تازہ ترین
دبئی ایکسپورٹ گھوٹالے میں دو مفرور ملزموں کے خلاف چارج شیت داخل: سی بی کے

سری نگر، کرائم براںچ کشمیر (سی بی کے) کی اقتصادی جرائم ونگ نے دبئی ایکسپپورٹ گھوٹالے میں دو مفرور ملزموں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔
ونگ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کرائم برانچ نے آر پی سی کے 420 اور 120 (بی) کے تحت درج ایف آئی آر نمبر31/2023 میں دو ملزموں جن میں ایک عادی ملزم زاہد بشیر صوفی عرف شاگو ولد بشیر احمد صوفی ساکن اندرابی کالونی نارہ بل شامل ہے کے خلاف سری نگر کی ایک عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ دونوں ملزم بدستور مفرور ہیں لہذا چارج شیٹ سیکشن 512 سی آر پی سی کے تحت غیر حاضری میں پیش کی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘زاہد بشیر شاگو اور ان کی اہلیہ شگفتہ پہلے ہی فراڈ کے متعدد مقدمات میں ملوث پائے گئے ہیں، جن میں کیس ایف آئی آر نمبر 21/2022 اور کیس ایف آئی آر نمبر 13/2018 شامل ہیں، دونوں گیس ایجنسیوں کی فراہمی کے بہانے مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے رقم نکالنے سے متعلق ہیں’۔
بیان میں کہا گیا کہ گرفتاری سے بچنے کے بعد سیکشن 512 سی آر پی سی کے تحت غیر حاضری میں ان مقدمات میں چارج شیٹ بھی مجاز عدالتوں میں داخل کی گئی ہیں۔
ونگ کے نوٹ کیا کہ شاگو کا بڑے پیمانے کے فراڈ کے مقدمات میں بار بار ملوث ہونا مبینہ مجرمانہ طرز عمل کے مستقل نمونے کی عکاسی کرتا ہے جس کے نتیجے میں متاثرین کو کافی مالی نقصان ہوتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس کی مسلسل چوری ایک سنگین تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
بیان کے مطابق کیس ایف آئی آرنمبر 31/2023 میں، یہ معاملہ ایک تحریری شکایت سے شروع ہوا جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ زاہد بشیر صوفی عرف شاگو نے دھوکے سے شکایت کنندہ کو مٹن، چاول اور دبئی کے لیے مقرر کردہ دیگر سامان کے برآمدی کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ شاگو نے مبینہ طور پر شریک ملزم جاوید احمد شاہ کے ساتھ ملی بھگت سے ایک منصوبہ بند اسکیم کو انجام دیا جس میں شکایت کنندہ کو “مہابیر رائس مل”، مہابیر سالوینٹ، رائس مارکیٹ جی ٹی روڈ کرنال کے ساتھ ایک جعلی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پنجاب لے جانا اور اس کے بعد مبینہ طور پر جھوٹی ساکھ پیدا کرنے کے لیے اسے دبئی لے جانا شامل تھا’۔
موصوف ترجمان نے کہا: ‘ ان غلط بیانیوں کی بنیاد پر، شکایت کنندہ نے 34 لاکھ 74 ہزار 6 سو روپیوں کی سرمایہ کاری کی، جو کہ تحقیقات کے مطابق غلط استعمال کی گئی۔ تحقیقات میں جعلی دستاویزات، من گھڑت معاہدوں، اور جان بوجھ کر لالچ کا استعمال ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں آر ی سی کے سیکشن 420 اور 120- بی کے تحت قابل سزا جرائم کا قیام عمل میں آیا۔ اسی مناسبت سے چارج شیٹ عدالتی فیصلہ کے لیے معزز عدالت میں پیش کر دی گئی ہے’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزم زاہد بشیر شاگو کے ٹھکانے کے بارے میں اگر کسی کے پاس کوئی معلومات ہیں تو ان سے درخواست ہے کہ وہ تفتیشی ایجنسی کے ساتھ شیئر کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایم افضل
دنیا
ایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
تہران، ایران نے چین اور روس کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان کردیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روسی، چینی جہازوں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی تعاون جاری رکھے گا۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ موجودہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کی منتقلی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا ہے۔
علاوہ ازیں پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے 20 بحری جہازوں کے گزرنے میں تعاون کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، مذاکرات کے اس مرحلے پر جنگ ختم کرنے پر توجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ایٹمی معاملے کی تفصیلات کے بارے میں وہ بات نہیں کریں گے، امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ہم نے 47 سال پہلے حکم کی زبان کو الوداع کہہ دیا تھا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جیسا غیرقانونی کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
منوج سنہا نے نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمے پر زور دیا، مصنفین سے ہندوستان کی عالمی کہانی دوبارہ پیش کرنے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ ’’نوآبادیاتی ذہنیت‘‘ کے باقی ماندہ اثرات کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے اور ہندوستان کی تاریخ اور موجودہ حالات کو عالمی سطح پر مسخ شدہ انداز میں پیش کیے جانے کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنفین اور دانشوروں کا اہم کردار ہے کہ وہ ان کے بقول غلط بیانیوں کی اصلاح کریں اور دنیا کے سامنے ہندوستان کا نقطۂ نظر پیش کریں۔
