دنیا
برطانیہ اور چین کے طبی ماہرین خالدہ ضیاء کے علاج کے لیے ڈھاکہ آئیں گے

ڈھاکہ، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے علاج میں مدد کے لیے دو غیر ملکی ماہرین کی طبی ٹیم بدھ کے روز ڈھاکہ پہنچے گی۔ محترمہ خالدہ ضیاء ایور کیئر اسپتال کی انتہائی نگہداشت کی یونٹ میں ہیں۔
بی این پی میڈیا سیل کے مطابق برطانیہ سے ماہرین کی ایک ٹیم آج صبح ڈھاکہ پہنچے گی جس کے بعد چین کا طبی وفد آج شام کو ڈھاکہ پہنچے گا۔ دونوں ٹیمیں سابق وزیراعظم کے موجودہ میڈیکل بورڈ کے ساتھ رابطہ کریں گی۔
بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے رکن اور خالدہ ضیاء کے ذاتی معالج زاہد حسین نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی ماہرین سے مزید مشاورت کے لیے بورڈ کی سفارش کے بعد کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضياء بنگلہ دیشی اور غیر ملکی ماہرین کی جانب سے فراہم کیے جانے والے علاج کا مثبت رد عمل ظاہر کرہی ہیں۔
مسٹر زاہد حسین نے کہا، “ہمیں یقین ہے کہ اس بار وہ صحت یاب ہو کر ہمارے پاس واپس آئیں گی۔ ان کا مناسب علاج ہو رہا ہے۔” انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آن لائن گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ رپورٹ سے گمراہ نہ ہوں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پارٹی نے سرکاری اپ ڈیٹس کے لیے واضح چینل قائم کیے ہیں اور صرف بی این پی کی میڈیا ونگ کی طرف سے پھیلائی جانے والی معلومات پر اعتماد کرنا چاہئے۔
مسٹر زاہد حسین نے تصدیق کی کہ برطانیہ، امریکہ اور بنگلہ دیش کے ڈاکٹر پہلے ہی ان کے میڈیکل بورڈ کا حصہ ہیں اور انہوں نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے خالدہ ضیاء کی جلد صحت یابی کی تمنا کرنے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے میں نئی دہلی کے تعاون کی پیشکش کے بعد ہندوستان کا شکریہ ادا کیا۔
بی این پی اور پارٹی صدر کے اہل خانہ نے ملک بھر کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کریں، کیونکہ ان کی حالت تشویشناک ہے۔
80 سالہ خالدہ ضیاء طویل عرصے سے متعدد دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں قلبی عوارض، ذیابیطس، گٹھیا، جگر کا سیروسس اور گردے کے مسائل شامل ہیں۔ وہ ایور کیئر اسپتال کے کورونری کیئر یونٹ (سی سی یو) میں 24 گھنٹے کی نگہداشت میں ہیں، جس کی نگرانی مقامی اور غیر ملکی ماہرین کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ م ش۔
دنیا
افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں: سربراہ آئی اے ای اے
ویانا، اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، تاہم صورتِ حال کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ کاروں کی دوبارہ رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مجموعی تاثر یہی ہے کہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
رافیل گروسی کے مطابق حتمی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ معائنہ کار دوبارہ تنصیبات کا دورہ کریں، معائنہ کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ تمام مواد اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ادارے نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تنصیبات تک رسائی ختم ہونے سے قبل افزودہ یورینیئم کی کسی بڑی نقل و حرکت کا مشاہدہ نہیں کیا۔
رافیل گروسی کے مطابق اگرچہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض مقامات تک رسائی بھی محدود ہو چکی ہے، تاہم ادارے کا ابتدائی اندازہ پہلے کے معائنے اور سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہید آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، عاصم منیر اور وفد کے ارکان نے فاتحہ خوانی بھی کی۔
وزیراعظم، فیلڈمارشل اور وفد کے ارکان نے ایرانی صدر اور دیگر عہدیداروں سے تعزیت کی۔
وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ و دیگر شریک تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لئے تہران پہنچ گئے
تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کے لئے تہران پہنچ گئے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے، جہاں وہ ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔
تہران پہنچنے پر ایران کے اعلیٰ فوجی اور سول حکام نے فیلڈ مارشل کا بھرپور اور پروقار استقبال کیا۔ استقبال کرنے والی اہم شخصیات میں ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی شامل تھے، جنہوں نے پاکستانی وفد کو خوش آمدید کہا۔
اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی معزز مہمانوں کے استقبال کے لیے وہاں موجود تھے۔ فیلڈ مارشل اپنے اس دورے کے دوران شہید سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے ساتھ ساتھ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جس میں وہ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان کی جانب سے اس عظیم قومی سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا3 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
جموں و کشمیر6 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
ہندوستان6 days agoسرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے
دنیا1 week agoوینزویلا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 167 ،ایک ہزار سے زائد زخمی

































































































