تازہ ترین
جموں میں 300وکلاء نے آرٹیکل 35Aکے دفاع کیلئے متفقہ طور پر کی قرار داد پاس

خبر اردو :
جموں میں 300سے زائد وکلا ء کی جماعت نے آرٹیکل 35Aکے دفاع کی خاطر سامنے آکر حکومت ہند کو ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ خوانی کرنے سے پرہیز کا مشورہ دیا۔ جموں کے ہائی کورٹ بھون میں 300سے زائد وکلا نے متفقہ طور پر ایک قرار داد پاس کی جس میں آرٹیکل 35Aکے تحفظ اور مضبوطی پر زور دیا گیا۔
وادی کے ساتھ ساتھ جموں خطہ میں بھی آرٹیکل 35Aکے تحفظ اور دفاع کے حق میں لوگ سامنے آنے لگے ۔ یہاں جمعہ کو جموں کورٹ کمپلکس میں 300سے زائد وکلا نے حکومت ہند کو مشورہ دیا کہ وہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کریں بصور ت دیگر یہاں کے خرمن امن کو آگ لگنے کا قوی اندیشہ ہے۔ وکلا نے متفقہ طور پر ایک قرار داد بھی منظور کی جس میں نئی دہلی پر زور دیا گیا کہ وہ ریاست کی خصوصی حیثیت اور شناخت کو تبدیل کرنے سے گریز کریں۔
جمعہ کو یہاں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سابق صدر بار ایسو سی ایشن جموں اور سینئر ایڈوکیٹ اے وی گپتا کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت آرٹیکل 35Aمعاملے کو لے کر کئی خدشات کا اظہار کیا گیا۔ اس موقعہ پر متعدد وکلاء نے اپنے تقریر کے دوران ریاست جموں وکشمیر کا نئی دہلی کے وفاق کے ساتھ مشروط الحاق پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں سینئر ایڈوکیٹ اے وی گپتا نے بتایا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کا الحاط شرائط کی بنیاد پر عمل میں لایا تھا جس کی تصدیق آئین ہند میں موجود دفعہ آرٹیکل 35Aہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر سپریم کورٹ یا بھارتی حکومت آئین ہند میں آرٹیکل 35Aیا دفعہ 370کو منسوخ کرتی ہے تو اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق ختم ہوتا ہے۔ اے وی گپتا نے مزید بتایا کہ آرٹیکل 35Aریاست کے مستقل باشندوں کے مفاد میں ہے جس کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس دفعہ کے وجود سے ریاست میں اول جماعت سے یونیورسٹی سطح تک تعلیم مفت فراہم کرنا شامل ہیں۔
سابق ایڈوکیٹ جنرل اور سینئر ایڈوکیٹ ایم اے گونی نے چند عناصر کی جانب سے آرٹیکل 35Aکی تنقید کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کی خاطر عوامی سطح پر بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور ریاستی ہائی کورٹ میں مختلف عرضیوں کا حوالہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے بار بار دائر کی جارہی عرضیوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سماج کے ہر طبقے کو یک جٹ ہوکر ریاست کے تاریخی حیثیت کے تحفظ کی خاطر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اجلاس کے دوران ریاست کے سابق سینئر اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل ایس سی گپتا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آرٹیکل 35Aکو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں انہیں چاہیے کہ سب سے پہلے وہ اپنی مستقل رہائشی سرٹیفیکٹ سے دستبردار ہوجائیں۔
انہوں نے جموی عوام پر زور دیا کہ وہ بھی کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حق میں اُٹھائی گئی تحریک کا حصہ بن جائیں۔ اجلاس کے دوران ایڈوکیٹ عبدالحمید قاضی، مرتضیٰ خان، ایم آر قریشی، احسان مرزا، شاہ محمد چودھری، سرفراز حمید راتھر، محمد اسلم بٹ، ایاز حمال، ایم آئی شیر خان، الطاف حسین جنجوعہ، شیخ الطاف حسین، ایف ایس بٹ، محمد عرفان خان، این ڈی قاضی، ذوالقرنین شیخ، اعجاز چودھری، ممتاز چودھری، جاوید اقبال شیخ، ایاز حسین، ایچ اے فاروقی، وسیم اکرم، محمد رشید، سکندر حیات خان، ظہیر کملک، زیڈ اے مغل، وسیم بخاری، محمد ایاز خان، سرفراز بخاری وغیرہ نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو متحد ہوکر فرقہ پرستوں کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر زور دیا۔ اسی دوران جموں وکشمیر گوجر بکروال کانفرنس کے جنرل سیکرٹری چودھری محمد یاسین پسوال نے بھی گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت دفع 35Aکو ملتوی کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی ایئربیس پر بیلسٹک میزائل حملہ، 5 فوجی زخمی
تہران، ایران کے کویت میں امریکی ایئربیس پر بیلسٹک میزائل حملے میں 5 امریکی فوجیوں کے زخمی ہوگئے جبکہ امریکہ کے 2 جدید ترین ایم کیو 9 ڈرون کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا گروپ ‘بلوم برگ’ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کویت میں قائم امریکی ایئربیس پر ایک اور بڑا بیلسٹک میزائل حملہ کیا، ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل نے امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بلوم برگ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ہولناک میزائل حملے میں صرف جانی نقصان ہی نہیں ہوا، بلکہ امریکہ کے 2 انتہائی مہنگے اور جدید ترین ‘ایم کیو-9 ریپر’ (MQ-9 Reaper) ڈرونز کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے، جسے امریکی فضائیہ کے لیے ایک بڑا دفاعی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ایران نے کویت میں موجود امریکی تنصیبات پر اپنے خطرناک ترین ‘فتح’ نامی ہائپر سونک/بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا۔
تاہم، اس حساس معاملے پر تاحال امریکی یا ایرانی حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی ابھی تک آزاد ذرائع سے اس حملے کی مکمل تصدیق ہو سکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی صدر ’سفارتکاری سے تیسری بار غداری‘ کر رہے ہيں: محسن رضائی
تہران، ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ’سفارتکاری سے تیسری بار غداری‘ کر رہے ہيں۔
اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ بدستور بحری ناکہ بندی اور مذاکرات میں ضرورت سے زیادہ مطالبات ایک بار پھر ثابت کرتے ہيں کہ امریکا مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں، وہ دیگر مقاصد کے حصول میں لگا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کےترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کر رہے، توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے، اب تک امریکہ سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا، آبنائے ہرمز کے انتظام کا فیصلہ ایران اور عمان کریں گے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ نے عمانی ہم منصب سے رابطہ کیا، مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر گفتگو کی گئی، ہمسایہ ممالک سے مشاورت کا خیر مقدم کیا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
تہران، ایران نے چین اور روس کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان کردیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روسی، چینی جہازوں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی تعاون جاری رکھے گا۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ موجودہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کی منتقلی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا ہے۔
علاوہ ازیں پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے 20 بحری جہازوں کے گزرنے میں تعاون کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، مذاکرات کے اس مرحلے پر جنگ ختم کرنے پر توجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ایٹمی معاملے کی تفصیلات کے بارے میں وہ بات نہیں کریں گے، امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ہم نے 47 سال پہلے حکم کی زبان کو الوداع کہہ دیا تھا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جیسا غیرقانونی کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان6 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے ساتھ چل رہی امن بات چیت کو اور وقت دینے کا فیصلہ کیا
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
جموں و کشمیر5 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
ہندوستان6 days agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا2 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
دنیا1 week agoچین میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، 90 افراد ہلاک
دنیا24 hours agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoجنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، مزید 10 افراد شہید
دنیا6 days agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر































































































