ہندوستان
مرکزی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ہم وطنوں کو دھیما زہر دے رہی ہے : کیجریوال
نئی دہلی، 2 عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے گزشتہ 10-15 دنوں میں تیسری بار پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھانے پر مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ہم وطنوں کو دھیما زہر دے رہی ہے۔
مسٹر کیجریوال نے ‘ایکس’ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا، “آج پھر سے حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ گزشتہ 10-15 دنوں میں تیسری بار قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ گزشتہ 10-15 دن میں پیٹرول اور ڈیزل کے دام تقریباً 4 سے 5 روپے فی لیٹر بڑھ گئے ہیں۔ گیس سلنڈر کے دام بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ لوگوں کے لیے گھر چلانا مشکل ہو رہا ہے۔
لوگ اس قدر ڈرے اور صدمے میں ہیں کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ حکومت آنے والے دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اور کتنا بڑھانے والی ہے؟ چاروں طرف افواہیں چل رہی ہیں کہ ابھی تو بہت بڑھے گا، پیٹرول 150 روپے تک جائے گا، پتا نہیں کتنا جائے گا؟ حکومت سے پوچھو تو حکومت کچھ نہیں بتا رہی۔” انہوں نے کہا کہ ملک میں نہ صرف دام بڑھ رہے ہیں، بلکہ ملک بھر میں پیٹرول، گیس اور ڈیزل کی قلت ہو گئی ہے۔ گجرات سے ایسی تصویریں آ رہی ہیں کہ کس طرح سے پیٹرول پمپس پر ٹریکٹروں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں، ڈیزل نہیں مل رہا ہے۔ کس طرح سے جگہ جگہ لوگوں کے درمیان ہاتھا پائی مچی ہوئی ہے۔ اتر پردیش کے گورکھپور میں لوگ رات کو سڑک پر سو رہے ہیں۔ اپنا گیس سلنڈر بھروانے کے لیے لائنیں لگا لگا کر، مچھردانی لگا کر سڑک پر رات رات بھر سو رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے اکولا اور بلڈھانہ میں پیٹرول اور ڈیزل لینے کے لیے ہاہاکار مچا ہوا ہے۔ ملک کے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت بتائے تو سہی کہ آنے والے دنوں کے اندر کیا ہونے والا ہے، صورتحال کتنی خراب ہونے والی ہے؟ لیکن حکومت لوگوں کو کچھ بتا ہی نہیں رہی ہے۔
عآپ رہنما نے کہا، “روس اور ایران دونوں کہہ رہے ہیں کہ ہم ہندوستان کو سستے داموں پر تیل اور گیس دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن ہندوستان حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم نہیں لیں گے۔ کیوں نہیں لیں گے؟ میں ہم وطنوں سے جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ہندوستان حکومت کو روس اور ایران سے سستے داموں پر تیل اور گیس لینی چاہیے یا نہیں لینی چاہیے؟ یہ ملک ہمارا ہے، ان رہنماؤں کا نہیں ہے، کسی پارٹی کا نہیں ہے۔ ہم 140 کروڑ لوگوں کا ملک ہیں۔ مل کر آواز اٹھائیں گے تو حکومت کو اس ملک کے لوگوں کی سننی پڑے گی۔”
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
ممتاز مورخ پروفیسر ظہیر حسین جعفری نہیں رہے
نئی دہلی، علمی وادبی حلقوں میں یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ سنی جائے گی کہ ممتاز مورخ پروفیسر ظہیر حسین جعفری انتقال کرگئے وہ تقریباً دو برس سے بستر علالت پر تھے یہ اطلاع معروف صحافی اور ادیب معصوم مرادآبادی نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں دی انھوں نے کہا کہ پروفیسر جعفری دہلی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سابق استاد تھے اور ان کا شمار نہایت لائق اساتذہ میں ہوتا تھا ۔ ان کے بڑے بھائی پروفیسر نقی حسین جعفری مرحوم کا تعلق جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انگریزی شعبے سے تھا اور وہ اساتذہ کی کل ہند تنظیم کے عہدے دار تھے۔
معصوم مرادآبادی نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فیض یافتہ پروفیسر جعفری ایک ممتاز محقق، نہایت شائستہ و باوقار شخصیت اور علم و فضل کے پیکر تھے۔ ان کا انتقال دہلی میں ہوا، اور ان کی میت تدفین کے لیے ان کے آبائی شہر سلون، ضلع رائے بریلی (یوپی) لے جائی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ سلون کی معروف خانقاہ سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی علمی خدمات، انکساری اور خوش اخلاقی کے باعث ہر خاص و عام میں عزت، احترام اور محبت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کا انتقال علیگ برادری اور علمی دنیا کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ وہ ہمیشہ محبت و احترام کے ساتھ یاد کیے جائیں گے اور ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔ ہم ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، احباب، شاگردوں اور بے شمار عقیدت مندوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
ہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
نئی دہلی، ہندستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کے طور پر اپنی امیدواری پیش کرتے ہوئے محفوظ، مستحکم اور خوشحال دنیا کے تئیں عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کی مضبوط آواز اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے جڑے مسائل میں ان ملکوں کے خدشات کو مناسب جگہ دینا اس کی ترجیح ہوگی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کی صبح نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سلامتی کونسل میں سال 29-2028 کی مدت کے لیے ہندستان کی انتخابی مہم کا باضابطہ طور پر آغاز کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے ہندستان کے ‘شانتی’ نقطہ نظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اصولوں، اعتماد اور دیانت داری کے ذریعے دنیا میں ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