وہ سری نگر میں کشمیر لٹریچر فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مصنفین پر زور دیا کہ وہ افسانہ، غیر افسانوی ادب اور دیگر تخلیقی ذرائع کے ذریعے مثبت بیانیہ تشکیل دیں اور لوگوں کو متاثر کریں، کیونکہ ’’مصنف کی تخلیق صرف الفاظ میں نہیں بلکہ لوگوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں نوآبادیاتی ذہنیت کے ہر نشان کو مٹانا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بیرونِ ملک لوگ ہماری تاریخ اور حال کو اپنی پسند کے بیانیے کے لیے مسخ نہ کریں۔‘‘ ان کے مطابق، ایسی غلطیوں کی اصلاح کرنا اور حقیقت کو عالمی قارئین تک پہنچانا مصنفین کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں دنیا کو بار بار یاد دلانا ہوگا کہ تقریباً 6,000 سال قبل جب ویدوں کی تدوین ہوئی، اس وقت ہندوستان دنیا کی معیشت، تعلیم، ثقافت اور فلسفے کا مرکز تھا۔ صدیوں تک ہندوستان عالمی تہذیب اور ثقافت کا محرک رہا اور اس نے سائنس، ریاضی، فلکیات اور طب کے میدان میں دنیا کی سماجی و معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔‘‘
منوج سنہا نے کہا کہ تاریخ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ بھارت کا بیانیہ درست انداز میں تشکیل پا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ویدی دور سے ہمارے آبا و اجداد حقائق کو درستگی کے ساتھ محفوظ اور منتقل کرتے رہے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر جدید دور میں بھارت اپنی تاریخ خود لکھنے کی روایت سے دور ہو گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم اپنی قیمتی روایات، ثقافت، علم اور سائنسی ورثے کو دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہے، اسی لیے بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کچھ چیزیں باہر سے آئیں یا حملہ آوروں نے متعارف کرائیں، جبکہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے الزام لگایا کہ بعض غیر ملکی مؤرخین نے جان بوجھ کر بھارت کی قدیم سائنسی دریافتوں، ادبی، فنی اور تعمیراتی کامیابیوں کو نظر انداز کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’جب ہندوستان سائنسی ترقی کی بلندی پر تھا، بہت سے ممالک میں سائنس کا ذکر تک نہیں ملتا۔ فارس اور دیگر خطوں میں سائنس، ریاضی اور فلکیات کے ابتدائی حوالہ جات آٹھویں صدی میں سامنے آئے اور وہ بھی بڑی حد تک ہندوستان کے اثرات کے مرہونِ منت تھے۔ یورپ کی پہلی نشاۃ ثانیہ نے 12ویں صدی میں ہندوستان کے علم، سائنس، ثقافت اور فن کے خزانے سے استفادہ کیا۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
ٹرمپ کو اپنا نام کینیڈی سینٹر کے نام میں شامل کروانے کے فیصلے پر سبکی، عدالت کا نام ہٹانے کا حکم
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا نام کینیڈی سینٹر کے نام میں شامل کروانے کے فیصلے پر سبکی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی عدالت نے کینیڈی سینٹر سے صدر ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم دے دیا۔ امریکی صدر نے گزشتہ برس جان ایف کینیڈی سینٹر کے نام میں اپنا نام شامل کردیا تھا، جج نے کہا کانگریس کی منظوری کے بغیر واشنگٹن ڈی سی میں کسی مقام کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے صدر ٹرمپ کا تزئین و آرائش کے دوران مرکز دو سال کے لیے بند کرنے کا حکم بھی معطل کردیا۔ کینیڈی سینٹر برائے پرفارمنگ آرٹس کے ترجمان نے عدالتی حکم کے خلاف اپیل کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ناکام کینیڈی سینٹر کی ان کے پاس واپسی کے لیے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کریں گے، صدر ٹرمپ نے فروری 2025 میں کینیڈی سینٹر بورڈ میں کئی ٹرسٹیز تبدیل کرکے چیئرمین کے انتخاب سے قبل خود کو بطور ٹرسٹی مقرر کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
جموں و کشمیر5 days agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا1 week agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoحزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف امریکی کارروائی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول ٹیکس: جہازوں کے گزرنے کیلئے فیس
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے ساتھ چل رہی امن بات چیت کو اور وقت دینے کا فیصلہ کیا
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
ہندوستان5 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا































































































