدار کر سکیں گے۔
جمعے کے روز ہونے والی تعزیتی تقریب میں دنیا بھر کے قائدین اور وفود نے شرکت کی اور شہید خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا، تعزیتی اجتماعات میں تقریباً 100 سے زائد ممالک کے مہمان شریک ہو رہے ہیں۔جن میں پاکستان، ترکیہ، قطر، اور سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے قائدین شخصیات اور وفود شامل تھے جبکہ حزب اللہ کے شہید رہنماؤں کے ورثاء بھی خصوصی طور پر دعائیہ تقریب میں شریک ہوئے۔
دوسری جانب شہید سپریم لیڈر کے آخری سفر اور تدفین کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت تہران میں مرکزی نمازِ جنازہ کا سب سے بڑا اجتماع کل صبح منعقد کیا جائے گا۔
6 جولائی کو تہران میں مقامی وقت کے مطابق صبح 6:00 بجے جنازے کا باقاعدہ جلوس شروع ہوگا اور 7 جولائی کو جنازے کا جلوس تہران سے ایران کے مقدّس شہر قُم منتقل کیا جائے گا۔
8 جولائی کو تدفین سے قبل جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جہاں عراق میں جنازے کے جلوس نکلیں گے اور 9 جولائی کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایران میں اس وقت شدید سوگ کا سماں ہے اور تمام سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین اور مہمانوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
یو این آئی۔ ع اْ
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
جموں و کشمیر1 week agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا4 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
ہندوستان1 week agoپاسپورٹ فیس میں اضافے پر کانگریس کی مرکز پر تنقید ، سرجیوالا نےکہا ’مہنگائی کی نئی قسط‘
ہندوستان1 week agoسرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے

































































