مسٹر جے شنکر نے سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا کہ انہوں نے ہندستان کی دعویداری کو مضبوط طریقے سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں کی آواز کو بااختیار بنانا اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے جڑے مسائل میں ان کے خدشات کو مناسب جگہ دینا بھارت کی ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں کو ہمارے مشترکہ مستقبل کے تعین میں زیادہ اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہندستان کی ترجیحات میں اصلاحات پر مبنی کثیر فریقی نظام کو آگے بڑھانا بھی شامل رہے گا تاکہ وہ زیادہ جمہوری، نمائندہ اور مؤثر بن سکے۔ ہندستان کا نقطہ نظر بات چیت، تعاون اور اختلافات کو دور کرنے پر مبنی رہے گا۔ ہندستان مستقبل کے مطابق امن کے قیام کے نظام کو زیادہ قابل، ٹیکنالوجی سے لیس، حقیقت پسندانہ ذمہ داریوں والا اور اپنے بنیادی مقاصد پر مرکوز بنانے کی سمت میں کام کرے گا۔ خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کی رہنمائی میں ہم ہمیشہ خواتین امن فوجیوں کے کردار کی حمایت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے شمولیت، سلامتی اور عوامی مفاد پر مبنی انسان دوست نقطہ نظر کو فروغ دیا جائے گا۔ ساتھ ہی، اس کے غلط استعمال اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے بھی ہم یکساں طور پر پرعزم ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی قانون، خاص طور پر سمندر کے قانون پر اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق آزاد، کھلے اور ضابطہ پر مبنی سمندری نظام کو فروغ دینا ہندستان کا مقصد ہے۔ سمندری تجارت کے محفوظ اور بلا رکاوٹ تسلسل کو برقرار رکھنا، بحری قزاقی کا مقابلہ کرنا، جہاز رانوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہماری ترجیح ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہندستان کا مؤثر اور مسلسل کوششوں کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے پر زور رہے گا۔ دہشت گرد تنظیموں کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے ٹھوس اور شواہد پر مبنی تجاویز پر مشتمل شفاف پابندیوں کا نظام وقت کی ضرورت ہے۔ مسٹر جے شنکر نے زور دے کر کہا کہ اصلاحات پر مبنی، مناسب نمائندگی والی اور نتائج پر مبنی سلامتی کونسل میں ترقی پذیر ملکوں کی مضبوط آواز کا ہونا لازمی ہے۔
مسٹر جے شنکر نے ارکان سے اپیل کی کہ وہ ہندستان کی ترجیحات کی بنیاد پر خود اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال دنیا کے تئیں ہندستان کے عزم کا معیار کتنا بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کو وسیع مشاورت اور مختلف مفادات کے تال میل کے ذریعے بہترین طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ” ہمارا یقین ہے کہ سلامتی کونسل میں ہندستان کی موجودگی اس اہم ادارے میں فیصلہ سازی کو مضبوط کرنے میں مدد کرے گی۔ اس لیے ہم اپنی امیدواری کے لیے آپ کے تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
خردہ مہنگائی 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر، کانگریس نے مرکزی حکومت پر عوام پر بوجھ بڑھانے کا لگایا الزام
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ خردہ مہنگائی 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور الزام لگایا کہ مرکز کی مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے عام عوام پر مہنگائی کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے کانگریس جنرل سکریٹری اور شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کو جون کے مہینے میں خردہ مہنگائی کے 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے تعلق سے مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے 12 برسوں کا نچوڑ جھوٹے وعدوں، بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون میں خردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 4.38 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ 4.74 فیصد درج کی گئی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عام خاندانوں کا گھریلو بجٹ پوری طرح بگاڑ دیا ہے اور لوگوں کے لیے روزمرہ کی ضرورتوں کے اخراجات پورا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی بڑھنے کے ساتھ بینکوں کی سود کی شرحوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو گھر اور گاڑی کا قرض لینے والے متوسط طبقے کے لوگوں پر ای ایم آئی کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا فائدہ صرف بڑے سرمایہ داروں کو مل رہا ہے، جبکہ عام عوام مہنگائی اور بڑھتے ہوئے معاشی چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ منافع سرمایہ داروں کی جیب میں جا رہا ہے اور بوجھ عام عوام کے کاندھوں پر آرہاہے۔ مسٹر رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مہنگائی کے معاملے پر جواب دینے اور عام لوگوں کی پریشانیوں کا حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا1 week agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
دنیا4 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا
دنیا5 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
ہندوستان6 days agoیو جی سی- نیٹ پیپر لیک پر گرمائی سیاست، راہل گاندھی نے بنایا مرکزکو نشانہ





































































































